Topics

کرامت حضرت بی بی فاطمتہ الزہراؓ

                                   

حضرت ام سلمیؓ نے بیان کیا ہے کہ حضرت فاطمہؓ بیمار تھیں اور میں تیمار دار تھی۔ ایک دن صبح سویرے انہیں افاقہ محسوس ہوا۔ حضرت علیؓ کسی کام سے باہر گئے ہوئے تھے۔ حضرت فاطمہؓ نے کہا۔ اے اماں! میں نہانا چاہتی ہوں۔ میں نے پانی تیار کر دیا اور جس طرح وہ تندرستی میں نہاتی تھیں ویسے ہی خوب نہائیں پھر انہوں نے نئے کپڑے مانگے۔ میں نے ان کو کپڑے بھی دے دیئے۔ انہوں نے خود پہن کر کہا: امی اب ذرا آپ میرے لئے گھر کے بیچوں بیچ بچھونا بچھا دیجئے۔ میں نے یہ بھی کر دیا۔ بس وہ بستر پر جا کر لیٹیں اور قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنا ایک ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھ کر کہا۔ اے امی جان! اب میں اللہ تعالیٰ سے ملنے جا رہی ہوں اور بالکل پاک ہوں۔ اب کوئی بلا ضرورت مجھے کھولے نہیں۔ اس کے بعد ان کی روح پرواز کر گئی۔ حضرت علیؓ کے آنے کے بعد پورا واقعہ میں نے ان کے گوش گزار کیا۔

مندرجہ بالا واقعات و کرامات بہت ہی اختصار کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ ورنہ ہر صحابی کی زندگی میں بے شمار خرق عادت موجود ہیں بلکہ بعض صحابۂ کرام کی پوری زندگی کرامت اور خرق عادت تھی۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے ارشاد کے مطابق صحابہ کرامؓ کو ان طرزوں کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ صحابہ کرامؓ حقیقت میں عشق الٰہی اور عشق رسولﷺ میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ انہیں خرق عادات یا کرامات کو جمع کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔

روحانیت اور تصوف کے بارے میں یہ کہنا کہ جب صحابہ کرامؓ سے کرامات ظاہر نہیں ہوئیں تو اولیاء اللہ سے کس طرح کرامات ظاہر ہو سکتی ہیں؟ محض غلط فہمی ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابی اور صحابیات ؓکی کرامات اور خرق عادات کا اسلامی تاریخ میں ریکارڈ موجود ہے اس ریکارڈ میں چند حضرات صحابہ کرام اور صحابیات ؓ کی کرامات پیش کی جارہی ہیں ۔۔تاکہ غلط فہمی کا ازالہ ہوجائے۔ مراقبہ دراصل ذہنی یکسوئی کے ساتھ اپنی روحانی صلاحیتوں اور غیب بین نظر کو بیدار اور محرک کرنے کے لئے ایک طریقہ اور ایک راستہ ہے۔ مراقبہ سے مراد مرتبہ احسان ہے۔ مراقبہ کے ذریعہ جب آدمی کے اندر روحانی آنکھ کھل جاتی ہے تو اسے مرتبہ احسان حاصل ہو جاتا ہے۔ مرتبہ احسان یہ ہے کہ بندہ یہ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے کہ اسے اللہ دیکھ رہا ہے اور مرتبہ احسان یہ ہے کہ بندہ یہ دیکھتا اور محسوس کرتا ہے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔

یاد رکھیئے! نور نبوت کے ذریعہ صحابہ کرام اور صحابیاتؓ کا مرتبہ احسان حاصل تھا اور مرتبہ احسان کا حاصل ہونا بلاشبہ روحانیت ہے۔ مرتبہ احسان میں آدمی کے اندر روحانی صلاحیتیں متحرک اور روح کی آنکھ بیدار ہو جاتی ہے۔

 

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔