Topics

قلندر شعور کیا ہے؟

 

                               

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

اللہ تعالیٰ نے محبت سے مخلوق کو پیدا کیا۔ بے شمار صلاحیتوں سے نوازا۔ ہر ہر شے میں اپنی قدرت کی بہترین صناعی کی اعلیٰ ترین مثالیں بیان فرمائیں۔۔ ان تمام مہربانیوں کے ساتھ مخلوق کو بے سہارا نہیں چھوڑا۔ جنات اور انسان کی رہنمائی کے لئے تقریباً ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر منتخب فرمائے۔

اللہ تعالیٰ کے دوستوں نے زندگی کے ہر شعبے، ہر دور، ہر عمل اور زمانے کے ارتقاء کے مطابق رہنمائی کی اور اعلیٰ اخلاقی قدروں سے روشناس کیا۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث۔۔ اولیاء اللہ خواتین و حضرات نے اللہ کی سنت کوزندہ و تابندہ رکھنے کے لئے کسی قربانی سے انحراف نہیں کیا۔

یکتائے روزگار دانشورابدال حق قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ  نے قدیم و جدید کے امتزاج کے ساتھ انبیاء کے علوم کی آبیاری کی اور فرقوں میں بٹے ہوئے انسان نے سکھ کا سانس لیا۔۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم  میں فرمایا،

سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔(سورۂ آل عمران 103)

رب العالمین نےآخری رسول اور نبی حضرت محمد ﷺ کو رحمتہ اللعالمین کے اعلیٰ و ارفع خطاب سے نوازا۔

اے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (سورۂ انبیاء: 107(

جب آدم و حوا، ان کی نسل اور کائنات کا تذکرہ فرمایا۔۔ تو ارشاد ہوا

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے۔ (سورۂ فاتحہ: 01(

رب کے معنی یہ ہیں۔ عبادت کے لائق صرف اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی دنیاؤں میں پیدا کرتا ہے اور عالمین میں مخلوق کو بھیجتا رہتا ہے۔ عالم ارواح، عالم برزخ، عالم دنیا، عالم اعراف، عالم حشر نشر، یوم الحساب، عالم جنت و دوزخ سب عالمین کے دائرہ کار میں ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے۔ رب کے معنی زندگی کے تمام تر تقاضوں، ضروریات۔۔ وہ زندگی بیداری یعنی شعوری ہو یا لاشعوری تقاضوں کے تحت شعور سے ماوراء ہو سب کی کفالت کرتا ہے۔ آخری آسمانی کتاب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

سن رکھو! بےشک اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہوتا ہے نہ غم۔ (سورۂ یونس : 62(

یہ زمانہ۔۔ بے چینی، پریشانی، ذہنی انتشار، خوف ، بے یقینی اور بیماریوں کا دور ہے۔ گھر گھر دواؤں کے اسٹور نظر آتے ہیں۔ بظاہر ایسا کوئی گھر نہیں جو سکون کا آشیانہ ہو۔

ایسا کیوں ہے۔۔؟

 

میری دانست میں آدمی"انسانیت" سے دور کبر، حرص و ہوس، خودغرضی، جاہ طلبی اور لالچ کے خودساختہ جال میں گرفتار ہوگیا ہے۔۔ توکل، قناعت، اللہ کے اوپر بھروسہ وہ نہیں ہے جو ہمارے اسلاف میں تھا۔۔

مشیت ہے کہ جب بندہ اللہ کے بھروسہ پر۔۔ کوئی ارادہ کرتا ہے اور ارادہ کی تکمیل کے لئے مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ بندہ کو کامیابی سے ہمکنار فرمادیتے ہیں۔۔

اور جو لوگ توکل کے ساتھ اللہ کے بھروسے پر کوشش کرتے ہیں ان کے لئے قدرت مختلف راہیں متعین کردیتی ہے۔رب ذوالجلال کا ارشاد ہے۔اور جو لوگ  میرے لئے جدوجہد کرتے ہیں، میں ان کے لئے اپنی راہیں کھول دیتا ہوں۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ ہم سب کو تفکر کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین۔

تفکر کے ذریعےاللہ اور اس کے رسول تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ دیکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

بلاشبہ اس وقت ہم جھوٹ، عیاری اور مکر و فریب کے گرداب میں ہیں۔ مادیت کے غبار اور تعفن نے ہر شخص کو پریشان کردیا ہے۔

نوع انسانی کا فرد ہونے کی حیثیت سے ہمارا عزم ہے کہ عوام سیڑھی بہ سیڑھی مینارۂ نور کی طرف سفر کریں۔

انشاء اللہ یہ وقت ضرور آئے گا کہ توحید و تقدیس کی ایک لہر اٹھے گی اور پوری دنیا سکون و راحت سے آشنا ہوجائے گی۔۔

یقین ہے کہ نوع انسانی اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ حاصل کرلے گی۔ آدمی ، آدمی کا دشمن نہیں رہے گا اور نوع انسانی مادیت کے زہرناک عفریت کا تریاق تلاش کرلے گی۔

ابدال ِ حق حضور قلندر بابا اولیاء رحمۃ اللہ علیہ  نے نوجوان نسل اور نوع انسانی کے لئے ایک پروگرام ترتیب دیا ہے تاکہ نوجوان نسل زمین و آسمان میں اللہ کا تفویض کردہ مقام حاصل کرلے۔

ہم اس نظام کے تحت قلندر شعور سے آگاہی کا پروگرام پیش کرتے رہیں گے تاکہ نوع انسان اپنے اندر کھربوں کل پرزوں سے بنے ہوئے کمپیوٹر سے واقف ہوجائے۔

مشن چلانا ٹیم ورک ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ہم اس مشن کی آبیاری کرسکیں۔۔ آپ کے مشوروں اور تعاون کی ضرورت ہے۔۔

قلندر شعور کا مطلب ہے کہ نوع انسانی رحمانی طرز فکر سے واقف ہو اور انسان کو موجودہ دنیااور آخرت کا ادراک حاصل ہوجائے۔

انشاء اللہ الست بربکم کی آواز سے۔۔ نوع انسانی واقف ہو کر کائناتی اسرار و رموز کو سمجھ لے گی۔

" میں نے جو کچھ عرض کیا ہے۔۔ وہ ایسا ہے جیسے تالاب میں ہاتھ ڈال کر ہلادیا جائے اور تالاب میں ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک دائرے بن جائیں۔


 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدین عظیمی


دل گداز

خواتین وحضرات کے نام