Topics

نماز اور مراقبہ

 

عالم رنگ و بو میں جتنی اشیاء موجود ہیں وہ سب روشنیوں کے تانے بانے پر نقش ہیں۔ اور اس نقش کی مثال یہ ہے جیسے کپڑے پر کوئی پرنٹ اور قالین میں کوئی تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے۔ جس طرح کسی کپڑے کو دیکھنے کے بعد اس کے اوپر رنگ اور نقش و نگار ہمیں نظر آتے ہیں اور تانے بانے کے جن باریک تاروں سے کپڑا بُنا ہوا ہے وہ ہمیں نظر نہیں آتا، اسی طرح انسان بھی مختلف رنگوں اور روشنیوں سے بُنا ہوا ہے۔ مادے سے بنا ہوا گوشت پوست ہمارے سامنے ہے لیکن یہ گوشت پوست کس بساط پر قائم ہے یہ ہماری ظاہری اانکھ نہیں دیکھ سکتی۔ اگر مادہ کی شکست و ریخت کو انتہائی حدوں تک پہنچا دیا جائے تو محض رنگوں کی جداگانہ شعاعیں باقی رہ جائیں گی۔ تمام مخلوقات اور موجودات کی مادی زندگی ایسے ہی کیمیائی عمل پر قائم ہے۔ فی الحقیقت لہروں کی مخصوص مقداروں کے ایک جگہ جمع ہو جانے سے مختلف مراحل میں مختلف نوعیں بنتی ہیں۔ اس فارمولے کو بیان کرنے سے منشاء یہ ہے کہ آدمی کی اصل مادہ نہیں ہے بلکہ آدمی کی اصل لہروں کے تانے سے بُنی ہوئی ایک بساط ہے۔ ایک طرف یہ لہریں انسانی جسم کو مادی جسم میں پیش کرتی ہیں اور دوسری طرف یہ لہریں انسان کو روشنیوں کے جسم سے متعارف کراتی ہیں ۔ جب تک کوئی آدمی مادے کے اندر قید رہتا ہے اس وقت تک وہ قید و بند اور صعوبت کی زندگی گزارتا ہے اور جب وہ اپنی اصل یعنی روشنی کے جسم سے واقف ہو جاتا ہے تو قید و بند، آلام و مصائب، پیچیدہ اور لاعلاج بیماریوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ اصلی آدمی یعنی روشنی کے آدمی سے واقفیت، زمان و مکان(Time and Space) سے آزاد ہونے کی علامت ہے۔ یہ وہی زندگی ہے جہاں غیبی علوم منکشف ہوتے ہیں اور قدم قدم اللہ کے عرفان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی قربت اور اپنا عرفان حاصل کرنے کے لئے قوانین اور ضابطے بنائے ہیں۔ جو لوگ ان قوانین اور ضابطوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں بلاشبہ وہ لوگ اللہ کے دوست ہیں۔ اللہ کی دوستی حاصل کرنے کے لئے قرآن مجید نے جس پروگرام کا تذکرہ کیا ہے اس میں دو باتیں بہت اہم اور ضروری ہیں۔ ’’قائم کرو صلوٰۃ اور ادا کرو زکوٰۃ‘‘قرآنی پروگرام کے یہ دونوں اجزاء، نماز اور زکوٰۃ، روح اور جسم کا وظیفہ ہیں۔ وظیفہ سے مراد وہ حرکت ہے جو زندگی کی حرکت کو قائم رکھنے کے لئے لازم ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

’’جب تم نماز میں مشغول ہو تو یہ محسوس کرو کہ ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں یا یہ محسوس کرو کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔‘‘

اس ارشاد کی تفصیل پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ نماز میں وظیفہ اعضاء کی حرکت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہنے کی عادت ہونی چاہئے۔

ذہن کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا روح کا وظیفہ ہے۔ اور اعضاء کا حرکت میں رہنا جسم کا وظیفہ ہے۔ قیام صلوٰۃ کے ذریعے کوئی بندہ اس بات کا عادی ہو سکتا ہے کہ اس کے اوپر زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی طرف متوجہ رہنے کا عمل جاری و ساری ہے۔
اس کتابچہ میں سوال و جواب کے آسان طریقے پر بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا عرفان کس طرح حاصل کر سکتے ہیں۔
سوال: ایسی نماز جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق حضور قلب اور خواہشات، منکرات سے روک دے کس طرح ادا کی جائے؟

جواب: نماز کی فرضیت ہمیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منتقل ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حضور پاکﷺ پر نماز کب فرض ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نبوت سے پہلے ہی ایسا ذہن عطا فرمایا تھا جس کا رخ نورانی دنیا کی طرف تھا اور نورانی دنیا کی طرف متوجہ رہنے کے لئے حضورﷺ نے وہ تمام اعمال و اشغال ترک فرما دیئے تھے جن سے ذہن کثیف دنیا کی طرف زیادہ مائل رہتا تھا۔ حضورﷺ کی مقدس زندگی ہمارے سامنے ہے۔ آپﷺ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، کبھی خیانت نہیں کی۔ آپﷺ سے کبھی ایسا کوئی عمل سرزد نہیں ہوا جو بے حیائی کے زمرے میں آتا ہو۔ آپﷺ نے ہمیشہ بے کسوں کی دستگیری کی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ گوشہ نشیں ہو کر اور ہر طرف سے ذہن ہٹا کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے۔ اور آپﷺ نے اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف اتنی زیادہ مرکوز فرمائی کہ قربت سے سرفراز ہوئے اور معراج میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’ہم نے بندے سے جو دل چاہا باتیں کیں اور جو کچھ دل نے دیکھا جھوٹ نہیں دیکھا۔‘‘

(القرآن)

نماز میں حضور قلب کے لئے ضروری ہے کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوۂ حسنہ پر عمل کیا جائے۔ جس حد تک حضورﷺ کے اسوۂ حسنہ پر کسی امتی کا عمل ہو گا اسی مناسبت سے نماز میں حضوری نصیب ہو جائے گی۔ قلب میں جلا پیدا کرنے کے لئے ان چیزوں سے دوری پیدا کرنی ہو گی جو ہمیں پاکیزگی، صفائی اور نورانیت سے دور کرتی ہیں۔ ہمیں اس دماغ کو رد کرنا ہو گا جو ہمارے اندر نافرمانی کا دماغ ہے۔ اس دماغ سے آشنائی حاصل کرنا ہو گی جو جنت کا دماغ ہے اور جس میں تجلیات کا نزول ہوتا ہے۔ یہی دماغ روح کا دماغ ہے۔ آسان الفاظ میں یوں کہنا چاہئے کہ جب تک کوئی بندہ اپنی روح سے وقوف حاصل نہیں کر لیتا اس وقت تک نماز میں حضور قلب نصیب نہیں ہو گا۔

سوال: روح کا عرفان کیسے حاصل کیا جائے؟

جواب: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نبوت کے اعلان سے پہلے دنیاوی دلچسپیوں سے عارضی طور پر تعلق خاطر ختم کر کے بستی سے باہر بہت دور ویرانے میں گوشہ نشینی اختیار کر کے غار حرا میں اپنی تمام ذہنی صلاحیتوں کو ایک نقطہ پر مرکوز فرمایا جس کے نتیجے میں حضورﷺ روح سے واقف ہو گئے۔

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔