Topics

زندگی کے دو رخ۔دو حواس



 

زندگی کے دو رخ ہیں۔ سمجھنے کے لئے دو حواس کا تذکرہ ضروری ہے۔

·          مادی حواس میں پابندی ہے۔

·          حواس کا دوسرا رخ آزاد رخ ہے۔ اس رخ میں انسان وقت اور اسپیس کی پابندی سے آزاد ہے۔

پابند حواس اسفل جذبات، اسفل زندگی اور قید و بند میں رہنے پر مجبور کرتے وہیں۔ ایسی زنجیریں جو کڑی در کڑی زنجیر ہے۔

سوال یہ ہے کہ زندگی کیا ہے۔۔؟ زندگی تقاضوں کا نام ہے۔ تقاضے حواس کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ مثلاً پیاس، بات کرنے کی خواہش، میل جول کا تقاضا، ملاپ، جنس، کسی کو چاہنا اور یہ تقاضا کوئی مجھے چاہے۔ بے شمار دلچسپیاں آدمی اور انسان کی زندگی ہیں۔

زندگی دراصل تقاضوں کا نام ہے اور تقاضوں کی تکمیل کا ذریعہ حواس ہیں۔ اگر تقاضے حواس کے اندر جذب ہوجائیں تو ہمیں دنیا میں موجود خدوخال کا علم ہوتا ہے۔ معاش، جدوجہد، شادی بیاہ، اولاد کی خواہش، عشق، محبت، خوشی، ناگواری، سخاوت، بخل یہ سب کے سب مشغلے مظاہراتی دنیا ہے۔حواس کی درجہ بندی سے مراد زمان و مکان کی پابندی ہے۔

 حواس کے دو رخ ہیں اور یہ دو رخ زندگی میں ایسا کردار ہیں جس سے کوئی بھی آزاد نہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ زندگی کی چرخی دو رخوں پر بلاتوقف گھوم رہی ہے۔

ہر آدمی اور ہر انسان پہلے دن سے زندگی کے آخری سانس تک دو زاویوں میں گھومتا رہتا ہے۔ ایک دائرہ ہے۔۔ دائرہ کے آدھے حصہ میں شعور کی عملداری ہے اور دائرہ کے چھپے ہوئے حصے میں کروڑوں دنیائیں موجود ہیں۔ اور یہ ہر دنیاکی طرح دنیا ہیں۔

اس تحریر  میں یہ علم ظاہر کرنا مقصود ہے کہ دائرہ کے دو حصے ہیں۔

 ایک روشن اور دوسرا تاریک (غیر روشن) ۔

 زندگی کے دو رخ ہیں اور ان دونوں رخوں میں پوری زندگی کے ماہ و سال الٹ پلٹ ہورہے ہیں۔ چھپ رہے ہیں اور ظاہر ہورہے ہیں۔ ظاہر ہورہے ہیں اور چھپ رہے ہیں۔ چھپنا، ظاہر ہونا، ظاہر ہونا، چھپنا مسلسل عمل ہے۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق اس عمل (equation) میں تبدیلی ہے نہ تعطل ہے۔ دنیا میں رائج ہزاروں علوم میں سےکوئی ایک علم اس کی تردید نہیں کرسکتا جس عمل، پروگرام یا (equation) میں تبدیلی اور تغیر نہ ہو تو اس کےبارے میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ زندگی چھپنے، ظاہر ہونے، چھپنے اور پھر ظاہر ہونے پر قائم ہے۔

گرامی قدر بزرگوں،بہت پیارے نوجوان بچوں، طالبات و طلبا سے درخواست ہے کہ کیا زندگی چھپنے، ظاہر ہونے، نمودار ہونے، غائب ہونے، آنکھوں سے اوجھل ہونے یا مناظر کا سامنے آنا، غائب ہونا، ظاہر ہونا، غائب ہونا۔۔ اس کے علاوہ کچھ ہے؟

تقریباًسات ارب آدمی اور انسان ، انسانوں کے لئے کسی بھی فلسفہ، منطق، عقلی موشگافیوں سے یہ ممکن نہیں کہ اس فارمولے کی تردید ہوسکے۔

قابل قدر سائنسدان، خواتین و حضرات سے بھی فقیر کا یہی سوا ل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ جتنے فکشن علوم آپ نے سیکھے ہیں۔ پانچ منٹ کے لئے ذہن خالی کیجئے۔ آزاد ذہن سے سوچئے کہ

اگر رات نہ ہو تو دن کی کوئی حیثیت ہے۔۔؟

 اگر روشنی نہ ہو تو رات کی کوئی حیثیت ہے۔۔؟

 موضوع کی پیچیدگی پر سے پردہ اٹھانے کے لئے اصل موضوع یہ ہے کہ

زندگی کیا ہے۔۔کیوں ہے۔۔؟

آسان جواب ہے ۔۔زندگی حرکت ہے۔

میں آپ کا دوست سوال کرتا ہوں حرکت کیا ہے۔۔؟

اس کا یہ جواب ہوگا انرجی ہے، توانائی ہے، طاقت ہے۔

سمجھنا یہ ہے کہ توانائی کا سورس کیا ہے۔۔؟جواب آسان ہے کھانا، پینا، بھاگنا، دوڑنا، ایسی مشقتیں کرنا یا ایسی غذا استعمال کرنا جس سے توانائی کا ذخیرہ ہو۔اب یہ مرحلہ درپیش ہے کہ توانائی پانی میں ہے، توانائی ہوا میں ہے، توانائی آکسیجن میں ہے، فوڈ اور ایٹم میں ہے۔ پھر بھی سوال کا واضح جواب سامنے نہیں آیاکہ توانائی کیا ہے۔۔؟ تو اس کا جواب یہ ہوگاکہ ہر شے میں توانائی ہے۔ توانائی فائدہ بخشتی ہے اور توانائی نقصان کا سبب بھی بنتی ہے۔اگر گندم، آٹا،چاول ہمیں مختلف وٹامن کے ساتھ توانائی فراہم کرتے ہیں۔۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ توانائی کا سورس sourceکیا ہے؟

 اگر sourceہے تو sourceکا sourceکیا ہے۔۔؟

قابل تحسین ہیں موجودہ دور کے سائنسدان کہ توانائی کی تشریح اس حد تک کردی گئی ہے کہ اگر لاشعوری انفارمیشن کے مطابق ریسرچ کی جائے تو یہ مسئلہ بڑی آسانی سے حل ہوجاتا ہے۔

آدمی شعوری زندگی گزارتا ہے لیکن شعور Independent نہیں ہے۔ لاشعور سے جو اطلاعات ملتی ہیں ان طلاعات کو چند فیصد شعور قبول کرتا ہے اور اسی کو زندگی سمجھا جاتا ہے لیکن اگر لاشعوری زندگی کی مقداروں کا علم حاصل کرلیا جائے تو یہ معمہ حاصل ہوسکتا ہے۔

 اب اس مساوات (equation) کو مثال سے سمجھئے۔

علم ہے                     جہالت ہے۔

علم کو ترک کردیا جائے تو جہالت کا غلبہ ہوجائے گا اور جہالت کو ترک کردیا جائے تو آدمی عالم و فاضل بن جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں دو عوامل ایسے ہیں جن کے بغیر زندگی کی تکمیل نہیں ہوتی۔ مادیت کو اہمیت دینا اور مادیت کو زندگی سمجھنا،  دوسرا رخ جس کا تجربہ سوتے ہوئے ہوتا ہے۔۔ وہ یہ ہے مادیت کی نفی ہوجانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حقیقی رہنمائی کا سورس آسمانی کتابیں تورات، انجیل، زبور اور اللہ کے ارشاد کے مطابق دین کی تکمیل پر مبنی کتاب قرآن کریم ہیں۔

 ہر مذہب میں مختلف آیات میں شعوری کیفیات کے ترک کی دعوت دی گئی ہے۔ مثلاً صبح سے شام تک اللہ کے لئے بھوکے رہنا ترک ہے۔ ایسے اعمال کو زندگی کے ہر معاملہ میں اہمیت دینا جو بندے کو اللہ سے قریب کرتے ہوں۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی، اللہ کے لئے بھوکے پیاسے رہنا، اللہ کے لئے وقت کی پابندی کرنا، سحر و افطار میں دسترخوان پر اللہ کی نعمتیں سجی ہوئی ہیں لیکن وقت کا تعین ایسا عمل ہے کہ سحر میں اذان پر ہر روزہ دار کا ہاتھ رک گیا۔۔ دسترخوان سجا ہوا ہے، طرح طرح کی نعمتیں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی موجود ہیں، کتنی ہی گرمی ہو، پیاس سے ہونٹ اور زبان خشک ہوں، حلق میں کانٹے پڑ رہے ہوں، جب تک اللہ اکبر کا نعرہ بلند نہ ہو کوئی ایک آدمی دسترخوان پر ہاتھ نہیں بڑھاتا، جھوٹ نہیں بولتا، دھوکا نہیں دیتا، غصہ نہیں کرتا، صلوٰۃ ی پابندی کرتا ہے، یہ ہی ’’ترک‘‘ ہے۔

خلاصہ تحریر یہ ہے کہ شعوری کیفیات کو لاشعور کے تابع اس طرح کردیا جائے جس طرح حضرت موسیٰؑ ، حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات ہیں اور جس میں اللہ کی خوشنودی شامل ہے۔

 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔۔ روزہ کی جزا میں خود ہوں۔

نوٹ: اس مضمون میں علم کے تین رخ بیان ہوئے ہیں۔

·                    شعورلاشعور

·                    رات اور دن

·                    ترک

مزید وضاحت کے لئے عرض ہے کہ جہالت کو ترک نہ کیا جائے تو علم حاصل نہیں ہوتا، بداخلاقیاں ترک نہ کی جائے تو شرافت و نجابت کا تذکرہ زیربحث نہیں آتا۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے اور ہم سب کو ترک کی لذت سے آشنا کرے۔

رمضان المبارک کی بے کراں سعادتیں ہم سب پر نازل ہوں۔


 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدین عظیمی


دل گداز

خواتین وحضرات کے نام