Topics

ٹا ئم اینڈ اسپیس ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ فروری 2022

 

آ ج کی با ت

 

               زندگی ٹا ئم اور اسپیس میں رواں دواں ہے ۔ آدمی ، انسان ، جنا ت ، فرشتے ، درخت ، پا نی ، پرندے اور پہا ڑ۔ سب ٹا ئم اینڈ اسپیس کا مظا ہر ہ ہیں ۔ ٹا ئم زما ن اور اسپیس مکا ن ہے ۔ فر د مخصوص جگہ پر خا ص سمت میں بیٹھا ہوا ہے ۔ فر د ، سمت اور جگہ مکا ن (اسپیس ) ہے ۔ وہ کس زما نے میں ظا ہر ہے ۔ اس کے اندر زندگی اور زندگی کے لیے حر کت جہاں سے آرہی ہے ، یہ زما ن (ٹا ئم) ہے ۔ زما ن میں حر کت مکا ن میں مظا ہر ہ ہے ۔

              با رہ سال کا بچہ خو د سے ، والدین سے اور ما حو ل سے کا فی حد تک واقف ہوتا ہے ۔ با رہ سال کی عمر سے آگے بڑھ کر تیر ہ سا ل کا پھر بیس ، تیس  اور ساٹھ سال کا ہو جا تا ہے تو ساٹھ سال کے بچے کو ما ضی کی زندگی سے قربت ہے ۔ زما نیت اور مکا نیت کے نقو ش اس کے اندر منتقل ہو ئے ہیں ۔ یا د ہو تا ہے کہ میں کس اسکول سے میٹرک کیا ، کو ن کو ن اساتذہ تھے ، کس کی راہ نما ئی سے تربیت اچھی ہو ئی ، کس کی دوستی سے بری عادتیں منتقل ہو ئیں، امتحا ن کا نتیجہ اچھا یا برا کیوں آیا ۔ با رہ سال سے ساٹھ سال کی زندگی کا حا فظہ ، ٹا ئم ہے ۔ اس زندگی کے نقوش اسپیس ہیں اور کسی اسپیس (ارض ، اسکرین ) پر ظا ہر ہو تے ہیں ۔

              فر د ما ضی کے ساتھ حا ل میں بھی زندگی گزارتا ہے ۔ جس طر ح با ر ہ سال کی عمر میں وہ زمین پر چلتا پھرتا تھا ، زمین پر سوتا تھا ، زمین پر اٹھتا بیٹھتا تھا ، اسی صورت سے وہ ساٹھ سال کی عمر میں بھی زمین پر چلتا پھر تا ہے ، باتیں کرتا ہے ، علم حا صل کر تا ہے ، تجر با ت سے گزرتا ہے اور زندگی کے تقا ضے پو رے کرتا ہے ۔

              ما ضی کی زندگی ہمیں تا د ہے ۔ سیکنڈ سے کم وقت میں بچپن کا تصور ابھرتا ہے جوانی کی تصویریں متحرک نظر آتی ہیں ، کسی رشتہ دار کا عکس ظا ہر ہو تا ہے اور اس طر ح بڑھتا ہے کہ ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں ۔ ہما رے ایک بزر گ تھے ، ہم ان کے پا س بیٹھتے تھے ، ان کے دل میں اللہ کی مخلو ق کا درد تھا ، وہ سب کے کا م آتے تھے ۔ ما ضی کی یا دداشت فوراً دما غ کے اسکرین پر نشر ہو جا تی ہے ۔

              زندگی کے ایک رخ میں ہم خو د کو ٹھو س ، وزنی اور قید میں محسو س کر تے ہیں ۔ اس کا تعلق اس زمین سے ہے جہا ں فاصلے غا لب ہیں ۔ جب یہی زندگی ما ضی بن کر حا فظے میں ابھر تی ہے تو نقوش کا وزن بے وزن ہو جا تا ہے ، ہم ذہنی طو ر پر ، موجو د ہ دور سے گزرے ہو ئے دور میں داخل ہو کر خو د کو آزاد محسوس کر تے ہیں تو فاصلے مغلوب ہو جا تے ہیں ۔ مفہوم یہ ہے کہ جب کو ئی شے اپنی اصل سے دور ہو تی ہے تو اس میں وزن پیدا ہو تا ہے ۔ یہ دراصل زمین سے چپک (ثقل ) کا وزن ہے ۔ اورجب وہ اصل سے قریب ہو تی ہے تو خدوخا ل موجود ہو تے ہو ئے بے وزن ہو جا تی ہے ۔

**----------------------------**

              زندگی گزارنے کا خیا ل کہیں سے موصول ہو تا ہے اور جو خیا ل آیا ہے ، اس کی بسا ط پر زندگی گزرتی ہے ۔ علم کا خیا ل آنے پر غوروفکر اور تحقیق کی ۔ شا دی کا خیال آیا تو شا دی ہو ئی ۔ نیند سے جا گنے کا خیا ل آیا تو جا گ گئے اور جا گنے کے بعد سونے کا خیا ل آتے ہی سوگئے ۔ غور طلب ہے کہ اطلا ع متا ثر ہو جا ئے تو نیند اڑجا تی ہے ، فر د سو نہیں سکتا۔ پا نی پینے کا خیال نہ آئے تو پیا س ہو نا ۔ یا ۔ نہ ہو نا زیر بحث آجا تا ہے ۔

              ایک صاحب علا ج کے لئے حا ضر ہو ئے اور بتا یا کہ کم و بیش آٹھ سال ہو گئے ہیں ، میں نے روٹی نہیں کھا ئی ۔ جو کما تا ہو ں ، علا ج پر خرچ ہو جا تاہے ۔

              میں نے پو چھا ، آٹھ سال سے روٹی نہیں کھا ئی ۔ آپ زندہ کیسے ہیں ؟

              بتا یا ، بسکٹ آتے ہیں بچوں کے، پا نی میں گھول کر پیتا ہوں ۔

              گلے کا معائنہ کیا تو وہ ٹھیک تھا ۔ میں نے زبر دستی کھا نے کو کہا تو آنکھیں سرخ ہو گئیں اور پا نی بہنے لگا مگر کھا نا حلق میں نہیں اترا۔ وہ رونے لگے ۔ ان سے کا فی دیر با ت کی ۔ باتوں باتوں میں عقدہ کھلا کہ ان کے ذہن میں یہ با ت آگئی ہے کہ جب کھا نا کھانے کی نا لی میں جا ئے گا اور میں سانس لوں گا تو سانس کی نالی الگ ہے اور کھا نے کی الگ۔

              پھر ان کے ساتھ آئے ہو ئے صاحب سے کہا کہ صبح ان کو قصا ئی کی دکان پر لے جا کر دکھا ئیے کہ کھا نے کی نا لی کا سانس کی نا لی سے کو ئی تعلق نہیں۔

              اگلے دن وہ قصا ئی کی دکا ن سے ہو کر آئے ۔ ان سے پو چھا ، روٹی کھا ئیں گے ؟ انہوں نے کہا، جی اگر نگل لی تو کھا لوں گا۔ میں چاول سے شروع کیا۔ انہوں نے گن کے چاول کے چار دانے کھا ئے ۔چاروں دانے حلق میں اتر گئے توان کی خو شی کا ٹھکا نا نہیں تھا ۔ کچھ دنوں میں وہ صاحب پیٹ بھر کر روٹی کھا نے لگے۔

              با ت صر ف اتنی تھی کہ ان کا یقین متا ثر ہو گیا تھا۔

**----------------------------**

              زندگی کی حیثیت اطلا ع کے سوا کچھ نہیں ۔ اطلا ع میں ٹا ئم ا ور اسپیس کی مقدا ریں ہو تی ہیں۔ کہیں سے اطلا ع آتی ہے ، ہم کھا نا کھاتے ہیں ، کھا نا کھانے کا عمل ریکا رڈ ہوتا ہے ۔ ریکا رڈ کہا ں چلا جا تا ہے۔؟ یا د کر تے ہیں تو سامنے آجا تا ہے ۔ اطلا عا ت جہا ں سے ملتی ہیں اور اعما ل جس مقا م پر ریکارڈ ہو تےہیں ، وہ زما نیت ہے ۔ زما نیت کیا ہے ، اللہ نے اس کا علم (جتنا اللہ نے چا ہا ) اولی البا ب خواتین و حضر ات کو عطا کیا ہے ۔

        " آسما نوں اور زمین کی پیدا ئش میں اور رات دن کے با ری با ری سے آنے میں اولی الالبا ب کے لئے نشا نیا ں  ہیں جو اٹھتے ، بیٹھتے اور لیٹتے ہر حال میں اللہ کو یا د کر تے ہیں اور آسما نوں اور زمین کی ساخت میں غور و فکر کر تےہیں ۔ " (ال عمران : ۱۹۰۔۱۹۱)

          با طنی علو م کی شر ح یہ ہے کہ آدمی اطلا ع کا نا م ہے اور اطلا ع کا مظا ہر ہ ٹا ئم اور اسپیس میں ہو تا ہے ۔ اطلا ع  کہیں سے آتی ہے اور ریکا رڈ ہو جا تی ہے ۔ اگر ریکا رڈ نہ ہو تو کو ئی شخص اپنا نام یا د نہیں رکھ سکتا۔

        تفکر:۔  بچہ پیدا ہو ا۔ نا م عبد اللہ رکھا گیا ۔ عبداللہ کی زندگی برا بر ریکارڈ ہو رہی ہے ۔ وہ جس وقت چا ہتا ہے ، ریکا رڈ دیکھ لیتا ہے ۔ جب وہ دس دن کا تھا ۔ عبد اللہ تھا ، ساٹھ سال میں بھی عبد اللہ ہے اور سو سا ل کا ہو گا جب بھی  عبد اللہ ہے ۔ پھر دس دن ، ساٹھ اور سو سال کیا ہے ، کہا ں ذخیر ہ ہیں اور عبداللہ کو ن ہے۔۔۔؟ ساٹھ سال کے عبداللہ کو دس دن کے بچے کی تصویر دکھا ئی جا ئے کہ یہ تم ہو تو وہ نہیں پہچانتا کیوں کہ دونوں کے ظا ہر میں زمین آسما ن کا فر ق ہے ۔ پھر نا م تبدیل کیوں نہیں ہو تا ؟

              محترم خواتین و حضرا ت ! آج کی با ت غور سے پڑھیئے ۔ پنسل اٹھا یئے اور ایک سال کو ساٹھ سال کے دن رات سے ضر ب دیجیے ۔ بتا ئیے ساٹھ سال کتنے دن رات کا حا صل ہے ۔ نیز یہ کہ ایک اور ساٹھ سال کی درمیا نی اسپیس کہا ں چلی گئی ۔ نظر کیوں نہیں آتی ۔۔۔؟

اللہ حا فظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔