Topics

فطرت جبلت ۔ماہنامہ قلندر شعور۔اپریل 2020


شما ریا ت سے زیا دہ دنیا وَں کا نظا م اطلا ع پر قا ئم ہے ۔ اطلا ع ایک ہے عمل کر نے کے راستے دو ہیں ۔ ایک راستہ مفید اور دوسرا غیر مفید ہے ۔ مفید رخ سے زمین و آسما ن میں تخلیقا ت کی خد مت ہو تی ہے ۔ اور غیر مفید رخ سے نظا م ِ حیا ت کو نقصا ن پہنچتا ہے ۔ ایسا نقصا ن جس کے نتیجے میں ذہنی پسما ندگی ، illusion، اور فریب ِ نظر طر ز ِ فکر بن جا تی ہے ۔ اس راہ میں رنگ خو شنما لیکن دلفریب ہیں ۔ بظا ہر مسر ت و شادما نی کا پیغا م لیکن با باطن اضطرا ب ہے ۔ زندگی سفر کر رہی ہے ۔ شک کی وجہ سے متضا د رخ اختیا ر کر کے فرط راستے کو دو میں تقسیم کر دیتا ہے ۔ زندگی کی بیلٹ اپنی فطر ت میں پر سکون چارہ ہے ۔ جس پر بلا ں چوںو چراں چلنے والے شا دمان و کا مران ہیں ۔ کیو نکہ فطری رخ اختیا ر کر کے وہ جا ن لیتے ہیں کہ بیلٹ حر کت کے تا بع ہے ۔ فطر ت کے متضا د رخ پر چلنے والوں کا سفر تیا ری سا ما نِ غم ہے ۔

         دریا کنا رے استاد اور شا گرد بہتے ہو ئے پا نی کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔استاد کا ذہن خا مو ش جبکہ شا گر د کا ذہن بہتی ہو ئی موجوں کا عکس تھا ۔ شا گرد نے کہا پا نی حر کت کی وجہ سے آگے بڑھ رہا ہے ۔

 استاد نے فرما یا :   تم ٹھیک سمجھے ہو۔

شا گر د بو لا:    حر کت عمل ہے اور پا نی کا آگے بڑھنا ردِ عمل ہے ۔

استاد نے نفی میں سر ہلا یا اور نظر دریا کی مو جوں پر مر کوز کردی ۔ شا گرد نے نظروں کا تعاقب کیا اور استا د کے ذہن سے پا نی دیکھنے کی کو شش کی ۔ لیکن کا میا ب نہیں ہوا۔ توقف کے بعد پوچھا ۔اگر مو جو ں کا بہنا ردِ عمل نہیں ہے پھر کیا ہے ۔

جسے تم ردِ عمل سمجھ رہے ہو وہ حر کت کے مطابق پا نی کا عمل ہے ۔ دریا کنا رے بیٹھے استا د کے لہجے میں سمند ر کی سی گہرائی تھی۔

شا گر د نے بے تا بی سے پو چھا ۔ پھر ردِ عمل کیا ہے ۔

استاد نے کہا : ردِ عمل یہ ہے کہ پا نی حر کت کی مخا لف سمت میں بہے ۔

قا بلِ احترا م بزرگواور عزیز دوستو! ہر عمل کا رد –عمل نہیں ہوتا ۔ لاکھو ںمیں چند خوا تین و حضرا ت ایسے بھی ہیں ۔ جو حکم پر عمل کر تے ہیں ۔ ایسے افراد دریا کی مو ج بن جا تے ہیں ۔ جو بہا وَ کے ساتھ بہتی ہے ۔ اللہ کی عادت اور اللہ کے نظا م کی بنیا د یہ ہے کہ اس میں ردو بدل اور تعطل نہیں ہے ۔ خا لق ِ عر ض و سما وات اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے

" پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں مر کوز کر دو ،قا ئم ہو جا وَ اس فطر ت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے ۔ اللہ کی بنا ئی ہو ئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی ۔ یہی راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے "۔ (سورۃ روم – ۳۰)

          فطر ت سے مرا د لہروں میں حر کت کی رفتار اور طوالت کا مخصو ص تنا سب ہے ۔ لہر حرکت میں طوالت سے اسپیس تخلیق ہو تی ہے ۔ ہر اسپیس کی رفتار منفر د ہے اور یہ انفرا دیت تخلیقا ت کی پہچا ن ہے ۔

یکسو ہو کر دوبا رہ پڑھیے ۔

          حر کت کی لا شما ر طوالتوں سے لا شما ر تخلیقات وجو د میں آتی ہیں ۔ ان کا عدد ی مجمو عہ (مقداریں )ہر نوع اور فرد کے لیے الگ الگ ہے ۔ اگر ایک مخلو ق سبز رنگ کی تین مقداروں سے بنی ہے تو اس فارمولے سے دوسری مخلوق وجو د میں نہیں آتی ۔ اللہ نے تخلیقی فارمو لے متعین کر دیے ۔ جن میں تبدیلی نہیں ہے ۔ اس کو اللہ نے فرما یا ہے کہ قا ئم ہو جا وَ اس فطر ت پر جو تمہا رے لیے متعین ہے ۔ اللہ کی بنا ئی ہو ئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی ۔ آدمی جب فطر ت کے خلا ف عمل کر تا ہے یا زندگی کی بیلٹ پر متضا د رخ پر چلتا ہے تو دراصل وہ فطر ی ساخت بدلنے کی کو شش کر تا ہے ۔ جس کا اُسے لا محا لہ نقصا ن پہنچتا ہے ۔ فطر ت کے مطا بق زندگی گزارنا عمل ہے اور بر خلا ف چلنا ردِ عمل ہے ۔ نظا م ِ کا ئنا ت میں آدمی کے سواہ ہر تخلیق فطر ت سے ہم آہنگ ہے ۔ سب کی فہم اپنی ساخت کے مطا بق ہے ۔ جس پر ان کو پیدا کیا گیا ہے ۔ فطرت کا تعلق لا شعو ر سے ہے ۔ لہٰذا فطر ت سے ہم آہنگ مخلوقات کی رفتا ر اپنے اپنے دائرے میں محدود ہے ۔ لا محدودیت تخلیقا ت کا ذاتی وصف نہیں بلکہ اس فطرت سے ہم آہنگی ہے جو اللہ نے بنا ئی ۔

          "پس تم اللہ کی سنت میں تبدیلی نہ پا وَ گے اور تم اللہ کی سنت میں تعطل نہ پا و َ گے ۔"(سور ۃ –فا طر – ۴۳)

فطر ت ، جبلت اور طبیعت الگ الگ یو نٹ ہیں ۔ جبلت میں آدمی با اختیا ر ہے ۔ بھو ک فطر ی تقا ضا ہے مگر کھانا کھا نے کی مقدار عا دت اور خا ندا نی طرزِ فکر پر منحصر ہے ۔ ایک آدمی بسیا ر خو ر ہے اور دوسرا بھو ک رکھ کر کھا تا ہے ۔ بھو ک کا تقا ضا دونو ں کی فطر ت میں ہے ۔ لیکن تقا ضے پر عا دت کے مطا بق عمل کیا جا تا ہے اور عا دت طبیعت بن جا تی ہے ۔ طبیعت میں فردکے پا س انتخا ب ہے ۔ فطر ت بتا تی ہے کہ نشہ صحیح نہیں ہے ۔ پھیپھڑے بھی خرا ب ہو تے ہیں ۔ لیکن فرد مضرِ صحت عمل تر ک نہیں کرتا کیو نکہ نشے کی عادت جبلت بن گئی ہے ۔ جبلت میں ہما را دوسری نوع کے ساتھ ذہنی اشترا ک ہے ۔ جبکہ فطر ت میں سب کا اپنا مقا م ہے ۔ جو خا لقِ کا ئنا ت اللہ تعالیٰ کے بنا ئے ہوئے تخلیقی فا رمولوں کے مطا بق ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہو تی ۔ نو عِ آدم کی فطرت "احسن ِ تقویم" ہے ۔ فطری لحا ظ سے آدم کی تخلیق میں اہم عنصر فارمولوں کا علم ہے ۔ جب نو ع ِ آدم"احسن ِ تقویم" کے منصب سے واقف نہیں ہوتا تو اس کی ساخت" اسفل السافلین "بن جا تی ہے ۔ یعنی جتنی مخلو قات ہیں ۔ ان میں سب سے کم ذہنی رفتار آدمی کی ہے ۔ اس لئے وہ ٹا ئم اینڈ اسپیس کے کم ترین درجے میں قید ہے ۔ جہاں پریشا نی اور غم تعاقب میں ہے ۔ پسما ندگی ، بدحا لی ، شکو ک و شبہا ت ، ڈر  ، خو ف اور امید ، ما یو سی رقص کناں نظر آتی ہے ۔ جبکہ یہ سب نظر کا دھو کا ہے ۔ زندگی میں پیش آنے والے نشیب و فراز پر غیر جا بنداری سے غورو فکر ایسی کوشش ہے جو خا لقِ کا ئنا ت کے لیے پسندیدہ ہے ۔ ارشا دِ با ری تعالیٰ ہے۔

          "اور جو لوگ مجھ میں جدوجہد کر تے ہیں ۔ میں ان کے لیے اپنی راہیں کھول دیتا ہوں ۔" (سورۃ النکبوت:۶۹)

جو لو گ خا لصتاً اللہ کے بنا ئے ہو ئے قا نون پر عمل کر تے ہیں ، جدوجہد کر تے ہیں ، تفکر اور ذہنی یکسو ئی کے ساتھ متوجہ رہتے ہیں اللہ نے اپنے اوپر لا زم کر لیا ہے کہ ایسے بندوں کے لیے ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے ۔ ہدایت کے معنی ریسرچ اور ذہنی وابستگی کے ساتھ غوروفکرکرنا ہے ۔ یہ لوگ اولی الالبا ب ہیں اور ہر کا م کیئر آ ف اللہ کر تے ہیں ۔

خلا صہ: زندگی گزارنے کا ایک طریقہ عمل اور دوسرا ردِ عمل ہے ۔

1.  عمل میں سکو ن ، راحت ، دل جمعی ، یقین ، مستقل مزا جی اور ذہنی تفکر کے ثمرا ت ہیں ۔

2.  ردِ عمل میں بے سکونی ، تکلیف ، اضطراب ، بے یقینی ، غیر مستقل مزا جی اور جمو د پیدا کر نے کے لیے ببو ل کے کانٹے ہیں۔

جب نو عِ آدم کی فطر ت احسن ِ تقویم اس کی طبیعت بن جا ئے تو ایسے خواتین و حضرا ت کو اللہ تعالیٰ نے راسخ فی العلم فرما یا ہے ۔ جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ کہتے ہیں ہمارا اس با ت پر ایما ن ہے کہ ہر شے اللہ کی طر ف سے ہے ۔ (سورۃ آل ِ عمران :۷)

محتر م قا رئین ! آج کی با ت پڑھ کرذہن میں سوالا ت ابھریں گے ۔ اس سلسلے میں ما ہنا مہ قلندر شعور کی خدما ت حا ظر ہیں ۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔