Topics

معراج- ماہنامہ قلندر شعور۔نومبر 2018

’’دل نے جو دیکھا، جھوٹ نہیں دیکھا۔‘‘ (النجم: ۱۱)

غیب و شہودکا تعلق وسعت نظر سے ہے۔ وسعت کی مناسبت سے ادراک ہوتا ہے۔ ادراک فہم ہے، فہم کنہ کاوقوف ہے، واقفیت مشاہدہ ہے اور مشاہدہ محدود ذہن کا درجہ بہ درجہ لامحدود سے متعارف ہونا ہے۔ دیکھنے کی تعریف یہ ہے کہ مظاہر شعور میں آجائیں۔ حدِّ نگاہ سے باہر بے شمار مناظر غیب ہیں لیکن غیب نہیں ہیں۔ کائنات عالمین میں تقسیم اور باطن میں ڈائی مینشن یا زاویوں سے آزاد ہے۔ جب تک شے مظہر نہ بنے، نظر نہیں آتی۔ نقش و نگار دیکھنے کی وجہ یہ ہے کہ دیکھنے والا خود ایک ڈائی مینشن (نقش و نگار) ہے۔ یعنی ہر نوع اور نوع کے افراد کی مقداریں معین ہیں جن کے سبب انفرادیت قائم ہے۔

مثال: زید ’’ڈائی مینشن‘‘ ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے سمتوں میں دیکھتا ہے۔

زید میں ایک وجود ایسا ہے جو حدود میں ہوتے ہوئے بھی قیود سے آزاد ہے۔ ہر زون اپنی حیثیت میں لامحدود مگر محدود ہے۔

’’آج کی بات‘‘ پڑھیئے اور رموز لکھئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دیکھنے کی طرزیں پانچ ہیں۔ -1 دماغ میں دیکھنے کے بعد آنکھوں سے دیکھنا۔ -2 خیال میں دیکھنا -3 خواب میں دیکھنا -4 موت کے بعد اعراف میں دیکھنا -5 دل کا دیکھنا

فرد دماغ کے دیکھنے کو دیکھتا ہے اور اسے آنکھوں سے دیکھنا گمان کرتا ہے۔ دماغ میں تصویر نہ بنے تو آنکھ نہیں دیکھتی۔ تصویر اس وقت بنتی ہے جب پلک جھپکتی ہے جیسے کیمرے کا شٹر گرتا ہے۔ پلک جھپکے بغیر دیکھنے سے ڈائی مینشن غائب اور جھپکنے سے غالب ہوتی ہے۔

شٹرگرنا یا پلک جھپکنا۔۔۔ اسپیس کی تقسیم ہے۔ دماغ کی آنکھ وہم کو خیال ، خیال کو تصور، تصور کو احساس اور احساس کو مظہر بناتی ہے۔

آدمی خیال میں کہاں سے یہاں اور یہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ خیال کتنا ہی آزاد کیوں نہ ہو، جب تک آدمی جسم کی گرفت میں ہے، خیال الوژن کے تابع ہے۔ خیال۔۔۔ آنکھ کے دیکھنے سے پہلے کی اسٹیج ہے۔ خواب شعور سے دوری ہے مگر اسپیس کسی حد تک مغلوب ہونے کے باوجود غالب ہے اس لئے کہ نیند کے بعد بھی عالمین ہیں۔ اعراف میں بھی خواب کی نگاہ کام کرتی ہے مگر یہ نگاہ matter سے الگ ہے، اس میں خمیر شامل نہیں۔

نگاہ کی مذکورہ طرزوں میں کسی نہ کسی طرح الوژن کا پہلو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرز کو سند عطا کی ہے وہ دل کا دیکھنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رجب کی ستائیسویں شب حضور پاکؐ آرام فرمارہے تھے کہ حضرت جبرائیل تشریف لائے، سینہ مبارک آب زم زم سے دھویا اور پھر معراج کا سفر شروع ہوا۔ سب سے پہلے بیت المقدس تشریف لے گئے جہاں آپؐ نے مسجد اقصیٰ میں انبیاء علیہم السلام کی جماعت کی امامت فرمائی۔ بیت المقدس سے عالم بالا کی طرف روانہ ہوئے۔ آسمانوں کی سیر کی۔ ’’بیت المعمور‘‘ دیکھا۔ حضرت جبرائیل سدرۃ المنتہیٰ تک ہم راہ رہے اس کے بعد آگے جانے سے معذرت کرلی اور عرض کیا، میری پہنچ یہیں تک ہے۔

اگر ایک سرموئے برتر پرم فروغ تجلی بسوز و پرم

’’اگر میں بال برابر بھی آگے بڑھوں تو تجلی سے میرے پر جل جائیں گے۔‘‘

محبوب رب العالمینؐ نے آگے کا سفر قاصد کے بغیر طے کیا۔ حجاب عظمت کا معائنہ کیا۔ پھر آپؐ پر حجاب کبریا منکشف ہوا۔ بعد ازاں حجاب محمود میں تجلیات کا مشاہدہ کیا اور مقام محمود میں خالق کائنات اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔

’’قسم ہے تارے کی جب وہ غروب ہوا۔ بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بھٹکا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو وحی ہے جواس پر نازل ہوتی ہے۔ اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آیا جب کہ وہ بالائی افق پر تھا۔ پھر قریب آیا اور قریب آیا۔ یہاں تک کہ دوکمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلہ رہ گیا۔ باتیں کیں اللہ نے اپنے بندہ سے جو باتیں کیں۔ دل نے جو دیکھا ، جھوٹ نہیں دیکھا۔‘‘ (النجم: ۱۔۱۱)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قرآن کریم میں دل کے تین مدارج بیان ہوئے ہیں۔ ۱۔ قلب ۲۔ صدر ۳۔ فواد قلب خول ہے۔ خول کی صفت گھٹنا، بڑھنا اور گھٹنا ہے۔

صدر خول میں معنی اور مفہوم کا پیدا ہونا ہے۔

فواد اطلاع یا حیات کا منبع ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ’’فواد‘‘ کو دل کا دیکھنا قراردیا ہے۔ دل کا دیکھنا کیا ہے۔۔۔؟

خالق کائنات نے ہر مخلوق کو شکل و صورت میں تخلیق کیا ہے مگر خود ڈائی مینشن سے آزاد ہے اور یہ خصوصیت اللہ تعالیٰ کی ہر صفت میں نمایاں ہے۔ قادر و قدیر اللہ بے نیاز ہے، بے حساب رزق عطا فرماتا ہے، وہ کسی کی اولاد ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے۔ فرماں بردار و نافرمان۔۔۔ دونوں کو وسائل مہیا کرتا ہے۔ وہی اول، آخر، ظاہر اور باطن ہے۔ تمام درخت قلم اور سمندر جیسے سات سمندر روشنائی بن جائیں۔۔۔ اللہ کی صفات کا احاطہ ممکن نہیں۔ جس نے جتنا جانا۔۔۔ وہ فہم کی حد تک ہے۔ اللہ فہم و ادراک سے ماورا ہے۔

اس کے برعکس مخلوق زمان و مکان کی پابند اور وسائل کی محتاج ہے۔ مخلوق میں حرکت نہ ہو تو وجود زیربحث نہیں آتا۔ حرکت کا منبع خالق کائنات کا امر ہے۔ مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور وہ خود بھی کسی کی اولاد ہے۔ مخلوق کثرت میں ہے جب کہ اللہ ’’احد‘‘ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو صلاحیت بخشی ہے کہ وہ ڈائی مینشن سے آزاد ذہن سے متعارف ہو۔

مادی دنیا میں دیکھنے کی طرز زاویوں کی پابند ہے۔ مثلاً عمارت چھ زاویوں کی تعمیر ہے مگر دیکھنے والا ایک وقت میں ایک زاویہ سے دیکھتا ہے۔ بیج میں درخت موجود ہے لیکن جب تک بیج بتدریج درخت نہیں بنتا، آدمی درخت کو نہیں دیکھتا۔ اور جب درخت دیکھتا ہے تو بیج نظر نہیں آتا ۔ جب تک بیج میں درخت اور درخت میں بیج موجود ہے۔ اسپرم اگرچہ خود ایک ڈائی مینشن ہے جس میں چھ فٹ کے آدمی یا پانچ ٹن کے ہاتھی کی مائیکرو فلم ہے لیکن آدمی میں مائیکرو فلم کو بیک وقت دیکھنے کی سکت نہیں جب تک فلم کا ہر زاویہ غالب نہ ہو۔

عمارت کو بیک وقت ہر طرف سے دیکھنے، بیج میں درخت اور درخت میں بیج کا مشاہدہ اور اسپرم میں زندگی کے تمام ادوارکی تفصیل اس وقت نظر آتی ہے جب نظر ڈائی مینشن سے آزاد ہو۔ قیود میں رہ کر حدود کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔۔۔ نظرانداز کرنے کے لئے حدود سے ماورا ذہن درکار ہے۔ چوں کہ آدمی ڈائی مینشن میں قید ہے اس لئے خود کو دیکھنے کے لئے بھی آئینہ کی مدد لیتا ہے اور آئینہ ایک ڈائی مینشن ہے۔

ادارہ کو بتایئے کہ ڈائی مینشن کیا ہے۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شے اس وقت نظر آتی ہے جب شکل و صورت میں ظاہر ہو۔ کائنات نقطہ میں بند ہے۔ نقطہ کھلتا ہے تو زمان و مکان کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ دو سے چار، چار سے آٹھ اور آٹھ سے سولہ زاویے بنتے ہیں۔ غور طلب ہے کہ نقطہ کی تقسیم بھی نقطہ ہے کیوں کہ شے نقطہ در نقطہ آگے بڑھتی ہے۔ مخلوق کی روحانی ساخت نقطہ میں بند ہے اور نقطہ دائرہ ہے۔ بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں۔

ع غ دی کو صورت اک نقطہ شور مچایا اے

اک نقطہ یا ر پڑھا یا اے

ہم ڈائی مینشن کی دنیا میں رہتے ہیں جو باطن کی دنیا سے مختلف ہے۔ وہاں شکلوں کی جگہ نقطے آتے ہیں۔ جس شے کے متعلق ہم تصدیق سے کہتے ہیں کہ یہ الماری ہے، نقطوں کی دنیا میں وہ الماری نہیں۔۔۔ الماری نظر آنا مادی نگاہ کے لئے ہے۔ باطن میں یہ ناقابل پیمائش رفتار سے حرکت کرتے ہوئے دائرے ہیں، اس مقام پر شکل و صورت اور ترتیب غیب ہے۔

سمجھنے کے لئے ایک بار پھر پڑھیئے۔

اگر آپ اصل دیکھنا چاہیں تو تحت لاشعور میں ہر شے دائروں کی شکل میں نظر آتی ہے لیکن ہم جس نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، وہ نقطہ کی ترتیب کو پہاڑ، بادل، سورج، چاند، ستاہ، میز، قلم، دوات، کرسی، چڑیا، گائے، بکری، زرافہ، جن یا آدمی دکھاتی ہے۔

نقطہ بھی ڈائی مینشن ہے مگر اپنی حدود میں اول، آخر ، ظاہر اور باطن سے آزاد ہے۔ آزادی سے مراد یہ ہے کہ اول، آخر، ظاہر، باطن ایک ہیں، یعنی آدمی زاویوں کی تفریق سے نکل کر بنیاد سے واقف ہو اور یہی دل کا دیکھنا ہے۔ ڈائی مینشن سے آزاد ذہن کیسے حاصل ہو۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سورۃ النجم کی آیات میں ابعاد (ڈائی مینشن) سے آزاد ذہن کی تعریف ہے۔

’’بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بھٹکا ہے۔ وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو وحی ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے۔‘‘ (النجم: ۲۔۴)

حضور پاکؐ کی حیات مبارک وحی کے تابع ہے۔۔۔ اللہ کی خواہش، ان کی خواہش ہے۔ یہ وہ طریق زندگی ہے جو بہکنے اور بھٹکنے سے محفوظ ہے۔ جب ذہن اللہ سے ہٹتا ہے تو آدمی بھٹکتا ہے۔ سرور کونین حضرت محمدؐ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا جائے تو بچپن سے تفکر آپؐ کا شعار تھا۔ صبح سے شام تک صحرا میں رہتے جہاں لامحدود آسمان اور لامتناہی افق پر غور کرتے۔۔۔ غار حرا میں کائناتی امور اور قدرت کی نشانیوں پر تفکر کرتے۔ آپؐ نے ہر معاملہ میں ضمیر کی آواز کو سنا اور اس پر عمل کیا۔

حیات طیبہؐ میں معجزات، واقعات اور معاملات ترجمان ہیں کہ ذہن مبارکؐ زاویوں (ڈائی مینشن) سے آزاد اور لامحدود ہستی کے تابع ہے۔ رحمتہ اللعالمین۔۔۔ اللہ کے محبوب احمد مجتبی محمد مصطفیٰؐ ایسی ہستی ہیں جن کی چھاؤں میں دوست دشمن سب کو امان ہے۔ دشمنوں نے آپؐ کو صادق و امین کہا مگر آباؤ اجداد کی روایات کے غلبہ کے سبب پیغام کو قبول نہیں کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تفکر سے خدوخال کھلتے ہیں اور مظاہر کی کنہ نگاہ بنتی ہے۔ آسمان و زمین کی بنیاد نوراور نور۔۔۔ تجلی کے تابع ہے۔ فواد۔۔۔ تدلیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،

’’وہ سامنے آیا جب کہ وہ بالائی افق پر تھا۔ پھر قریب آیا اور قریب آیا۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلہ رہ گیا۔ باتیں کیں اللہ نے اپنے بندے سے جو باتیں کیں۔ دل نے جو دیکھا، جھوٹ نہیں دیکھا۔ ‘‘ (النجم ۷۔۱۱)

ڈائی مینشن کا مغلوب ہونا۔۔۔ اصل سے قربت ہے۔

شب معراج میں محبوب کی اپنی رب سے اتنی قربت ہوئی کہ اس قربت میں خالق اور محبوب کے درمیان فاصلہ ناقابل بیان ہے۔ اس قربت کو اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر سند عطا فرمائی،

’’دل نے جو دیکھا، جھوٹ نہیں دیکھا۔‘‘

خالق کائنات کے نزدیک دل (فواد) کا دیکھنا معتبر ہے کیوں کہ ’فواد‘‘ میں قربت کا یہ عالم ہے کہ اس عالم میں دوری ناقابل بیان ہے۔ ’’فواد‘‘ سے واقف ہونے کا راستہ ضمیر کی آواز پر عمل ہے۔ ضمیر الارم ہے جو ذہن کو تقسیم ہونے سے محفوظ رکھ کر حقیقی مرکز پر قائم رکھتا ہے۔ دل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب مخلوق سے توقعات ختم، ذہن بے نیاز اور اللہ کے تابع فرمان ہوتا ہے، پھر شے کے بجائے علم شے بنتا ہے اور علم شے یہ ہے کہ اللہ رب العالمین ہر مخلوق پر محیط ہے۔

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

 

نومبر 2018

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔