Topics

ہم کیوں ہیں؟۔ ؟ماہنامہ قلندر شعور۔مئی ۔جون 2020


سا ت ارب سے زیا دہ  آبا دی میں اکثر یت زبا ن سے اقرار کر تی ہے کہ اللہ خا لق، ما لک اور رازق ہے لیکن ذہن تالے کے بغیر صندوق ہے جو شکو ک و شبہا ت سے بھرا ہوا ہے ۔ مشا ہد ہ ہے کہ بڑ ی پریشا نی دور کی با ت ، معمو لی پریشا نی پر ما یو سی طا ری ہو جا تی ہے  اور اختلا ف وسیع ہو جا تا ہے ۔

          آدمی سمجھتا ہے کہ وہ وقت کے ٹکڑوں میں زندگی گزارتا ہے ۔ ان ٹکڑوں کو وہ لمحو ن ، سیکنڈ وں ، منٹوں ، گھنٹوں اور شب و روز کا نا م دیتا ہے ۔ مگر یہ لمحے ، سیکنڈ ، منٹ ، گھنٹے اور شب و روز کہا ں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جا تے ہیں ، اسے علم نہیں ۔ یہ بھی معلو م نہیں کہ صر ف لمحے غیب ظا ہر نہیں ہو تے ، ہر شے لمحا ت میں منتقل ہو کر غیب ظا ہر ___ ظا ہر غیب ہو رہی ہے ۔ جو فر د غیب ظا ہر ہو جا ئے ۔ جس دنیا کو دوام نہیں ، وہاں مو جود اشیا پا ئیدار کیسے ہوسکتی ہیں ۔؟

          زندگی  کےبیا ن کر نے کی مختلف طر زیں ہیں۔ ایک طرز یہ ہے کہ فر د کے اندر طلب پیدا ہو تی ہے اور طلب کا دوسرا  رخ ترک ہے ۔فر د ترک سے آزاد ہے نہ طلب چھوڑسکتا ہے ۔ مگر کسے تر ک کر نا ہے اور کیا اپنا نا ہے ___ اس کا فیصلہ وہ 'الوژن ' کے تحت کر تا ہے ۔ کا ئنا ت میں لا شما ر دنیا ئیں ہیں جن میں حواس کی رفتا ر اس دنیا سے ہزاروں گنا زیا دہ ہے۔ نا دان آدمی بے شما ر دنیا ئیں تر ک کر کے ایک دنیا کی طلب رکھتا ہے جہاں حواس کی رفتا ر سب سے کم ہے ۔ رفتا ر کم ہو نے سے چیزیں منجمد نظر آتی ہیں۔

          بظا ہر نظر آتا ہے کہ دنیا ٹھو س ہے اور ہم اس میں رہتے ہیں لیکن نگا ہ دیکھتی ہے کہ دنیا ٹھو س ہے نہ ہم اس میں رہتے ہیں، ہما ری طر ح یہ دنیا بھی کہیں سے یہاں پر منعکس ہو رہی ہے ۔ پھر دنیا کی اصل کیا ہے ____؟

          وسا ئل مخلو ق کی پیدا ئش سے پہلے زمین پر مو جو د ہیں ۔ ان وسا ئل کو استعما ل کر کے ایجا دات ہو تی ہیں تو پوچھا جا تا ہے کہ مو جد کو ن ہے ۔ لوگ تعریف کر تے ہیں اور اس کی صفا ت اپنا نا چا ہتے ہیں ۔ سوچنا یہ ہے ،

o      ہمیں کو ن  و مکا ں دیکھ کر خیال نہیں آتا کہ یہ سب کس نے بنا یا ہے ؟

o      کیا فکر خا لقِ کا ئنا ت کو پہچا ننے کی طر ف متوجہ نہیں کر تی ؟

o      جو وسا ئل دن رات تسلسل سے استعما ل کر تے ہیں ، و ہ کس نے بنا ئے؟

o      با رش نہ بر سے ، گندم اگ سکتی ہے ؟ زندگی برقرار رہ سکتی ہے؟

o      کبھی سوچا ہے ک گندم کیسے اگتی ہے اور با رزش کو ن برساتا ہے ؟

o      با رش نہ بر سے پھر کیا ہو گا اور بر سنے کا سلسلہ نہ رکے ، پھر کیا ہوگا؟

o      دنیا میں آئے ، کیا ساتھ لا ئے ہیں اور جا تے ہیں تو سا تھ کیا لے جا تے ہیں؟

 


انسا ن یقین اور آدمی شک میں زندگی گزارتا ہے ۔ پریشا نی ، بیما ری ، الجھن ، بیزاری ، دما غی کشمکش ، اعصا بی کشا کش، خو ف اور غم___ شک سے وابستہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ شک سے منع فرما تا ہے اور یقین پختہ کر نے کا حکم دیتا ہے ۔

     "اس کتا ب میں شک نہیں۔ ہدا یت ہے متقیوں کے لئے جو غیب پر ایما ن لا تے ہیں ، صلو ٰۃ قا ئم کر تے ہیں اور جو رزق ہم نے دیا ہے ، اس میں سے خر چ کر تے ہیں ۔"      (البقرۃ: ۲-۳)

آدم زا د نے ذہن نشین کرلیا ہے کہ خو شی کا تعلق دولت مندی سے ہے اس لئے وہ دن رات دولت جمع کر نے میں مگن ہے۔

سنئے۔ ما ہی گیر کشتی میں بے فکر لیٹا مو سم سے لطف اندوز ہورہا تھا ۔ کسی صنعت کا رکا وہاں سے گزر ہوا۔ ما ہی گیر کوبے فکر لیٹے دیکھ کر پریشا نی ہو ئی اور قریب جا کر پوچھا ، وقت ضا ئع کر نے کے بجا ئے مچھلیا ں کیو ں نہیں پکڑ تے ؟

آسما ن کی وسعتوں میں گم ما ہی گیر نے تعجب سے صنعت کا ر کو دیکھا اور کہا ، میں نے آج کے دن کی مچھلیا ں پکڑلی ہیں۔

صنعت کا ر نے کہا، شا م ہو نے میں بہت وقت ہے ۔ مزید مچھلیا ں پکڑ سکتے ہو۔

اس نے کہا، اتنی مچھلیوں کا کیا کروں گا؟

صنعت کا ر نے کہا، زیا دہ پیسے کما وَ گے۔ پھر چپو سے چلا نے کے بجا ئے کشتی مو ٹر لگا لینا ۔ گہر ے پا نی میں جا نا اور بڑی مچھلیا ں پکڑنا ۔ اتنے پیسے ہو جا ئیں گے کہ نا ئیلون کے جا ل خرید لوگے۔ زیا دہ مچھلیا ں جال میں آئیں گی اور دوسری کشتی خریدنے کے لئے رقم جمع ہو جا ئے گی ۔ جلد تمہا رے پا س کشتیوں کا بیڑا ہو گا اور میری طرح امیر ہو جا و َ گے ۔

صنعت کا ر نے کہا، پھر آرا م سے بیٹھنا اور زندگی کا لطف اٹھا نا۔

ما ہی گیر مسکرا یا اور پو چھا ، تو تمہا رے خیا ل میں ابھی میں کیا کر رہا ہوں ___؟

 


مقا م ِ فکر ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کس راستے پر گامزن ہیں ۔ عارضی دنیا کو حقیقی سمجھنے والا با ر با ر لوگوں کی حق تلفی  کر تا ہے ۔ صر ف اپنی نو ع کی نہیں ___ آسما ن ، زمین ، جمادات ، نبا تا ت ، حیوانا ت ، حشرا ت ، اجنا س اور دوسرے وسا ئل، مختصر یہ کہ جتنے نظام  ہیں ، سب کی حق تلفی ہو تی ہے ۔ جب کہ یہ سب خد مت میں مصروف ہیں ۔ خو دغر ضی کی طر ح حق تلفی بھی تخریب ہے ۔ تخریب کی بنیا د شک ہے اور شک اللہ سے دوری ہے ۔ اللہ سے دوری سے خیا لا ت کثیف ہو تے ہیں اور فر دلا علا ج بیما ری میں مبتلا ہو جا تا ہے ۔

یہ دنیا ایجادات کی دنیا کہلا تی ہے ۔ ایجا دا ت میں وہ اسبا ب شا مل ہیں جن سے یقین کی دنیا الوژن میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ تا ریخ گوا ہ ہے کہ آج نئی ایجا دات کہا جا رہا ہے ۔

دانش ور کہتے ہیں کہ یہ شعو ر کی معرا ج کا دور ہے لیکن حا لا ت شا ہد  ہیں کہ یہ نا فر ما نی ، درما ندگی ، خو دغر ضی ، حق تلفی ، بیما ریوں ، وبا ئی امرا ض اور آفا ت ِ ارضی و سما وی کا دور ہے ۔ قبرستا ن کی جگہ تنگ ہو گئی ہے ۔

بلا شبہ مو جو د ہ حا لا ت ہمہ گیر ہیں مگر انہیں دعوت خو د آدمی نے دی ہے۔

ستر ما وَں سے زیا دہ محبت کر نے والی ہستی مہر با ن ہے ، رحم اور درگزر گر تی ہے ۔ آخر وقت تک بندے کو ہدا یت دیتی ہے  کہ وہ نظا م کا ئنا ت اور خو د کو نقصا ن پہنچا نے کی کو شش سے گریز کر ے ۔ جب بندہ" صدا ئے غیب " نہ سننے کے لئے بہرہ ہو جا تا ہے ۔ ارضی و سما وی آفا ت آتی ہیں اور جا ل بچھ جا تا ہے ۔

 


ہر بندہ بشر سوچتا ہے کہ کس نے میرے لیےکیا کیا۔ اس کو یہ خیا ل نہیں آتا کہ میں دوسروں کے لیے کیا کیا۔ نظا م کا ئنا ت پر غور کریں ۔ پو ری کا ئنا ت رحمت کی چا در میں لپٹی  ہو ئی ہے لیکن آدمی کے گر د لپٹے ہو ئے ایک پر ت ابلیسیت سے زندگی کا نٹوں بھرا سیج بن گئی ہے ۔ غذا ئی صورت  حا ل نا گفتہ بہ ہے ۔ قوت مدا فعت کم زور ہو نے کی وجہ سے اعصا بی نظا م در ہم بر ہم ہو رہا ہے  اور عمر کم ہو رہی ہے ۔ صور ت حا ل ایسی ہے کہ آدمی مر تا ہے نہ جیتا ہے ۔ جیتا ہے نہ مرتا ہے جب کہ ہر آدمی جینے کی خوا ہش رکھتا ہے لیکن دانا ئے روزگا ر دنیا  کی زندگی کو مختصر کرنا چا ہتے ہیں اس طر ح کہ جنت نظیر زندگی ____؟____ * بن گئی ہے ۔

جو لوگ سونا چا ندی جمع کر تے ہیں اور مخلو ق خدا پر خر چ نہیں کر تے ، بھو کوں کو کھانا نہیں کھلا تے ، بے لبا س لوگوں کے لئے لبا س کا انتظا م نہیں کر تے ، اللہ کا شکر ادا نہیں کر تے اور ما تھا نہیں ٹیکتے ، ان کا جو حشر ہو تا ہے تا ریخ دہرا تی رہتی ہے ۔ اگر تا ریخ یا د نہیں ہے تو پچھلی قومیں اس لئے تبا ہ ہو گئی تھیں کہ انہوں نے اصل زندگی فراموش کر دی تھی ۔ تا ریخ شا ہد ہے کہ ایک مچھر نے با دشا ہ وقت نمرود کے دما غ میں دا خل ہو کر اسے بے بس کر کے ہلا ک کر دیا۔

رحیم و کریم اللہ کی سنت ہے کہ وہ مخلو ق کو تبا ہ کن حا لا ت سے متنبہ کر تا رہتا ہے کہ آدمی جو کچھ کر تا ہے اس کی سوچ کا ذرہ ذرہ "خفی" میں تحر یر ہے۔

     "پھر جس نے ذرہ برا بر نیکی کی ہو گی ، وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برا بر بدی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا۔"(الزلزال :۷-۸)

با ر ی تعالیٰ کا ارشا د ہے کہ آپ کیا سمجھے علیین کیا ہے اور آپ کیا سمجھے سجین کیا ہے؟

سجین :         اسفل مقا م ، عذا ب نا ک زندگی ، نیند نہ آنا ، آگ کی لپٹیں ، کھا نے کے لئے تھو ہر ، غیبت کر نے والوں کی غذا بھا ئی کا خون اور پینے کو کھولتا گرم پا نی ہے ۔

علیین :       اعلی ٰ مقا م ، جنت نظیر زندگی ، سکو ن و راحت کی نیند ، نہ گرم و سر د موسم، حیا ت آویز ہوا ئیں اور وہ سب کچھ جو انسا ن چا ہتا ہے مو جو د ہے ۔

قا رئین سے درخواست ہے کہ "آج کی با ت " پڑھ کر گزر ے ہو ئے کل کی با ت پر تا ریخ کے حوا لے سے تفکر کر یں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطا ن اور ذریت شیطان کی انسپا ئریشن سے محفو ظ رکھے اور علیین میں مقا م عطا فر ما ئے ، آمین

_______________________________
*خط کشیدہ خالی جگہ پُر کریں۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔