Topics

ہم لباس کو زندگی سمجھتے ہیں ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ جون 2021


آج کی بات


  زندگی کی لباس میں ظاہر ہوتی ہے جب کہ ہم لباس کو زندگی سمجھتے ہیں۔×  بچپن ، جوانی اور بڑھاپا اس کے مختلف نام ہیں۔ ہم شب و روز لباس  کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور پہچان سمجھ کر اصل سے گریز کرتے ہیں۔ لباس بنتا ہے ، دن رات تغیر سے گزرتا ہے، بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپے میں تبدیل ہوتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے مگر زندگی موجود رہتی ہے۔ اگر لباس کے ساتھ زندگی بھی غائب ہوتی تو لا شمار دنیاؤں میں بسنے والوں کا آپس میں رابطہ نہ ہوتا۔ اکثر والدین کو صاحبِ یقین اولاد کی بشارت ملتی ہے ، وہ خواب میں ان اوصاف کی جھلک دیکھتے ہیں۔ مثلاً کسی کے دامن میں آسمان سے ستارے گرتے ہیں، کوئی ماہِ کامل سے دودھیا دھاریں پھیلتی ہوئی دیکھتا ہے اور کسی کو غیبی آواز آتی ہے۔ سوچیئے ۔۔ جو بچہ دنیا میں آیا نہیں اور جس کو ماں باپ نے دیکھا نہیں، اس کی آمد اور صلاحیتوں کی خبر ملنا کیا ہے؟

لباس پیدائش سے موت تک تبدیل ہوتا ہے۔ بڑھاپے کا لباس بچپن اور جوانی سے مختلف ہے مگر اس کو پہننے والا وجود ایک ہے۔ غور طلب ہے کہ جس مخلوق کا جسم (لباس) بڑا ہے ، وہ زمین پر زیادہ وقت قیام کرتی ہے اور جس کا جسم چھوٹا ہے، وہ کم مدت میں زندگی پوری کر لیتی ہے۔ دونوں کا وقت اسپیس کے مطابق طے ہوتا ہے، زندگی پر فرق نہیں پڑتا ۔ پھر اسپیس کا چھوٹا بڑا ہونا کیا ہے۔۔۔؟

          ہر زمین پر زندگی کا دورانیہ مخلوق کی جسامت (اسپیس) کے لحاظ سے ہے۔ اسپیس چھوٹی بڑی ہونے سے زندگی کے تقاضے اور ادوار متاثر نہیں ہوتے۔ چیونٹی کی عمر کا دورانیہ کم اور ہاتھی کا زیادہ ہے مگر نظامِ حیات کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی زندگی علم، وسائل اور جذبات سے بھر پور ہے۔ تفکر جب زندگی کے پرت کھولتا ہے تو نظر آتا ہے کہ لباس میں تغیر ہے۔ تغیر نہ ہو تو بچہ چاہے جس نوع کا ہو ، پالنے سے باہر نہیں آتا لہذا دھرتی پر بچے کی موجودگی تغیر کا مجموعہ ہے۔

          مختصر ترین عمر کی حامل ایک تخلیق بلبلا ہے جس میں زندگی کے رنگ اور فزکس سے لے کر میٹا فزکس تک علوم کے سارے شعبے موجود ہیں۔ بلبلے کی عمر چند ثانیے سے زیادہ نہیں۔ وہ پیدا ہوتا ہے، بچپن گزرتا ہے، جوانی آتی ہے اور جوانی بڑھاپے میں چھپ جاتی ہے ۔ عمر طبعی پوری کر کے فانی دنیا کو خیر باد کہنے کا وقت  آتا ہے تو پانی سے بنی بلبلے کی باریک جھلی کھلتی ہےاور۔۔۔؟ جھلی کی حیثیت لباس کی ہے۔ یہ دو دنیاؤں کے درمیان پردہ ہے۔ ایک دنیا جھلی کے اندر ہے اور ایک دنیا وہ فضا ہے جس میں بلبلا تیرتا ہے۔ پردہ کھلنے سے اندر میں زندگی ، پردے کے دوسری طرف زندگی سے ملتی ہے۔

جب چھوٹی بڑی اسپیس زندگی کے ادوار پر اثر انداز نہیں ہوتی پھر ہماری زمین پر کسی مخلوق کی عمر کا دورانیہ کم اور کسی کا زیادہ کیوں ہے۔؟

          زمین پر اسپیس کا غلبہ ہے اس لیے زیادہ اسپیس والی شے زیادہ مدت زمین پر رہتی ہے، کم اسپیس کی حامل شے جلد رخصت ہو جاتی ہے۔ مادی لحاظ سے دیکھا جائے تو وزن اور حجم کے لحاظ سے زمین پر سب سے بڑی تخلیق پہاڑ اور سمندر ہیں۔ کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی جو ان کا وزن کر سکے۔ زمین پر ان کا قیام حجم کی وجہ سے طویل ہے اور یہ حجم زمین میں اس طرح نصب ہے کہ ان میں سے جس کا وجود ختم ہوگا ، زمین سمٹ جائے گی۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے ،

          "اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اوردریا پیدا کئے۔ "

                                                                   (الرعد ۔۳)       

جتنے اجسام بیان ہوئے ہئے ہیں اور جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سب لباس کی صلاحیت کے مطابق زندگی کا مظاہرہ ہیں۔ لباس بنتا ہے، تبدیل ہوتا ہے اور بکھر جاتا ہے لیکن زندگی بندگی اور بندگی زندگی ہے۔

**----------------------------**

یہ دنیا الوژن ہے ، ایسا الوژن کہ یہاں ہر شے مٹی کے پردے میں ظاہر ہوتی ہے مگر کوئی نہیں کہتا کہ ہم مٹی کو دیکھ رہے ہیں اور یہ بھی خیال نہیں اتا کہ ہم مٹی ہیں۔ بچے کی پیدائش، کسی وجود کو اس دنیا میں بھیجنے کے لئے لباس کا اظہار ہے۔ جس کو ہم بچہ کہہ رہے ہیں۔ وہ یہاں آنے سے پہلے پیدا ہو چکا ہے اور مختلف عالمین سے گزر کر مٹی کی دنیا میں کچھ وقت قیام کرنے آیا ہے۔ اگرچہ پیدائش کے وقت بچے کا ذہن فکشن علوم کے اعتبار سے خالی ہے لیکن کائناتی علوم سے وہ لا علم نہیں۔ جب وہ فکشن علوم کی چادر اوڑھتا ہے تو کائنات کا علم بھول کے خانے میں چلا جاتا ہے۔

          ہم کھاتے ہیں، پیتے ہیں، چلتے ہیں، بیٹھتے ہیں، سوچتے ہیں۔ معنی پہناتے ہیں اور ان تمام حرکات کو لباس سے منسوب کر دیتے ہیں۔ جب ہم اپنے جیسے لوگوں کو بے حرکت دیکھتے ہیں تو اس وقت بھی زہن نہیں کھلتا کہ ہم نے لباس کو زندگی سمجھ لیا ہے۔ جس طرح گاڑی نہیں چلتی، پیٹرول سے گاڑی کو دھکا لگتا ہے، اسی طرح زندگی لباس کو حرکت دیتی ہے۔ دنیا میں انے کا مقصد اس زندگی سے واقف ہونا ہے جو پردے میں ہے۔

**----------------------------**

 زندگی کیا ہے؟ زندگی خبرِ متواتر ہے اور تقاضوں کے روپ بہروپ میں ظاہر ہوتی ہے۔

۱۔        اطلاع آتی ہے اور مخلوق دیکھتی، سنتی، سوچتی، سمجھتی، بولتی ، چکھتی ، سوتی، جاگتی اور علم حاصل کرتی ہے۔ زندگی اطلاع کے بغیر زیرِ بحث نہیں آتی۔ اطلاع کیا ہے اور کہاں سے آتی ہے۔۔۔؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” میں خبیر ہوں۔“

۲۔       افرادِ کائنات میں دیکھنے اور سننے کا عمل تواتر سے جاری و ساری ہے۔ سماعت و بصارت کیا ہے اور کہاں سے آتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” میں سمیع و بصیر ہوں۔“

۳۔       آدمی زندگی کا تجزیہ کرتا ہے تو فہم متحرک ہو جاتی ہے۔ فہم کا Source  کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ” میں اول، آخر، ظاہر، باطن اور علیم ہوں۔“

خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ نے ارادے میں موجود پروگرام کو ظاہر کرنا چاہا تو کائنات مظہر بن گئی۔ مخلوقات میں حواس بیدار نہیں تھے۔

اللہ تعالیٰ نے پکارا۔۔۔۔۔۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اس پکار کے ساتھ زندگی کے تقاضے بیدار ہوئے اورمخلوق نے ان تقاضوں کو سب سے پہلے جس مرکز پر یکسو کیا، وہ اللہ رب العالمین کی صفات ہیں۔

          مختصر یہ کہ آدمی جسم کو اصل سمجھتا ہے جب کہ جسم لباس ہے۔اس لباس میں اللہ نے روح پھونکی ہے اور روح کو اپنی صفات کا علم عطا کیا ہے۔ جب آدمی اندر میں یکسو ہو کر روح سے واقف ہوتا ہے تو جان لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات تخلیقات پر محیط ہیں۔

اللہ حافظ


______________________________________________

× اس جملے کو اتنی مرتبہ پڑھیئے کہ اس میں مخفی معانی سمجھ میں آجائیں۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔