Topics

کرامت حضرت سیدنا عثمان بن عفان ذوالنورینؓ

 

حضرت عثمان ذی النورینؓ کے آزاد کردہ غلام محجن کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے ساتھ آپ کی ایک زمین پر گیا جہاں ایک عورت نے جو کسی تکلیف میں مبتلا تھی آپ کے پاس آ کر عرض کیا۔ اے امیر المومنین! مجھ سے زنا کا ارتکاب ہو گیا ہے۔ اس پر آپ نے مجھے حکم دیا کہ اس عورت کو نکال دو چنانچہ میں نے اس کو بھگا دیا۔ تھوڑی دیر بعد اس عورت نے آ کر پھر اسی غلطی کا اعتراف کیا۔ چنانچہ سرکار کے فرمانے پر کہ اے محجن اسے باہر نکال دو۔ میں نے دور بھگا دیا۔ اور تیسری مرتبہ اس عورت نے پھر آ کر کہا کہ اے خلیفہ وقت میں نے بلاشک و شبہ گناہ کبیرہ کیا ہے۔ میرے اوپر حد زنا جاری فرما دی جائے۔ اس پر میرے آقا حضرت عثمانؓ نے ارشاد فرمایا۔ ادنا واقف محجن! اس عورت پر مصیبت آ پڑی ہے اور مصیبت و تکلیف ہمیشہ شر و فساد کا سبب ہوتی ہے۔ تم جاؤ اور اس کو اپنے ساتھ لے جا کر اس کو پیٹ بھر کر روٹی اور تن بھر کپڑا دو۔ اس دیوانی کو میں اپنے ساتھ لے گیا اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جو میرے آقا نے فرمایا تھا یعنی میں نے آرام سے رکھا۔ تھوڑے دنوں بعد جب اس کے ہوش و حواس ٹھکانے لگے اور وہ مطمئن ہو گئی۔ تب آپؓ نے فرمایا کہ اچھا اب کھجور، آٹا اور کشمش سے ایک گدھا بھر کر کل اس کو جنگل کے باشندوں کے پاس لے جاؤ اور ان بادیہ نشینوں سے کہو کہ اس عورت کو اس کنبہ والوں اور اہل و عیال کے پاس پہنچا دیں۔ چنانچہ میں کھجوروں، کشمش اور آٹے سے بھرے ہوئے گدھے کو لے کر اس کے ساتھ روانہ ہوا۔ میں نے رستہ میں چلتے چلتے کہا کہ اب بھی تم اس بات کا اقرار کرتی ہو جس کا تم نے امیر المومنین کے سامنے اقرار کیا تھا وہ کہنے لگی، نہیں ہرگز نہیں۔ کیونکہ میں نے جو کچھ کہا تھا وہ صرف تکلیفوں اور مصیبتوں کے پہاڑ پھٹ پڑنے سے کہا تھا تا کہ حد لگا دی جائے اور مجھے مصیبتوں سے نجات مل جائے۔

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔