Topics

قدرتی آفات ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ اکتوبر 2022

 

آج کی بات

          اللہ وہ ہے جس نے زمین اور آسما نوں کو تخلیق کیا اور آسما ن سے پا نی برسایا پھر اس کے ذریعے تمہا رے لئے طر ح طر ح کے رزق (وسا ئل ) پیدا کئے ۔ (سورۃ ابراہیم :32)

          زمین پر توانا ئی کے حصول کے لئے جن ذرائع سے استفا دہ کیا جا تا ہے وہ سب پا نی کا حصہ ہیں ۔ توا نا ئی ڈیموں کے ذریعے حا صل ہو، ہو ا ؤں کے دوش پر سفر کر ے ، کو ئلے کی کا نوں میں پروان چڑھے یا سورج کی روشنی ذریعہ ہو ۔۔ سب پا نی کے روپ ہیں اور پا نی زمین پر توا نا ئی ما خذ ہے ۔ پا نی کی ایک حالت ما ئع ہے ، ایک حا لت گیس اور بھا پ ہے ، شمسی توانا ئی اور کو ئلے کی کا ن میں حرارت بھی پا نی ہے ۔ زندگی کی مشین جس کر نٹ سے چل رہی ہے ، وہ پانی میں مو جو د ہے ۔

**----------------------------**

          پا نی ، توا نا ئی ، آواز اور خیا ل طو ل مو ج (wave length) میں ظا ہر ہو تے ہیں ۔ طو ل مو ج سے مرا د دائرے میں آگے بڑھنا ہے ۔ لہر کی محوری حر کت لاشعو ر کو ظا ہر کر تی ہے جس سے مرا د یہ ہے کہ شئے  غیب سے آتی ہے  اور غیب میں لوٹ جا تی ہے جبکہ طولا نی حر کت دائرے میں اسپیس کو ظا ہر کر تی ہے ۔ اسپیس سے دوری نما یا ں ہو تی ہے ۔ چا ہے یہ دوری ایک آدھ انچ سے کم یا نا قا بل پیما ئش کیوں نہ ہو۔ زندگی لا شعو ر سے آتی ہے اور شعو ر میں ظا ہر ہو تی ہے ۔ جب ذہن یقین سے دور اور شک سے قریب ہو تو لا شعو ر ی مظا ہر ے پر پر دہ آجا تا ہے اور اس کی جگہ شک (illusion)کی بنا ئی ہو ئی تصویر نظر آتی ہے ۔ شک سے دما غ میں دور کر نے والی لہروں میں کثا فت پیدا ہو تی ہے اور یقین بے یقین بن جا تا ہے ۔

          شک کی تصویر: آدمی نا فرما نی کر تا ہے ، اصلا ح پر آما دہ نہیں ہو تا ، جھو ٹ بو لتا ہے ، دھو کا دیتا ہے ۔ نا پ تول میں کمی ، ملا وٹ ، ذخیر ہ اندوزی اور سو دی کاروبا ر کر تا ہے ، دنیا وی معا ملا ت میں ذکر و عبا دت سے غا فل ہو تا ہے اور بھو ل جا تا ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔

          یقین کی تصویر: آدمی فرما بردار ہے ، غلطی ہو نے پر اصلا ح کر تا ہے ، سچ بو لتا ہے ، غصہ نہیں کر تا ، دھو کہ نہیں دیتا ، حقو ق العبا د کا خیا ل رکھتا ہے ، رزق حلا ل کما تا ہے ، دنیا وی معا ملا ت پو رے کر نے میں ذکر اور عبا دت سے غا فل نہیں ہو تا ، اللہ کو یا د کر تا ہے اور جانتا ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے ۔

          نا فر ما نی اور شک سے ارضی و سما وی آفا ت نا زل ہو تی ہیں جبکہ یقین کی زند گی پر عمل مخلو ق کو اما ن ہے ۔

**----------------------------**

          زمین پر نو ع آدم سے پہلے جنا ت کی حکمرا نی تھی ۔ زمین پر حکمرا نی کا تعلق با طنی علو م سے ہے ۔ جنا ت نے اپنے منصب سے غا فل ہو کر خونریزی اور فسا د بر پا کیا ۔ قدرت کی جا نب سے غلطی کی تلا فی کے کئی موا قع ملے لیکن وہ زمین پر امن قا ئم نہ رکھ سکے۔

          اللہ تعالیٰ  نے جنا ت سے حکمرا نی کا اعزا ز واپس لے کر آدم علیہ السلا م کو فی الارض خلیفہ بنا یا اور علم الا سما ء عطا کیا ۔ چو نکہ آدم کی ما دی ساتھ مٹی ہے اور مٹی کی فطر ت میں بہت تعفن ہے اس لیے فر شتوں نے عر ض کیا کہ یہ زمین میں فسا د بر پا کر ے گا۔

          اللہ تعالیٰ نے فرما یا جو میں جا نتا ہوں ، وہ تم نہیں جا نتے۔

          وعلم اٰدم الا سما ء کلھا (سورۃالبقرہ :31)

          جب آدم علیہ السلا م نے علم الا سما ء کا مظا ہر ہ کیا تو فر شتوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ بے شک آپ علیم ہیں ۔ ہم صر ف اتنا جا نتے ہیں جتنا علم آپ نے ہمیں عطا کیا ہے ۔

          اللہ تعالیٰ کے حکم پر فر شتوں نے آدم کو سجدہ کیا ۔ یہ سجدہ مٹی کے پتلے کو نہیں کیا گیا بلکہ اللہ کے عطا کر دہ علم کی وجہ سے تھا جس کا آدم علیہ السلا م نے مظا ہر ہ کیا۔

          اللہ تعا لیٰ نے آدم کو جنت میں بھیجا اور شجر ممنو عہ کے قریب جا نے سے منع کیا  ۔ آدم سے شجر ہ ممنو عہ کے قریب جا نے کا سہو ہوا جس سے جنت کا شعو ر مغلوب اور زمین کا شعو ر ہے غالب ہو گیا۔ واضح رہے کہ علما ء کے مظا ہر ے کی بنیا د پر آدم کو جنت میں بھیجا گیا ۔ جنت کا شعو ر یقین پرقا ئم ہے ۔ اس کے بر عکس زمینی شعو ر میں فسا د ہے ۔ یہ شعو ر اللہ کے حکم کی نا فر ما نی کے نیتجے میں ظا ہر ہوا جس سے آدم کی فضیلت پر دے میں چلی گئی ۔

          ہم نے حکم دیا کہ اب تم سب یہا ں سے نکل جا ؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خا ص وقت تک زمین میں ٹھہر نا اور وہی گزر بسر کرنا ہے ۔

**----------------------------**

          زمین میں آبا د ہر شئے دائرے میں آگے بڑھتی ہے ۔ دائرے کے طوالت معین ہے ۔ طوالت سے مرا د فر د کا اپنی اصل (مرکز) سے قریب یا دور ہونا ہے  ۔ جب دوری معین حد سے زیا د ہ ہو جا ئے تو زمین میں فسا د بر پا ہو تا ہے ، انفرا دی اور اجتما عی طو ر پر نظا م زندگی میں بگا ڑ پیدا ہو تا ہے ، طو فا ن بادوباراں اور زلز لے آتے ہیں ، آتش فشاں پھٹتے ہیں ، بیما ریا ں جیسے ملیریا اور ڈینگی پھیلتے ہیں اور زر پرستی کی وجہ سے ایسے اعما ل عام ہو جا تے ہیں جو تبا ہی کو دعو ت دیتے ہیں ۔

          قا رئین! وطن عزیز پا کستا ن سیلا ب کے با عث انتہا ئی مشکل حا لا ت میں ہے ۔ تا حد نظر زمنیں پا نی میں گم ہو گئی ہیں، کھیت کھلیا ن اجڑ نے سے قحط کا خدشہ ہے ، مکانا ت زمین بو س ہیں ، نا معلو م تعداد میں لوگ شہید اور زخمی ہیں ۔ عورتیں بیو ہ ، بچے یتیم اور ضعیف بز رگ تنہا ہو گئے ہیں ۔ مویشیوں کو پا نی نے نگل لیا ہے ۔ مچھر وں کی بہتا ت ہے اور امرا ض پھیل رہے ہیں ۔ لو گ کھلے آسما ن کے نیچے مد د کے منتظر ہیں ۔ دودھ پیتے بچوں اور ما ؤں کی آنکھیں پا نی میں ڈوبی ہو ئی ہیں ۔ بچے بھو ک سے روتے اور بلکتے ہیں ۔ جو دیکھتا ہے آنکھیں روتی ہیں ۔ ستر پو شی کے لئے ۔۔۔؟ قر آن کر یم میں گزشتہ قوموں کے حا لا ت اور طو فان نو ح ؑ کی تفصیل بیا ن کی گئی ہے  جب 40 دن  رات آسما ن سے با رش ہو تی رہی اور زمین پا نی اگلتی رہی ۔ مو جو دہ حا لا ت ہما رے اجتما عی اعما ل کا نتیجہ اور اللہ کی طر ف سے تنبیہ ہے کہ ہما را ذہن اصلا ح اور استغفا ر کی طر ف جا ئے ۔ خا لق مطلق اللہ رب العالمین کا ارشا دہے ۔

          "بے شک اللہ کسی قو م کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خو د اپنے اوصا ف نہیں بدلتی ۔"(سورۃ الرعد۔11)

          درخوا ست ہے کہ سیلا ب سے متا ثر ہ بہن بھا ئیوں کی مدد کیجیے ۔ جن خوا تین و حضرا ت اور بچوں نے فراخ دلی سے امدادی کا موں میں حصہ لیا ہے ، و ہ  سعید اور قا بل تکر یم ہیں۔

          دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ۔۔۔ بواسطہ خا تم النیینﷺ اس آفت سے ہم سب کی حفا ظت فرما ئے اور توفیق عطا فرما ئے کہ ہم اپنے پریشان حا ل بہن بھا ئیوں کی بلا تفریق مدد کریں ۔ آمین

اللہ حا فظ

خوا جہ شمس الدین عظیمی

 

 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔