Topics
بات کرنے کی
طرزیں، اظہارِ خیال، بات سے مفہوم، مفہوم سے نتیجہ، نتیجہ پر عمل اور عمل کے نتیجہ
میں اختیار یا مجبوری، کامیابی و ناکامی اس وقت سامنے آتی ہے جب سمجھ میں آجائے کہ
زندگی کیا ہے۔ کیوں ہے۔ زندگی اگر دینی و دنیاوی تقاضے پورے کرنے کا عمل ہے تو عمل
کیا ہے۔۔؟ عمل زیرِبحث آتا ہے تو اس حقیقت پر تفکر لازم ہے کیا عمل کرنے پر آدمی
بااختیار ہے۔۔۔ اگر بااختیار ہے تو دوسرا رخ بے اختیار ہونا کیا ہے۔۔؟قرآن کریم
میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے،
"ہرگز
نہیں، یقیناًبدکاروں کا نامۂ اعمال قیدخانہ کے دفتر میں ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ
کیا ہے وہ قید خانہ کا دفتر؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔ (المطففین۱۸-۲)
"ہرگز
نہیں، بے شک نیکو کاروں کا نامۂ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں
کیا معلوم کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟
ایک کتاب ہے
لکھی ہوئی۔(المطففین: 7-9)
آپ کیا سمجھے علیین۔۔ اعلیٰ
اور سجین۔۔اسفل زندگی ہے کیا۔۔؟لکھی ہوئی کتاب ہے۔
مفہوم یہ ہے کہ ہر علم ریکارڈ
ہے۔ پوری زندگی اگر ریکارڈ نہ ہو تو زندگی کو سمجھنا ممکن نہیں۔ لفظ زندگی کا
مفہوم ’’حرکت‘‘ لیا جاتا ہے۔ جب ہم لفظ حرکت بولتے یا لکھتے ہیں تو معنی یہ ہیں کہ
ظاہر اور چھپے ہوئے دونوں رخ ظاہر ہوں اور غیب کے دبیز پرتوں میں چھپ جائیں۔
چھپتا۔۔۔ غیب ہے اور ظاہر ہونا۔۔۔ مظاہرہ ہے۔
انوار تجلیات کی روشنی میں
سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وید، تورات، زبور، انجیل اور آسمانی صحائف اور آخری
الہامی کتاب قرآن کریم ایسی دستاویز ہیں جن میں نزول و صعود کا قانون بیان ہوا ہے
اور اس قانون پر عمل کرنے کے لئے ہدایات روشن دلیلوں کے ساتھ موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین اس بات سے واقف ہیں کہ
کائنات میں کوئی ایک شے بھی علاوہ خالق کائنات کے ایسی نہیں جو ایک رخ پر موجود
ہو۔ اس موجودگی کی مثال کائنات میں ہر مخلوق کا و جود ہے۔ مثلاً بھوک پیاس، اولاد،
خاندان، احتیاج، کھانا پینا، غصہ، عفو و درگزر، یقین، بے یقینی، علم ، لاعلمی، سرد
و گرم، گرم اور سرد، راحت تکلیف، خوشی اور غم، سونا جاگنا، حواس بیدار ہونا، نیند
میں حواس کا متحرک رہنا، غیب و شہود، شہود اور غیب، حیات و ممات، موت اور زندگی،
اضطراب و سکون۔۔ اس کے علاوہ ساڑھے گیارہ ہزار حاضر غیب۔۔ غیب حاضر الٰہی صفات،
زمان و مکاں کی پابندی اور اس سے آزاد زندگی۔۔ یہ سب ایسے عوامل ہیں جن کے بغیر
لفظ زندگی بے معنی ہے۔
خواب اور بیداری۔۔ اس کے
باوجود کہ زمان و مکاں کی گرفت میں ہیں۔۔۔ مشاہدہ یہ ہے زمان و مکاں کی پابندیوں
کے جال میں قید فرد بھی زمان و مکاں سے آزاد ہوسکتا ہے۔
بات بظاہر مشکل ہے لیکن مثال کے آئینہ میں آسانی
سے سمجھ میں آجاتی ہے۔
التماس ہے کہ غور و فکر کریں
کہ جب زید، میں یا آپ شربت پیتے ہیں ، شربت پینے سے پہلے لہریں دماغ کی اسکرین
پرکیا ریڈیو، ٹی وی، موبائل فون کی لہروں کے قائم مقام نہیں ہوتیں۔۔؟
کوئی چیز دیکھتے ہیں تو اس وقت
تک آنکھ تصویر نہیں کھینچتی جب تک دماغی کیمرے میں موجود فلم پر عکس نہ بنے۔ آج کل
کیمرا عام ہے۔ ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ کیمرے سے جوتصویر بن رہی ہے اس کا پروسیس
کیا ہے۔۔۔؟ کیمرے کے لینس کو اگر آنکھ سے تشبیہ دی جائے تو بات آسان ہوجائے
گی۔کیمرے میں موجود لینس اگر ظاہر نہ ہو اور ظاہر ہو کر چھپ نہ جائے تو تصویر نہیں
بنتی۔ ہم آنکھ کو اگر کیمرے سے تشبیہ دیں اور کیمرے کے اندر کی فلم کو دماغ سمجھ
لیں تو کہیں گے شٹر گرا۔۔۔ کیمرے کی آنکھ کھلی۔۔۔ پلک جھپکی۔۔۔ پتلی سامنے آئی۔۔۔
اور آنکھ میں تل کے قائم مقام کیمرے کے لینس نے عکس کو دیکھا اور تصویر دماغ کی
اسکرین پر منتقل کردی۔
کیا آنکھ اور کیمرے کا عمل
آنکھ مچولی نہیں ہے۔۔۔؟ اگر ہے تو کیمرے کے لینس نے غیر موجود دادی اماں کو کیسے
دیکھا۔۔۔؟ اور جیسے ہی پلک جھپکی، دادی اماں نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔
آپ کھلی آنکھوں سے کوئی شے
دیکھ رہے ہیں۔ آنکھ کی پتلی پر جسے کیمرے کے لینس کے قائم مقام سمجھا جاسکتا ہے،
شٹر کی طرح پلک گری، پھر کیا ہوا۔۔۔؟ پھر کیا ہوا۔۔۔؟ بتایئے پھر کیا ہوا۔۔۔؟
بوجھو تو جانیں۔
---------------------------
2۔یہ بھی سوچئے کہ شعور معطل(suspend) ہے۔ جس شہر، جس محلہ اور
جس بیڈ پر سورہے ہیں۔۔۔ ہم نہیں جانتے بند آنکھوں کے پیچھے
دو آنکھیں جو نظر نہیں آتیں، کھلتی ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں، سوتے ہیں، جاگتے
ہیں، پاکی ناپاکی کا نہ صرف احساس ہوتا ہے بلکہ عملاً غسل واجب ہوجاتا ہے۔ جسم
غافل ہے۔ شعور معطل ہے۔ نرم و گرم بستر یا کانٹوں بھری سیج پر ہم سورہے ہیں لیکن
نہیں جانتے کہ کانٹوں بھری سیج ہے یا نرم و ملائم فوم کا گدّا۔
3۔خواب کے عالم میں دوستوں کے ساتھ پکنک پر ہیں۔ پیپر پلیٹس میں فش،
کباب، سینڈوچز، بریانی غرض انواع و اقسام کی ڈشز اور کاغذ کے گلاس میں مشروب ہے کیا ہم جانتے ہیں کہ نیند کی دنیا اور بیدار
ی کی دنیا میں اگر فرق ہے تو وہ کیا ہے۔۔؟
--------------------------
عزیزان گرامی۔۔۔ اس تحریر میں ہم نے پڑھا وہ مرشد کریم ابدال حق حضور
قلندر بابا اولیا رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا ایک زاویہ تین طرزوں میں بیان کیا
گیا ہے۔
روحانی علوم میں 23 کلاسیں پڑھائی جاتی ہیں۔ زاویہ سے مراد یہ ہے علم
کو تین طریقوں سے پڑھا جائے۔ تصوف میں ان تین طرزوں کی اصطلاح یہ ہے۔
·
اجمال
(خلاصہ)
·
تفصیل
(وضاحت)
·
اسرار
(علم کے رموز و نکات)