Topics

ٹا ئم اور اسپیس۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ دسمبر2022


آج کی با ت

          عالم ِ با لا سے جب تصویر عالم ِ زیریں میں مظا ہر ہ کرتی ہے تو یہ تولد یا پیدا ئش ہے ۔ پیدا ئش کے بعد بچہ روتا ہے ۔ اگر نہیں روتا تو اسے رلا یا جا تا ہے ۔ بچہ تین ما ہ بعد اس قا بل ہو تا ہے کہ چیزوں کا دراک کر سکے ۔ ما ں با پ بچے کو زبا ن سکھا تے ہیں اور اپنی دانست میں لفظ کو آسان کر کے بو لتے ہیں تو بچہ قہقہے کے ساتھ سنتا ہے ، ہنستا ہے ، مسکرا تاہے ، چیزوں کو دیکھتا ہے اور دیکھنے کے بعد پہچانتا ہے ۔ جب بچہ شعو ر کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو--- واقعا ت کو ذہنی استعداد کے مطا بق سمجھتا ہے ۔

          بچے کا ذہن فلم ہے جس میں مادری زبا ن کا ذخیرہ ہو تا ہے ۔ یہ زبا ن وہ بچپن سے سنتا ہے اور سن کر نقل کر تا ہے ۔ جو کچھ وہ بو لتا اور دیکھتا ہے ، اس کا تعلق لمحا ت سے ہے  جن کا مظا ہر ہ اسپیس میں ہو تا ہے ۔ ہر شے ٹا ئم اور اسپیس کے ساتھ یا دداشت میں ریکا رڈ ہو تی ہے جیسے پُر فضا مقا م پر یکسو ذہن سے با رش کی آواز سننے کا تجر بہ ۔ مہینے اور سال گزرتے ہیں ، آدمی روزو شب کے معمولا ت میں مصروف ہو جا تا ہے لیکن جب کبھی با رش ہو تی ہے ، پانی کی آواز سن کر حا فظہ اس منظر کو دہرا تا ہے جب خا مو ش فضا میں با رش کی بو ندیں سما عت بنی تھیں۔

          ہر با رش۔ تالا ب میں دائروں کی طر ح یا دداشت میں محفوظ لمحا ت اور ان لمحا ت کی تصویروں کو دما غ کی اسکرین پر لے آتی ہے ۔ با رش ایک ہے مگر فاصلے کے لحا ظ سے ما ضی اور حا ل میں تقسیم ہے ۔ دونوں کے درمیا ن مہینوں اور برسوں کی مسافت ہے ۔ جب با رش کسی اور مقام پر خو د کو دہراتی ہے تودونوں لمحا ت ایک ہو جا تےہیں۔

**----------------------------**

لمحا ت وقفہ ہیں اور وقفہ ادراک(information) ہے ۔ ادراک سے مراد زما نیت یا مکا نیت کا تذکر ہ ہے ۔ بچے کا وجو د مکا نیت ہے مگر اس کی پیدا ئش ، نشو ونما کے مرا حل ، دن کا رات میں داخل ہو نا اور رات کا دن میں بننا حر کت کے تا بع ہے جو زما نیت ہے ۔ ادراک بڑے سے بڑے وقفے کو چھو ٹی سے چھو ٹی اسپیس میں بیا ن کر تا ہے اور چھو ٹی سے چھوٹی اسپیس کو بڑے سے بڑے وقفے پر محیط کر دیتا ہے ۔

êنوے کا آدمی جب آپ بیتی سنا تا ہے تو نو ے سال کی مسافت ایک لمحے میں طے کر کے بچپن میں داخل ہو تا ہے ، لڑکپن کو بیا ن کرتا ہے اور جوانی کی یادوں میں کھو جا تا ہے جب کہ ہو نا یہ چا ہیے کہ جس طر ح نوے سال کے دن رات گزار کر وہ نوے سال کا ہوا، اسی طرح بچپن میں واپس جا نے کے لیے بھی نوے سال کا عرصہ گزرے مگر ایسا نہیں ہوتا ۔ نو ے سال کی طویل اسپیس جس کو آدمی اپنی عمر کہتا ہے ، سوالیہ نشان ہے ۔

êمحقق زمین سے سور ج کا فاصلہ نو کروڑ تیس لا کھ میل بتا تے ہیں۔ اس لحا ظ سے ہمیں سو ر تک پہنچنے کے لئے کئی سو سال درکا ر ہیں مگر جب سور ج مغر ب کی جا نب ما ئل بہ سفر ہو تا ہے  اور ہم اسے دیکھتے ہیں تو نگا ہ ایک لمحے میں نو کروڑ تیس لا کھ میل کی اسپیس سے گز ر جا تی ہے ۔

êہم دروازے سے دس قدم دور بیٹھے ہیں ۔ با ہر جا نے کا ارادہ کر تے ہیں تو قدموں سے پہلے نگا ہ دروازے تک پہنچ جا تی ہے ۔

**----------------------------**

          ہم اسپیس کو جس طر ح سمجھتے ہیں ، وہ الوژن ہے ۔ ہوتا یہ ہے کہ جسم اسپیس کی تقسیم کو قبو ل کرتا ہے  جب کہ نگا ہ اسپیس کی نفی کر دیتی ہے ۔ مثلا ً لاکھوں میل دور چاند ستا رے ہوں، ایک یا دوفٹ کے فاصلے پر پا نی کا گلا س ہو، میز پر کتا ب ہو، قریب قلم رکھا ہو، کھڑکی کے با ہر پیپل کا درخت ہو، اونچی شا خ پر کویل کو ک رہی ہو اور چھا ؤں میں بچے کھیلتے ہوں ۔ جسم ان تک پہنچنے کے لئے قدم در قدم محتا ج ہے جب کہ نگا ہ ایک نظر میں فا صلہ طے کر لیتی ہے ۔ نگا ہ کے لئے ایک با لشت اور لا کھوں میل فاصلہ برا بر ہے ۔*

          سما عت ، شا مہ اور گویا ئی  پر بھی توجہ کیجیے ۔ ہم جسما نی فاصلہ طے کئے بغیر دیوار کے اس پا ر کی آواز سن لیتے ہیں ۔ با غ میں داخل ہو نے سے پہلے خو ش بو بتا دیتی ہے  کہ کس پھو ل کی ہے ۔ بچہ ما ں کو پکا ر تا ہے تو ما ں کو بچہ بعد میں نظر آتا ہے ، آواز پہلے آجا تی ہے ۔ دوست یا د آتا ہے  (جس سے برسوں  پہلے ملا قا ت ہو ئی) ، دما غ میں اس کی تصویر بنتی ہے اور تھو ڑی دیر میں دروازے پر گھنٹی بجتی ہے ۔ روزوشب کے معمو لا ت سے وضا حت ہو تی ہے کہ ہر حر کت اسپیس کی پا بند ہے اور ہر حر کت اسپیس کی نفی کر رہی ہے ۔

          قا نون : آدمی جب چلتا ہے ، کچھ دیکھتا ہے یا کو ئی با ت سنتا ہے تو اسپیس قدموں سے لپٹتی ہے ۔ اگر وہ دیکھ لے کہ میں اسپیس کے لپٹنے کے وجہ سے چل رہا ہوں ، سن رہا ہوں، دیکھ رہا ہوں، تو اسپیس کے اوجھل اور ظا ہر ہو نے کے قانون سے واقف ہو سکتا ہے ۔

**----------------------------**

          کا ئنا ت اور ہما رے درمیا ن فا صلہ نہیں ۔ ہم اسپیس کی تقسیم کو تسلیم کر لیا ہے اس لئے دوری نظر آتی ہے ۔ کبھی یہ دوری ایک اسپیس  کو ہزاروں لمحا ت میں ظا ہر کر تی ہے  اور کبھی اسپیس کے ہزا روں ٹکڑے ایک لمحے میں جڑ جا تےہیں ۔ جو چیز کروڑوں میل کے فاصلے کو لمحے سے روشنا س کر تی ہے ، وہ ادراک (information)ہے ۔

          ادراک کیا ہے ۔ ؟ ایک نقطہ ہے ۔ نقطے کا پھیلنا اور سمٹنا بھی ادراک ہے ۔ نقطہ سمٹتا ہے تو رات کی زندگی بنتی ہے  اور پھیلتا ہے تویہ دن کی زندگی کا تذکرہ ہے ۔ ادرا ک کی یہ دونو ں طر زیں اندر میں مو جو د ہیں اور ہم اس دائرے سے روزوشب گزر تے ہیں ۔

          قر آن کریم میں ارشا دہے ۔

"رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ۔ بے جان میں سے جاندا ر کو نکالتا ہے اور جاندار میں سے بے جان کو اور جسے چاہتا ہے ، بے حسا ب رزق دیتا ہے ۔ " (اٰل عمران : ۲۸)

رات کو اسپیس (نیند) میں زمین و آسما ن کے فاصلے بے معنی ہو جا تے ہیں جب کہ دن کی اسپیس کا مظا ہر ہ ما دی جسم کی بیداری سے ہو تا ہے ۔ جب حر کت جسم کے ذریعے ہو تی ہے تو اسپیس ٹکڑوں میں نظر آتی ہے  اور جب نگا ہ کا ذکر ہوتا ہے  تو اسپیس اوجھل ہو جا تی ہے ۔ رات کا دن اور دن کا رات میں داخل ہو نا یہ ہے کہ چھو ٹی اسپیس بڑی اسپیس میں داخل ہو تی ہے اور بڑی اسپیس چھو ٹی اسپیس میں چھپ جا تی ہے ۔ یہی حا ل زندگی اورمو ت کا ہے ۔ مو ت سے مراد مٹی میں تبدیل ہو نا ہے ۔

          قا رئین سے گزار ش ہے کہ "آج کی با ت" غو ر سے پڑھئے اور سوچنے کہ نگا ہ کے ساتھ فزیکل با ڈی کا عکس دما غ کی اسکرین پر تصویر کی طر ح نظر آتا ہے ۔ تصویر کیا ہے اور اس کا ادریے میں بیا ن کئے گئے رمو ز سے کیا تعلق ہے ؟

          اداریے میں اسپیس کے با رے میں کچھ حقا ئق بیا ن ہو ئے ہیں ۔ یکسو ہو کر پڑھئے ۔ ذہن میں کتا ب کے صفحا ت کھلیں گے ۔ پہلے دھند سے گزر ہوگا پھر روشنی الفاظ کو واضح کر ے گی ۔ جو ذہن میں آئے گا ، لکھ کر ادارہ "ما ہنا مہ قلندر شعور " کو بھیج دیجئے ۔

          اداریے کو قرآن کریم کی اس آیت کی روشنی میں سمجھئے،

                   "سن رکھو! اللہ ہر شے پر محیط ہے ۔" (حٰم السجدۃ : ۵۴)

                                                                                      اللہ حا فظ

                                                                             خوا جہ شمس الدین عظیمی

_______________________________________________________

*بتا یا جا تا ہے کہ سور ج زمین سے نو کروڑ تیس لا کھ میل اور چا ند زمین سے ڈھا ئی لا کھ میل فاصلے پر ہے ۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔