Topics
۱۔کائنات عدم سے وجود میں آئی،
زمان و مکان تخلیق ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ’’الست بربکم‘‘ فرمایا۔ مخلوق میں حواس متحرک ہوگئے۔ مخلوق پہلےجس حس سے پہلے متعارف ہوئی وہ سماعت ہے۔۔۔
اب دوسری اسپیس بنی۔
۲۔پہلی اسپیس
اس وقت وجود میں آئی جب ’’کن‘‘ فرمانے سے اللہ کے ذہن میں موجود کائنات ظاہر ہوئی۔
۳۔آواز کی جانب
متوجہ ہونے سے بصارت متحرک ہوئی۔
۴۔فہم پیدا
ہوئی کہ سامنے موجود ہستی خالقِ کائنات اللہ ہے۔
۵۔اقرار
کیااور گویائی سے فاصلہ کی پانچویں حس متعین ہوئی۔
خالق اور
مخلوق کے درمیان تعارف میں درجہ بہ درجہ حواس متحرک ہوئے یعنی درجہ بہ درجہ فاصلہ
مظہر بنا۔ آواز سننا اس کی طرف متوجہ ہونا، ادراک، محسوس کرنا اور اقرار کرنا۔۔۔
یہ سب لمحۂ حقیقی ہے۔آواز میں موجود حواس کو ایک دوسرے سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔
علیحدگی کی بنیاد فہم پر ہے۔ آواز ایک ہے لیکن آواز میں معنی و مفہوم اس قدر گہرے
ہیں کہ شعور وقفہ کے ساتھ قبول کرتا ہے اور تعارف مراحل میں تقسیم ہوجاتا ہے۔۔۔ یہ
تقسیم فہم ہے۔
استاد قانون
سمجھاتا ہے تو آواز سنتے ہی مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ اقرار یا انکار یہ ہے کہ جیسے
ہی آواز سنی۔۔۔ مفہوم واضح ہوا۔ذہن میں چوں کہ اسلاف، خاندانی روایات، انفرادی
طرزِ فکر اور معنی و مفہوم پہنانے سے ناواقفیت تھی۔۔۔ آواز سننے کے ساتھ جو کچھ اس
آواز میں تھا، مشاہدہ میں آگیا۔
کسی شے میں جذب ہوئے بغیر ادراک نہیں ہوتا۔۔۔ جذب ہونا قربت
ہے۔
استاد قانون
بیان کرتا ہے تو آواز کا سہارا لیتا ہے۔
اگر وہ وائٹ بورڈ پر کوئی شکل یا تصویر بنا کر
خاموش کھڑا ہوجائے تو
استاد خاموش ہے لیکن۔۔۔ تصویر بولتی ہے
اور ہم تصویر
سے واقف ہوتے ہیں۔
خلا = روشنی
= وجود
عام معنوں
میں خلا اس شے کو کہا جاتا ہے جہاں خدوخال نظر نہیں آتے۔ کائنات میں کوئی شے
خدوخال کے بغیر نہیں ہے۔ شعوری آنکھ کو جہاں خدوخال نظر نہ آئیں، آنکھ اسے اسپیس کہتی ہے۔ لاشعور دیکھتا ہے کہ خلا روشنیوں
کا تانا بانا ہے۔ تانے بانے میں نقش و نگار ہیں۔آنکھ جس جگہ کو خالی دیکھتی ہے وہ
شعور کی حد ہے۔ اس کے بعد شعوری نگاہ نہیں دیکھتی اور اپنی محدودیت کو خلا کا نام
دیتی ہے۔ نگاہ کھلنے سے خلا میں موجود نقش و نگار واضح ہوتے ہیں اور آدمی شعور سے
ماورا ایک اور شعور سے متعارف ہوتا ہے اُسے لاشعور کہا جاتا ہے جب کہ لاشعور اصل
ہے اور شعور۔۔۔ لاشعور کے تابع ہے۔عاشق رسولؐ۔۔۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں۔
ستاروں سے
آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے
امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے
نہیں یہ فضائیں یہاں سینکڑوں
کارواں اور بھی ہیں
قناعت نہ کر
عالمِ رنگ و بو پر چمن اور
بھی، آشیاں اور بھی ہیں
اگر کھوگیا
اک نشیمن تو کیا غم مقاماتِ
آہ و فغاں اور بھی ہیں
تو شاہیں ہے،
پرواز ہے کام تیرا تیرے سامنے
آسماں اور بھی ہیں
اسی روز و شب
میں الجھ کر نہ رہ جا کہ تیرے
زمان و مکاں اور بھی ہیں
ہم جب کسی
چیز کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔ سامنے آجاتی ہے۔ ذہن اس طرف متوجہ نہیں ہوتا کہ چیز نظر
کیوں آتی ہے اور متوجہ نہ ہونے سے نظر کیوں نہیں آتی۔۔۔؟
قانون یہ ہے
کہ خلا وجود ہے۔۔۔ وجود دو چیزوں کو الگ الگ کرتا ہے۔سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ
بات کی تہہ تک پہنچا جائے خواہ وہ بات کتنی ہی چھوٹی یا بڑی ہو۔ قرآن کریم میں
ارشاد ہے
"اس سے
ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرہ سے بڑی نہ اس
سے چھوٹی۔ سب کچھ کتاب مبین میں درج ہے۔" (سبا: 3)
ہم شے کو
دیکھتے ہیں تو اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جائے گا
کہ شاہد جس چیز کو دیکھتا ہے وہ چیز ذہن میں منتقل ہوجاتی ہے۔ یعنی دیکھنے
والا خود دیکھی ہوئی چیز بن کر اس کی معرفت حاصل کرتا ہے۔ جب تک ہم چاند کی صفات
میں منتقل نہ ہوں، چاند نہیں دیکھ سکتے۔حامد نے محمود کو دیکھا تو محمود اور حامد
کے درمیان فاصلہ قائم ہوا۔ ایک دوسرے کو دیکھنے کی وجہ اسپیس ہے۔ ہم آئینہ دیکھتے
ہیں تو خود کو آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ ہم آئینہ نہیں دیکھتے، آئینہ
کے دیکھنے کو دیکھتے ہیں۔ آئینہ ایک اسپیس ہے۔آئینہ میں عکس ظاہر نہ ہو ، ہم آئینہ
کے دیکھنے کو نہیں دیکھ سکتے۔
فلم میں ہر
دو تصویروں کے درمیان اسپیس ہوتی ہے۔ اسپیس نہ ہو، فاصلہ ختم ہوجائے گا اور دونوں
تصویریں مل جائیں گی۔ تصویریں خدوخال ہیں۔۔۔ خدوخال کی بنیاد متعین مقداریں ہیں۔
جس شے نے دو تصویروں کو ایک دوسرے سے الگ کر رکھا ہے اس کی مقداریں بھی معین ہیں۔
مشاہدہ یہ ہے
کہ ہر دو الفاظ کے درمیان خلا ہے۔۔۔ صرف الفاظ نہیں۔۔۔ ہر لفظ کے حروف میں خلا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ادائیگی کے دوران ہر حرف واضح طور پر ادا ہوتا ہے۔ تسلسل سے الفاظ
کی ادائیگی کے باعث فاصلہ محسوس نہیں ہوتا لیکن ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے الگ ہونا
اس بنیاد پر ہے کہ ان کے درمیان خلا ہے۔
قانون: خلا نہ ہو تو زمان و مکان کا ذکر زیرِ بحث نہیں آئے گا اور بولنے
والا یا سننے والا کچھ نہیں سمجھے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کا ایک
رخ خلا اور دوسرا رخ قربت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے،
("ہم اللہ کی طرف سے ہیں
اور اللہ کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے" (البقرۃ: 156
ایک رخ خلا
میں پیدا ہورہا ہے۔۔۔ دوسرے رخ میں خلا میں گم ہورہا ہے۔ دونوں حرکات بیک وقت صادر
ہوتی ہیں۔ شے مرکز سے دور ہوتی ہے، خلا پیدا ہوتا ہے اور جب مرکز کی طرف لوٹتی ہے،
خلا کم سے کم ہوجاتا ہے لیکن ختم نہیں ہوتا ، موجود رہتا ہے۔ماں بچے کو اپنے سینے
سے چمٹاتی ہے۔ اس طرح بظاہر کوئی فاصلہ نہیں ہوتا لیکن فاصلہ رہتا ہے۔خلا کا کم
ہونا قربت ہے۔ کسی کو یاد کرتے ہیں تو اپنے اندر خلا محسوس کرتے ہیں اور فاصلہ کو
اس کی یاد سے پرُ کرتے ہیں۔ یہ آدمی پر منحصر ہے کہ وہ اپنے اندر خول کی دنیا کو
کثافت سے پرُ کرتا ہے یا اللہ کے نور سے۔
عزیز گرامی
قدر خواتین و حضرات! آپ نے رموز سنے۔ یہ الگ بات ہے کہ خود پڑھ کر سنے۔ مرشد کریم
ابدالِ حق حضور قلندر بابا اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا ایک زاویہ بیان کیا
گیا ہے۔ اس تحریر میں سوالات ہیں۔ اسے دو یا تین مرتبہ پڑھیں۔ انشاء اللہ ذہن کھلے
گا اور کئی جوابات نشر ہوں گے۔