Topics

پرہیز و احتیاط:

                  

۱۔ مٹھاس کم سے کم استعمال کی جائے۔

۲۔ کوشش کی جائے کہ کسی قسم کا نشہ استعمال نہ کیا جائے اور اگر عادت ہے تو کم سے کم استعمال میں آئے۔

۳۔ کھانا آدھا پیٹ کھایا جائے۔

۴۔ ضرورت کے مطابق نیند پوری کی جائے اور زیادہ دیر بیدار رہے۔

۵۔ بولنے میں احتیاط اختیار کی جائے، صرف ضرورت کے مطابق بولا جائے۔

۶۔ عیب جوئی اور غیبت کو اپنے قریب نہ آنے دے۔

۷۔ جھوٹ کو اپنی زندگی سے یکسر خارج کر دے۔

۸۔ مراقبہ کے وقت کانوں میں روئی رکھے۔


۹۔ مراقبہ ایسی نشست سے کرے جس میں آرام ملے لیکن یہ ضروری ہے کہ کمر سیدھی رہے اس طرح سیدھی رہے کہ ریڑھ کی ہڈی میں تناؤ واقع نہ ہو۔

۱۰۔ مراقبہ کرنے سے پہلے ناک کے دونوں نتھنوں سے آہستہ آہستہ سانس لیا جائے اور سینہ میں روکے بغیر خارج کر دیا جائے۔

سانس کا یہ عمل سکت اور طاقت کے مطابق پانچ سے اکیس بار تک کرے۔

۱۱۔ سانس کی مشق شمال رخ بیٹھ کر کی جائے۔

۱۲۔ پانچ وقت نماز ادا کرنے سے پہلے مراقبہ میں بیٹھ کر یہ تصور قائم کیا جائے کہ مجھے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ آہستہ آہستہ یہ تصور اتنا گہرا ہو جاتا ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے ہر عمل اور ہر حرکت میں یہ دیکھنے لگتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

مراقبہ کی یہ کیفیت مرتبہ احسان کا ایک درجہ ہے۔ جب کوئی بندہ اس کیفیت کے ساتھ نمازادا کرتا ہے تو اس کے اوپر غیب کی دنیا کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ بتدریج ترقی کرتا رہتا ہے۔ فرشتے اس سے ہم کلام ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ رکوع و سجود میں شریک ہوتے ہیں۔ یہی وہ صلوٰۃ(مراقبہ) ہے جو حضور علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق مومن کی معراج ہے۔۔۔۔۔۔!

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔