Topics

دادی اماں کے الفاظ


’’بیٹا تو میرا سورج ہے۔‘‘

بھول کے خانے میں جا پڑے۔ لیکن دادی اماں کے یہ الفاظ عظیم بندہ بنے گا۔

میرے خون کے ساتھ میرے اندر مسلسل گونجتے رہے۔ میں نے

سجدے میں گر کر اللہ کے حضور دعا کی، التجا کی:

اے اللہ! عظیم بندہ ملا دے۔

اے اللہ! عظیم بندہ ملا دے۔

اے اللہ! عظیم بندہ ملا دے۔

اور اللہ کا وہ فرستادہ عظیم بندہ مجھے مل گیا۔

جس کا نام اسم گرامی حضرت محمد عظیم برخیا المعروف حضور قلندر بابا اولیاءؒ ہے۔

میرے اندر کی آتما کو قرار آ گیا۔ تاریک زندگی روشن ہو گئی۔ مجھے اجالا مل گیا۔ ایسا لگا کہ یوم ازل میں اس عظیم بندہ پر میری روح قربان ہو گئی تھی۔ دھیرے دھیرے میرے اندر کا سورج جو شک اور بے یقینی سے گہنا گیا تھا، افق سے باہر آیا اور اس سورج نے نیئر تاباں بننے کے لئے سفر شروع کر دیا۔

حضرت محمد عظیم سے راہ و رسم بڑھی، جذبات و احساسات محبت بن گئے۔ پھر محبت نے عشق کا روپ دھار لیا اور عشق مجازی سراپا عقیدت کی تصویر بن گیا۔

۱۹۵۰ء جنوری کی ایک صبح ایک دوست کی تلاش میں اخبار ڈان کے دفتر میں گیا تو وہاں ایک صاحب سے دعا سلام ہوئی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اتنا پرسکون چہرہ دیکھ کر دل اتھل پتھل ہو گیا۔ شگفتہ شاداب اور پرسکون چہرہ، آنکھوں میں کیف و مستی کا خمار، مردانہ وجاہت کی تصویر۔۔۔۔۔۔یقین نہیں آیا کہ اس زمانہ میں کسی بندے کو اتنا سکون میسر آ سکتا ہے۔ سریلی شیریں مگر مردانہ بھاری آواز میں بندہ نے کہا:

’’تشریف رکھیں کیا کام ہے؟‘‘

اور پھر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ اس وقت بھرپور جوانی کے منہ زور گھوڑے کی رکابیں میں نے مضبوط ہاتھوں سے تھام رکھیں تھیں۔۔۔۔۔۔عظہم بندہ نے میری عمر اور میرے جذبات کی مناسبت سے دو شعر سنائے۔ آنکھوں میں چمک اور خمار کے سرخ ڈورے میری آنکھوں میں دیکھ کر عظیم بندہ نے دل پر نشتر رکھ دیا۔

محبت کرتے ہو۔۔۔۔۔۔میں گم سم ہو گیا۔ ایک حجاب تھا جو میرے اوپر چھا گیا۔۔۔۔۔۔پلکیں حیا کے بوجھ سے جھک گئیں۔۔۔۔۔۔میرے اندر کا چور پکڑا گیا۔

محبت کرتے ہو، بے وفائی کے ساتھ

بے وفا بننا، محبت کے ساتھ اس دنیا کی ریت ہے

میں بوجھل قدموں سے اٹھا سلام کیا۔ کہا، پان تو کھاتے جایئے۔ میں جس دوست کی تلاش میں گیا تھا وہ نہیں ملا۔ مگر مجھے مستقبل کا دوست مل گیا۔ ایسا دوست جو پہلی ہی ملاقات میں میرے دل میں اتر گیا۔

نیا نیا پاکستان بنا تھا۔ ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے اپنے مسائل میں گھرے ہوئے تھے۔ شہزادیاں ٹاٹ کے پردوں میں بندرروڈ کے فٹ پاتھوں پر حیات و زیست کے معاملات میں الجھی ہوئی تھیں۔ کبر و نخوت کی بڑی بڑی تصویریں آرام باغ کی پتھریلی زمین پر شب بسری پر مجبور تھیں۔۔۔۔۔۔جن خواتین کا کسی نے آنچل نہیں دیکھا تھا وہ حوائج ضروریہ کے لئے قطار در قطار کھڑی نظر آتی تھیں۔ جن مرد و خواتین نے کبھی ناک پر مکھی کو نہ بیٹھنے دیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ بھیک کے بڑے بڑے پیالے لے کر ناشتہ اور دوپہر کی روٹی کے لئے انتظار کرتے تھے۔ زیادہ لوگ ایسے تھے جو خورد و نوش اور رہائش کے لئے فکر مند تھے۔ ہر طرف ہر آدمی پریشانی کا پیکر تھا۔

میں بھی انہی میں سے ایک فرد تھا۔

میں نے پاکستان کی تخلیق میں کیا کچھ نہیں دیکھا ہے؟

بڑے شہر میں ایک گھر سے جب کیمپ میں جانے کے لئے باہر نکلے تو سڑکوں پر مسلمانوں کی لاشیں دیکھیں، سڑک پار کرنے کے لئے مجھے سوچنا پڑا کہ میں اپنے بھائیوں اور اپنے بچوں کی زخمی سربریدہ لاشوں پر سے کیسے گزروں مگر جب کوئی چارہ کار نہیں رہا۔۔۔۔۔۔توپنجوں کے بل گزر گیا۔

دیکھا کہ چوباروں سے خون ٹپک ٹپک کر جم گیا ہے۔ نالیوں میں پانی کے ساتھ خون بہہ رہا ہے۔ قرآن پاک کے مقدس اوراق سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ میں اللہ کی کتاب کے نورانی اوراق اٹھاتے اٹھاتے اور لمبے کُرتے کے دامن میں جمع کرتے کرتے شیراں والا دروازہ میں سے باہر نکل آیا۔ وہاں غیر مسلم فوجی کھڑے تھے۔ مجھے ایک فوجی نے وارننگ دی اور بندوق میری طرف تان لی۔ میں نے اس سے اس ہی کی زبان میں کہا۔

اگر گرنتھ صاحب کے اوراق اس طرح زمین پر ہوتے تو کیا تم انہیں نہ اٹھاتے؟

فوجی بندوق پر ہاتھ مار کر اٹینشن ہو گیا اور دونوں ایڑیوں پر گھوم گیا۔

میری آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلا اور میں سوچنے لگا مسلمان اتنا بے حس ہو گیا ہے کہ اسے یہ بھی نظر نہیں آتا کہ قرآن کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔

جو قافلے ریلوں میں سفر کر کے آئے ہیں انہیں آج بھی یاد ہے کہ ریلوں کی چھتوں پر یخ بستہ ہواؤں میں انہوں نے سفر کیا ہے ۔ جو جہاں گر گیا وہ وہاں مر گیا، بے گور و کفن لاشیں ریلوے لائن کے دونوں اطراف نظر آ رہی تھیں۔ ہماری پاک فوج ریلوں میں آنے والے قافلوں کی محافظ نہ ہوتی تو شاید وہاں سے ایک فرد بھی پاکستان زندہ نہ آتا۔

ان حالات میں کیسے کسی کے چہرے پر سکون مل سکتا ہے۔ میں ایک ٹوٹا ہوا ریزہ ریزہ بکھرا ہوا انسان تھا۔ مستقبل کی روشنی اتنی مدہم تھی کہ بے یقینی میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور اطمینان قلب لگتا تھا تقدیر سے نکل گیا ہے۔

ایسے میں ایک بندہ ملا جو پرسکون تھا، خوش تھا۔ گو کہ لباس بہت معمولی تھا، گو کہ ایک جھونپڑا تھا، گو کہ بظاہر مالی وسائل محدود تھے، مگر یہ بندہ خوش تھا۔ فکر فردا سے آزاد تھا۔

وقت کے ساتھ ساتھ جدوجہد جاری رہی اور اتنا زیادہ منہمک ہو گیا۔ سکون نام کی کوئی شئے قریب نہیں رہی۔ دنیاوی رنگ و دو اور حرص و ہوس میں عظیم بندے کا عظیم چہرہ بھی دھندلا گیا

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔