Topics
حضرت بلال بن حارثؓ سے
روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے شریک سفر تھے۔ مکہ
معظمہ کے راستے میں بمقام ’’عرج‘‘ پڑاؤ ڈالا اور الگ الگ خیمے نصب کئے گئے۔
میں اپنے لشکر سے نکل کر سرکار دو عالمﷺ سے ملاقات و مزاج پرسی کے لئے جب لشکر کے خیمہ میں پہنچا تو آپﷺ وہاں نہ تھے بلکہ وہاں سے دور سامنے جنگل میں تنہا تشریف فرما تھے۔ میں لپکتا ہوا جب قریب پہنچا تو شور و غوغا کی آواز میرے کانوں میں آئی۔ بس میں سمجھ گیا کہ مردان غیب کا ہجوم ہے اور اس میں وہیں دور ٹھہر گیا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ بہت سے آدمی اونچی آواز میں باتیں کر رہے ہیں اور جھگڑا ہو رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد رسول اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام مسکراتے ہوئے میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے وہیں جنگل میں عرض کیا: یا رسول اللہﷺ یہ کیسا شور تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: مسلمان جنوں اور کافر جنوں میں رہائش کے لئے نزاع تھا اور دونوں گروہ لڑتے ہوئے اس جھگڑے کے تصفیہ کے لئے میرے پاس آئے تھے ۔ میں نے ان لوگوں کا مقدمہ سن کر یہ فیصلہ کر دیا کہ مسلمان جن ’’حبش‘‘ میں اور کافر جن ’’غور‘‘ میں سکونت اختیار کریں اور آپس میں ہرگز نہ ملیں۔ اس پر وہ راضی ہو گئے اور چلے گئے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے
علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی
یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ
عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی
تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں
روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور
میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے
کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے
روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق
سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ
بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔