Topics
آپ ایک قمیض لیجئے۔ اگر
آپ چاہیں کہ قمیض جسم سے الگ بھی حرکت کرے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ جب تک قمیض جسم کے
اوپر ہے جسم کی حرکت کے ساتھ اس کے اندر بھی حرکت موجود ہے۔ اگر آسین ہاتھ کے اوپر
ہے تو اس کے اندر ہاتھ کی حرکت کے ساتھ حرکت پیدا ہونا لازمی ہے۔ ہاتھ سے الگ
آستین میں حرکت پیدا ہونا بعدی از قیاس ہے۔ یہی حال جسم کا بھی ہے۔ اگر جسم کسی
دوسرے جسم (روح) کے اوپر موجود ہے تو اس کے اندر حرکت ہے ورنہ کوئی حرکت نہیں ہے۔
انسان جب مر جاتا ہے تو اس کے اندر اپنی کوئی مدافعت باقی نہیں رہتی۔ آپ مرے ہوئے
جسم کے ساتھ کچھ بھی کیجئے، جلا دیجئے، قبر میں دفن کر دیجئے، ایک ایک عضو الگ کر
دیجئے، جسم کی طرف سے کوئی حرکت، کوئی مدافعت عمل میں نہیں آئے گی۔
بتانا یہ ہے کہ گوشت پوست
اور رگ پٹھوں سے بنا ہوا جسم انسان نہیں ہے بلکہ انسان کا لباس ہے۔ جب تک انسان
یعنی روح موجود ہے لباس بھی موجود ہے۔ جیسے ہی انسان اس لباس سے قطع تعلق کرتا ہے
(جس کو ہم مرنا کہتے ہیں) اس کے اندر کوئی حرکت باقی نہیں رہتی۔
قرآن پاک کے ارشاد کے
مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر شئے کو معین مقداروں پر تخلیق کیا ہے۔ بالفاظ دیگر زندگی
معین مقداروں پر سرگرم عمل ہے۔ یہ مقداریں ہی وہم، خیال، تصورات اور احساس بنتی
ہیں۔ ان مقداروں میں کمی بیشی یا شکست و ریخت واقع ہو جائے تو زندگی غیر متوازن ہو
جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان نت نئی پریشانیوں، الجھنوں اور بیماریوں
میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
سوال: یادداشت کیوں کمزور
ہو جاتی ہے؟ اس کمزوری کو دور کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
جواب: اللہ تعالیٰ کے
بیان کردہ قانون کے مطابق ہر چیز کے دو رخ ہوتے ہیں۔ اس قانون کے مطابق دماغ کے
بھی دو رخ ہیں۔
ایک رخ وہ حصہ ہے جو سر
کے سیدھی طرف ہے، دوسرا رخ وہ جو سر کے بائیں طرف ہے۔ دونوں حصے یا دونوں دماغ ہر
وقت کام کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایک حصہ کی کارگزاری بیداری کے حواس بناتی ہے اور
دوسرے حصہ کی کارگزاری سے رات کے حواس بنتے ہیں۔
سیدھی طرف کا دماغ شعور
ہے اور الٹی طرف کا دماغ لاشعور ہے جب تک کوئی بات یا کوئی عمل صرف شعور کے دائرہ
کار میں رہتا ہے وہ چیز زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتی۔ یہ چیز دلچسپی اور بھول کے خانے
میں جا پڑتی ہے۔ اگر کوئی کام، کوئی عمل شعور کی سطح سے گزر کر لاشعور میں داخل ہو
جاتا ہے تو یہ کام فہم و فراست کے ساتھ حافظہ کے اوپر نقش ہو جاتا ہے۔
ہم جب کوئی سبق، کوئی
کتاب، کورس کا کوئی مضمون سطحی طور پر پڑھتے ہیں، اس میں سبق کو رٹنا بھی شامل ہے،
تو شعور کی سطح سے وہ آگے نہیں بڑھتا۔ لیکن اگر ہم یہی سبق غور و فکر اور سمجھ
بوجھ کے ساتھ پڑھتے ہیں تو وہ لاشعور کی حدود میں چلا جاتا ہے تو اس کا مفہوم یاد
رہتا ہے۔ آج کل اکثر طلبہ و طالبات کی یہ عادت بن گئی ہے کہ وہ سمجھ کر پڑھنے کے
بجائے اپنی صلاحیتیں حفظ کرنے میں خرچ کر دیتے ہیں۔ جب تک اس سبق کو وہ دہراتے
رہتے ہیں، یاد رہتا ہے اور جب دہرانا ترک کر دیتے ہیں، حافظہ سے نہیں نکل جاتا کہ
امتحاں کے وقت کورس کے مضامین پوری طرح حافظہ میں نہیں رہتے اور یہی وجہ امتحان میں متوقع نتائج سامنے نہیں آتے اور جب
دماغ پر زور ڈالا جاتا ہے تو تھکن کے احساس میں شدت آ جاتی ہے۔
اس کا علاج بہت سہل اور
آسان ہے۔ وقت مقرر کر کے پڑھنے کے اوقات میں پڑھا جائے اور کھیل کود کے اوقات میں
دوسرا کوئی کام نہ کیا جائے۔
روحانی طرزوں میں شعور
اور لاشعور کو متوازن کرنے کے لئے بہترین عمل ہر وقت باوضو رہنا ہے لیکن اس عمل
میں انتہا پسندی کا عمل دخل نہیں ہونا چاہئے۔
بول و براز اور دوسری
ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنے اوپر جبر نہ کریں کیونکہ جبر کرنے سے دماغ کے
اوپر بوجھ پڑتا ہے۔ طبعی تقاضے پورے کرنے کے بعد دوبارہ وضو کر لیا جائے۔
سوال: دل کی تصویر لانے
کی کوشش کریں۔ یا روشنی اور نور کی شبیہ دیکھنے کی کوشش کریں؟ یا پھر خود کو ترغیب
دیں کہ یہ چیزیں ہماری بند آنکھوں کے سامنے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو تصور سے کیا
مراد ہے؟
جواب: تصور کی صحیح تعریف
جاننے کے لئے دو بنیادی باتوں کا سمجھنا ضروری ہے۔ پہلی بات یہ کہ کسی چیز کی
معنویت ہمارے اوپر اسی وقت آشکار ہوتی ہے جب ہم اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ کوئی
چیز ہمارے سامنے ہے لیکن ذہنی طور پر ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو وہ چیز ہمارے
لئے بسااوقات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ مثلاً ہم گھر سے دفتر جاتے ہیں۔ دفتر پہنچنے
کے بعد اگر ہم سے کوئی صاحب پوچھیں کہ آپ نے راستے میں کیا کیا چیزیں دیکھیں ہیں
تو ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے اس طرف دھیان نہیں دیا۔
حالانکہ یہ ساری چیزیں
ہماری نظروں کے سامنے سے گزری ہیں۔
دوسری اہم بات دلچسپی اور
ذوق و شوق ہے۔ ہم کوئی دلچسپ کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس کوئی غیر دلچسپ مضمون پڑھ کر ہم چند منٹ میں ہی ذہنی بوجھ اور کوفت
محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ذہنی مرکزیت کے ساتھ ساتھ اگر دلچسپی
اور ذوق و شوق بھی ہے تو کام آسان ہو جاتا ہے۔
مراقبہ یا تصور کی مشقوں
سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صاحب مشق جب آنکھیں بند کر کے تصور
کرے تو خود سے اور ماحول سے بے نیاز ہو جائے، اتنا بے نیاز کہ اس کے اوپر سے
بتدریج ٹائم اور اسپیس کی گرفت ٹوٹنے لگے یعنی تصور میں اتنا انہماک ہو جائے کہ
وقت گزرنے کا مطلق احساس نہ رہے۔
سوال: روحانیت میں اکثر
قطب، غوث، ابدال وغیرہ کی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ ان کا کیا مطلب ہے اور
کسی بزرگ کا قطب، غوث، ابدال یا کسی اور رتبہ پر فائز ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے
قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ میں نے آدم کو زمین میں اپنا نائب اور خلیفہ مقرر
کیا ہے۔ آدم کو نیابت اور خلافت اس وقت منتقل ہوئی اور وہ مسجود ملائک ٹھہرے جب
اللہ تعالیٰ نے آدم کے اندر اپنی روح پھونکی اور ’’علم الاسماء‘‘ سکھایا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس
کائنات کے انتظامی امور کو سمجھنا اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم الاسماء کی
روشنی میں ان انتظامی امور کو چلانا نیابت کے دائرے میں آتا ہے۔ انسان کو بحیثیت
خلیفتہ اللہ علم الاسماء کی حکمت تکوین کے اسرار و رموز اس لئے سکھائے گئے کہ وہ
نظامت کائنات کے امور میں نائب کے فرائض پورے کر سکے۔
اوتار، طلب، غوث، ابدال
وغیرہ یہ کائناتی نظام تکوین کا کام کرنے والے حضرات کے عہدوں کے نام ہیں۔ یہ
حضرات اپنے عہدے اور علم کے مطابق تکوینی امور (Administration) سر انجام دیتے ہیں۔ علم الاسماء سے واقفیت اور تکوینی عہدے پر
فائز ہونا اللہ تعالیٰ کا کسی بندے پر فضل و کرم اور انعام ہے۔ سورۂ کہف میں حضرت
موسیٰ علیہ السلام اور ایک بندے کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ
نے ہمیں ایک ایسے بندے سے متعارف کرایا ہے جو نظام تکوین کا رکن تھا۔ عرف عام میں
اس بندے کو حضر خضر علیہ السلام کہا جاتا ہے۔
سوال: مراقبہ کی مشق تلقین کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں تصور کیا جائے مثلاً دل
کے اندر جھانکنے کو کہا جاتا ہے یا یہ بتایا جاتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے روشنی
اور نور کا تصور کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس تصور سے یہ مراد ہے کہ ہم اپنی بند آنکھوں کے سامنے ذوق و
شوق پر قائم ہے۔ دلچسپ مضمون پڑھنے کی مثال دی جا چکی ہے۔
جواب:تصور کے ضمن میں یہ
بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ اگر آنکھیں بند کرکے تصور کیا جا رہا ہو تو نور کو
دیکھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ صرف نور کا خیال کریں۔ نور جو کچھ بھی ہے اور جس طرح
بھی ہے از خود سامنے آئے گا۔ اصل مدعا کسی ایک طرف دھیان کر کے ذہنی یک سوئی حاصل
کرنا اور منتشر خیالی سے نجات پانا ہے۔ اس کے بعد باطنی علم کڑی در کڑی از خود ذہن
پر منکشف ہونے لگتا ہے۔ تصور کا مطلب اس بات سے کافی حد تک پورا ہوتا ہے۔ جس کو
عرف عام میں ’’بے خیال ہونا‘‘ کہا جاتا ہے۔
اگر ہم کھلی یا بند
آنکھوں سے کسی چیز کا تصور کرتے ہیں اور تصور میں خیالی تصویر بنا کر اسے دیکھنے
کی کوشش کرتے ہیں تو یہ عمل ذہنی یک سوئی کے دائرے میں نہیں آتا۔ ذہنی یکسوئی سے
یہ مراد ہے کہ آدمی شعوری طور پر دیکھنے اور سننے کے عمل سے بے خبر ہو جائے۔
قانون یہ ہے کہ آدمی کسی
لمحے بھی حواس سے آزاد نہیں ہوتا۔ جب ہمارے اوپر شعوری حواس کا غلبہ نہیں رہتا تو
لازمی طور پر لاشعوری حواس متحرک ہو جاتے ہیں۔
سوال: مشہور بزرگ حضرت
بابا تاج الدین ناگپوریؒ کی کرامت یوں درج ہے کہ ایک شخص نے حاضر خدمت ہو کر عرض
کیا کہ مجھے اجمیر شریف جانے کی اجازت دی جائے۔ بابا صاحب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ
رکھ کر کہا کہ کہاں جاتے ہو ۔اجمیر یہیں ہے۔ اسی لمحے اس شخص نے دیکھا کہ وہ اجمیر
میں موجود ہے اور وہاں کی سیر کر رہا ہے۔ ازراہ کرم اس بات پر روشنی ڈالیں کہ ایسا
کیوں کر ہوا۔
جواب: اس کرامت کے اصول
کو سمجھنے کے لئے انسانی ذات اور زمان و مکان پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔
انسان کی اپنی ذات کا ایک
حصہ داخلی ہے اور دوسرا خارجی۔ داخلی حصہ وحدت ہے جہاں زمانیت ہے نہ مکانیت۔ احساس
کے صرف تین حصے شاہد، مشہود اور مشاہدہ پائے جاتے ہیں۔ ذات کے خارجی حصے میں یہی
احساس، زمانیت اور مکانیت دونوں کو احاطہ کر کے ٹھوس شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ کسی
شخص کا باطن جو اس کی اپنی ذات ہے امر ربی یا روح کہلاتا ہے اور روح میں کائنات کے
تمام اجزاء اور اس کی حرکتیں منقوش اور موجود ہیں۔ اس بات کو ایک مثال سے سمجھئے۔
ہم کسی عمارت کی ایک سمت میں کھڑے ہو کر اس عمارت کے ایک زاویہ کو دیکھتے ہیں۔ جب
عمارت کے دوسرے زاویے کو دیکھنا ہوتا ہے تو چند قدم چل کر اور کچھ فاصلہ طے کر کے
ایسی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں سے عمارت کے دوسرے رخ پر نظر پڑتی ہے۔ نگاہ کا
زاویہ تبدیل کرنے میں چند قدم کا فاصلہ طے کرنا پڑا اور فاصلہ طے کرنے میں تھوڑا
سا وقفہ بھی صرف ہوا۔ اس طرح نظر کا ایک زاویہ بنانے کے لئے مکانیت اور زمانیت
دونوں وقوع میں آئیں۔ ذرا وضاحت سے اس بات کو ہم یوں بیان کرسکتے ہیں کہ جب ایک
شخص لندن ٹاور کو دیکھنا چاہے تو کراچی سے سفر کر کے اسے لندن جانا پڑے گا۔ ایسا
کرنے میں اسے ہزاروں میل کی مکانیت اور کئی دنوں کا زمانہ لگانا پڑے گا۔ اب نگاہ
کا وہ زاویہ بنا جس سے لندن ٹاور دیکھا جا سکتا ہے۔ مقصد صرف نگاہ کا وہ زاویہ
بنانا تھا جس سے لندن ٹاور کو دیکھا جا سکے۔ یہ انسانی ذات کے خارجی حصے کا زاویہ
نگاہ ہے۔ اگر ذات کے داخلی زاویۂ نگاہ سے کام لینا ہو تو ہم اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے
لندن ٹاور کا تصور کر سکتے ہیں۔
تصور کرنے میں جو نگاہ
استعمال ہوتی ہے وہ اپنی توانائی کی وجہ سے ایک دھندلا سا خاکہ دکھاتی ہے۔ لیکن وہ
زاویہ یہ ضرور بنا دیتی ہے جو ایک طویل سفر کر کے لندن ٹاور پہنچنے کے بعد ٹاور کو
دیکھنے میں بنتا ہے۔ اگر کسی طرح نگاہ کی ناتوانی دور ہو جائے تو زاویۂ نگاہ کا
دھندلا خاکہ روشن اور واضح نظارے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔ اور دیکھنے کا مقصد
بالکل اسی طرح پورا ہو جائے گا جس طرح سفر کے بعد پورا ہوتا ہے۔ اصل چیز زاویہ
نگاہ کا حصول ہے، جس طرح بھی ممکن ہو۔
بابا تاج الدین ناگپوریؒ
نے اپنی قوت تصرف سے سائل کے اندر ایک مخصوص زاویۂ نگاہ پیدا کر کے ذہنی نظارے کو
جلا بخشی۔ اس طرح سائل نے اجمیر کو بالکل اسی طرح دیکھا جس طرح ایک طویل سفر کے
بعد وہ اجمیر پہنچ کر وہاں کے مناظر دیکھتا۔
سوال: روحانی نقطۂ نظر سے
مختلف امراض کیوں پیدا ہوتے ہیں؟
جواب: عام طور سے گوشت
پوست سے مرکب جسم اور ہڈیوں کے پنجرے پر رگ اور پٹھوں کی بناوٹ کو انسان کا نام
دیا جاتا ہے۔
لیکن ہمارا روزمرہ کا
مشاہدہ یہ ہے کہ درحقیقت گوشت پوست کا جسم انسان کہلانے کا مستحق نہیں ہے کیونکہ
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان پر جب وہ کیفیت وارد ہوتی ہے جس کا نام موت ہے تو جسم کے
اندر فوری طور پر کوئی تبدیلی رونما نہ ہونے کے باوجود جسم ہر قسم کی حرکات و
سکنات سے محروم ہو جاتا ہے۔ بات واضح ہے کہ جس چیز پر جسم کی حرکات و سکنات کا
دارومدار تھا اس نے جسم سے رشتہ منقطع کر لیا۔ اب ہم یوں کہیں گے کہ انسان دراصل
وہ ہے جو اس گوشت پوست کے جسم کو حرکت دیتا ہے۔ عرف عام میں اسے ’’روح‘‘ کہا جاتا
ہے۔ روح کیا ہے؟ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ ’’روح‘‘ امر رب ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ انسان ناقابل تذکرہ شئے تھا۔ ہم نے اس کے اندر
اپنی روح پھونک دی۔ یہ دیکھتا، سنتا، سونگھتا اور محسوس کرتا انسان بن گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی
تخلیق کے فارمولے بنائے ہیں اور ہر فارمولا معین مقداروں کے تحت کام کر رہا ہے۔
تیسویں پارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’ہم نے ہر چیز کو معین مقداروں سے تخلیق
کیا ہے۔‘‘
ہم یہ بتا چکے ہیں کہ اصل
انسان روح ہے۔ ظاہر ہے کہ روح اضطراب، کشاکش، احساس محرومی اور بیماریوں سے ماوراء
ہے۔ روح اپنے اور جسم کے درمیان ایک میڈیم بناتی ہے۔ اس میڈیم کو ہم جسم انسانی
اور روح کے درمیان نظر نہ آنے والا انسان کہہ سکتے ہیں۔ یہ غیر مرئی انسان بھی
بااختیار ہے۔ اس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ روح کی فراہم کردہ اطلاعات کو اپنی مرضی
سے معانی پہنا دے۔ جس طرح معین فارمولے کام کرتے ہیں اسی طرح روح اور جسم کے
درمیان نظر نہ آنے والا جسم بھی فارمولوں کے تحت متحرک اور باعمل ہے۔ اس میں اربوں،
کھربوں فارمولے کام کرتے ہیں۔ جن کو ہم چار عنوانات میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
۱۔
واٹر انرجی (WATER ENERGY)
۲۔
الیکٹرک انرجی (ELECTRIC ENERGY)
۳۔
ہیٹ انرجی (HEAT ENERGY)
۴۔
ونڈ انرجی (WIND ENERGY)
انسان کے اندر دو دماغ
کام کرتے ہیں:
دماغ نمبر ۱ براہ راست اطلاعات قبول
کرتا ہے اور
دماغ نمبر ۲ ان اطلاعات میں اپنے
مفاد کے مطابق یا غیر واضح اور تخریبی معانی پہنانے کا عادی ہو جاتا ہے تو معین
مقداروں میں سقم واقع ہونے لگتا ہے اور مذکورہ بالا توانائیاں اپنے صحیح خدوخال
کھو بیٹھتی ہے۔ ان توانائیوں میں تراش خراش یا اضافہ ہونے سے دونوں ہی صورتوں میں
جسم کے اندر مختلف امراض جنم لیتے ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔