Topics
ہم کسی ایسی کتاب کا مطالعہ
کرتے ہیں جو اتنی دل چسپ ہے کہ ہم ماحول سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ کتاب ختم کرنے کے
بعد ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کئی گھنٹے گزر گئے ہیں اور ہمیں وقت گزرنے کا احساس نہیں
ہوا تو بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اتنا طویل وقت کیسے گزر گیا اسی طرح جب ہم نیند کی
آغوش میں چلے جاتے ہیں تو وقت کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ قرآن پاک کے مطابق نیند
رات ہے اور بیداری دن ہے۔
’’ہم داخل کرتے ہیں رات
کو دن میں اور داخل کرتے ہیں دن کو رات میں۔‘‘
(القرآن)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
’’ہم نکالتے ہیں رات کو
دن میں سے اور دن کو رات میں سے۔‘‘
(القرآن)
تیسری جگہ ارشاد ہے:
’’ہم ادھیڑ لیتے ہیں رات
پر سے دن کو اور دن پر سے رات کو۔‘‘
(القرآن)
اللہ تعالیٰ کے ان
ارشادات میں تفکر کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ رات اور دن میں دو حواس ہیں۔
یعنی ہماری زندگی دو حواسوں میں منقسم ہے یا ہماری زندگی دو حواسوں میں سفر کرتی ہے۔
ایک حواس کا نام دن ہے، دوسرے حواس کا نام رات ہے۔
دن کے حواس میں ہمارے
اوپر زمان ومکان کی جکڑ بندیاں مسلط ہیں۔ اور رات کے حواس میں ہم زمان و مکان کی
قید سے آزاد ہیں۔
قانون یہ بنا کہ اگر کوئی
انسان اپنے اوپر رات اور دن کے وقفے میں رات کے حواس غالب کرے تو وہ زمان و مکان
کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے اور زمان و مکان سے آزادی دراصل غیبی انکشافات کا ذریعہ
ہے۔
قرآن پاک نے اس پروگرام
اور اس عمل کا نام ’’قیام صلوٰۃ‘‘ رکھا ہے جس کے ذریعے دن کے حواس سے آزادی حاصل
کر کے رات کے حواس میں سفر کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھنا چاہئے کہ
نماز قائم کرنے کا لازمی نتیجہ دن کے حواس کی نفی اور رات کے حواس میں مرکزیت حاصل
ہونا ہے۔ نماز کے ساتھ لفظ ’’قائم کرنا‘‘ اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ اگر کوئی نماز
اپنی اس بنیادی شرط کو پورا نہیں کرتی تو وہ کسی شخص کو رات کے حواس سے متعارف کرا
دے تو وہ حقیقی نماز نہیں ہے۔
آدمی جب مراقبہ کرتا ہے
تو اس کے اوپر سے دن کے حواس کی گرفت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ بیدار رہتے ہوئے بھی
ٹائم اسپیس سے آزاد حواس (رات کے حواس) میں چلا جاتا ہے۔ جو دراصل غیبی انکشافات
کا ذریعہ ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مشہور واقعہ سامنے لانا بھی
نماز کی تشریح اور وضاحت میں معاون ثابت ہو گا۔ کسی جنگ میں دشمن کا ایک تیر حضرت
علی کرم اللہ وجہہ کی پنڈلی میں پیوست ہو گیا۔ جب اس تیر کو نکالنے کی کوشش کی گئی
تو حضرت علیؓ نے تکلیف محسوس کی اور فرمایا:
’’میں نماز قائم کرتا
ہوں۔‘‘
حضرت علیؓ نے نیت باندھی
اور لوگوں نے تیر کھینچ کر مرہم پٹی کر دی۔ حضرت علیؓ کو اس بات کا احساس تک نہ
ہوا کہ تیر نکال کر مرہم پٹی کر دی گئی ہے۔
اس واقعہ سے یہ بات پوری
طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قیام نماز میں ان حواس کی نفی ہو جاتی ہے جن میں تکلیف،
جراحت اور پابندی موجود ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب نماز کی نیت باندھی تو
وہ دن کے حواس سے نکل کر رات کے ان حواس میں پہنچ گئے جو انسان کو غیب کی دنیا میں
لے جاتے ہیں۔
روحانیت کی بنیاد اس
حقیقت پر قائم ہے کہ انسان کے اندر دو حواس، دو دماغ اور دو زندگیاں سرگرم عمل
ہیں۔ جیسے ایک ورق کے دو صفحات ہوتے ہیں دو صفحے الگ الگ ہونے کے باوجود ورق کی
اپنی حیثیت ایک ہی رہتی ہے۔ دو حواس یا دو زندگیوں میں سے ایک کا نام پابندی ہے
اور دوسری کا نام آزادی ہے۔ پابند زندگی دن، بیداری اور شعور ہے اور آزاد زندگی راحت،
سکون، اطمینان قلب اور لاشعور ہے۔
راحت و سکون اور غیب کی
دنیا میں داخل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے اندر اس دنیا کی موجودگی کا یقین ہو۔
یقین ہونا اس لئے ضروری ہے کہ بغیر یقین کے ہم کسی چیز سے استفادہ نہیں کر سکتے۔
پانی پینے سے پیاس اس لئے بجھ جاتی ہے کہ ہمارے یقین کے اندر یہ بات راسخ ہے کہ
پانی پیاس بجھا دیتا ہے ہم زندہ اس لئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین حاصل ہے کہ ہم
زندہ ہیں۔ جس وقت، جس لمحے اور جس آن زندگی سے متعلق یقین ٹوٹ جاتا ہے، آدمی مر
جاتا ہے۔ کسی آدمی کے ذہن میں یہ بات آ جائے اور یقین کا درجہ حاصل کر لے کہ اگر
میں گھر سے باہر نکلوں گا تو میرا ایکسیڈنٹ ہو جائے گا تو وہ گھر سے باہر نہیں
نکلے گا۔ اسی طرح اگر کسی آدمی کے اندر یہ بات یقین کا درجہ حاصل کرلے کہ کھانا
کھانے کے بعد وہ بیمار ہو جائے گا تو وہ کھانا نہیں کھائے گا۔
زندگی کا محاسبہ کیا جائے
تو زندگی کے کسی بھی عمل میں ہم اللہ تعالیٰ کی موجودگی اور ربوبیت کا انکار نہیں
کر سکتے۔ اس یقین کا مشاہدہ بنانے کے لئے قرآن نے قیام صلوٰۃ کا حکم دیا ہے۔ مقام
تفکر ہے کہ غار حرا میں یکسوئی کے ساتھ عبادت و ریاضت(مراقبہ) میں مشغول رہنے کے
بعد جب رسول اللہﷺ پر غیب منکشف ہوا، اس وقت نماز فرض ہوئی ہے۔ اس سے پہلے امت
محمدیہﷺ پر نماز فرض نہیں تھی۔ حضورﷺ کے وارث اولیاء اللہ غار حرا کی زندگی سامنے
رکھ کر مراقبہ کی تلقین کرتے ہیں۔ مراقبہ اس عمل اور کوشش کا نام ہے جس سے انسان
کے اندر یقین کی وہ دنیا روشن ہوتی ہے جس پر غیب کی دنیا سے متعارف ہونے کا
دارومدار ہے۔ مراقبہ وہ پہلی سنت ہے جس کے نتیجے میں قرآن نازل ہوا۔ اور اللہ
تعالیٰ نے حضور خاتم النبیینﷺ پر اپنی نعمتیں پوری فرمائیں۔ اللہ کو یکتا اور اللہ
کے حبیب محمدﷺ کو اللہ کا سچا رسول ماننے والا جب کوئی بندہ مراقبہ کی کیفیات میں
صلوٰۃ قائم کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب منکشف ہو جاتا ہے۔
سوال: مراقبہ کیا ہے؟
جواب: ہم یہ بات بتا چکے
ہیں کہ انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں۔ ایک دماغ جنت کا دماغ ہے یعنی اس کے
ذریعے کوئی بندہ جنت سے آشنا ہوتا ہے۔ اور جنت کی زندگی گزارتا ہے۔ دوسرا دماغ وہ دماغ
ہے جو آدم کی نافرمانی کے بعد وجود میں آیا۔ اور آدم نے نافرمانی کے بعد محسوس کیا
کہ میں ننگا ہوں۔ ان محسوسات یا نافرمانی کے نتیجے میں جنت نے آدم کو رد کر دیا
اور آدم زمین پر پھینک دیا گیا۔ تصوف میں جتنے اسباق اور اوراد و وظائف اور اعمال
و اشغال اور مشقیں رائج ہیں ان سب کا منشاء یہ ہے کہ آدم زاد اپنا کھویا ہوا وطن
واپس حاصل کرے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان تمام اوراد و وظائف اور
اعمال و اشغال اور مشقوں کو نماز میں سمو دیا ہے۔ ہم جب نماز کی حقیقت اور نماز کے
ارکان پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نماز میں زندگی
کے ہر عمل کو سمو دیا گیا ہے۔ چونکہ قیام صلوٰۃ کا ترجمہ ربط قائم کرنا ہے اس لئے
ضروری ہوا کہ کوئی ایسا عمل تجویز کیا جائے جس عمل میں زندگی کی تمام حرکات و
سکنات موجود ہوں اور ہر عمل اور ہر حرکت کے ساتھ آدمی کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم
ہو۔
مراقبہ کے معنی ہیں کہ
تمام طرف سے ذہن ہٹا کر ایک نقطہ پر اپنی پوری توجہ مرکوز کرنا اور یہ مرکزیت اللہ
تعالیٰ کی ذات اقدس ہے۔ جب تک کوئی بندہ ذہنی مرکزیت کے قانون سے واقف نہیں ہوتا
وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط قائم نہیں کر سکتا۔ ربط اور تعلق قائم کرنے کے لئے
مراقبہ ضروری ہے۔ مراقبہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وہ پہلی سنت ہے جس کے نتیجے
میں حضرت جبرئیلؑ سے رسول اللہﷺ کی گفتگو ہوئی اور ہادی برحق سرور کائنات سرکار دو
عالم سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر قرآن نازل ہوا۔
سوال: مراقبہ کیسے کیا
جائے؟
جواب: حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام کا ہر امتی یہ بات جانتا ہے کہ ہمارے پیارے نبیﷺ نے غار حرا میں طویل عرصے
تک عبادت و ریاضت کی ہے۔ دنیاوی معاملات، بیوی بچوں کے مسائل، دوست احباب کے
تعلقات سے عارضی طور پر رشتہ منقطع کر کے یکسوئی کے ساتھ کسی گوشے میں بیٹھ کر
اللہ کی طرف متوجہ ہونا مراقبہ ہے۔
صاحب مراقبہ کے لئے ضروری
ہے کہ جس جگہ مراقبہ کیا جائے وہاں شور و شغب نہ ہو، اس جگہ اندھیرا ہو۔ جتنی دیر
اس جگہ گوشے میں بیٹھا جائے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ذہن کو اللہ تعالیٰ کی
طرف متوجہ رکھے۔ بند آنکھوں سے یہ تصور کرے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔