Topics

زاویہ نظراور روزہ - ماہنامہ قلندر شعور ۔مئی 2018

زندگی لامحدود ہے لیکن زاویوں میں گزرنے سے محدود ہوجاتی ہے۔ زاویہ شے کو اپنے ذہن کے مطابق دیکھنے کا پیمانہ یعنی شعور کی بنائی ہوئی مختلف تصویریں ہیں۔ قرآن کریم میں زندگی گزارنے کا جو طریقہ بیان کیا گیا ہے وہ زاویوں سے آزاد ہے۔

اِیِّاکَ نَعْبٍدُ وَ اِیِّاکَ نَسْتَعِیْنْ O (الفاتحہ: 4)

ترجمہ: ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

زندگی کا مرکز و محور رب العالمین۔۔۔ اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے برخلاف سوچ گم راہی ہے۔

خالق کائنات کی ذات و صفات لامحدود ہیں، لامحدودیت سے ربط ہوجائے تو زندگی مثلث سے نکل کر دائرہ میں داخل ہوتی ہے۔ دائرہ بھی لاشعور کو بیان کرنے کا زاویہ ہے لیکن ایسا زاویہ جس میں اول، آخر، ظاہر و باطن سب ایک ہے۔ مثلث یا دائرہ۔۔۔ دونوں پر اللہ محیط ہے تاہم ایک طرز زندگی کو اللہ تعالیٰ نے احسن اور دوسری کو غیراحسن فرمایا ہے۔ ذہن حمد باری تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجائے تو زندگی لامحدودیت میں سفر کرتی ہے۔

’’مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں، جس طرف بھی تم رخ کرو گے اسی طرف اللہ کا رخ ہے۔ اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 115)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

باغ میں بیٹھے دو افراد میں سے ایک خوش اور دوسرا اداس ہے۔ اداس شخص کو ہرا بھرا پھولوں سے سجا گلستان۔۔۔ ویران نظر آتا ہے جب کہ دوسرا شخص ہریالی، رنگوں کی بہار اور تتلیوں کو ایک پھول سے دوسرے پھول پر بیٹھتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے اور باد نسیم کا لطف لیتا ہے۔

اس دوران خوش رہنے والے فرد کے ذہن میں اندیشہ داخل ہوجائے اور غمگین شخص کو یاس میں کوئی آس مل جائے تو اول الذکر کے لئے باغ کی رونق ماند ہوجائے گی جب کہ ادس شخص کوہوا اب باد صبا محسوس ہوگی۔ ایک ہی وقت میں دو لوگوں کی مختلف کیفیات اور کیفیات میں تغیر سے باغ کی حقیقت تبدیل نہیں ہوئی۔۔۔ باغ اپنی جزئیات کے ساتھ موجود ہے۔

دیکھنے والوں نے باغ کو نہیں۔۔۔ اپنے اندر دیکھا اور اندر میں کیفیت کو باغ پر گمان کیا۔ باغ کیا ہے۔۔۔ دونوں نے توجہ نہیں دی۔ واقف اسرار کن فیکون قلندر بابا اولیاؒ فرماتے ہیں۔

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش

ہیں نام کے دنیا میں غم و آسائش

تبدیل ہوئی جو خاک گورستاں میں

سب کوچہ و بازار کی تھی زیبائش

زاویوں سے آزاد نظریہ ہے کہ اندر میں جو بھی کیفیت ہو، فرد اپنے ذہن کو نہیں، باغ کو دیکھے بصورت دیگر باغ نظر سے اوجھل اور اندر میں منظر غالب ہوجاتا ہے۔ دیکھنے والوں نے کیا دیکھا۔۔۔؟ ان کی زندگی اپنی کیفیات تک محدود ہے۔

باغ کو باغ دیکھنا لامحدودیت ہے۔ پھولوں اور درختوں کے درمیان فرد جب چار موسم گزارتا ہے تو مناظر ایک سے زائد بار تبدیل ہوتے ہیں مگر یہ ایسی تبدیلی ہے جو بار بار دہرانے کے باوجود نہیں بدلتی۔ نکتہ یہ ہے کہ خزاں، بہار، سردی اور گرمی کے اثرسے ہونے والے تغیر کو باغ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ سب بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل اور زندگی کے زاویے ہیں۔ جس کو ہم نے باغ کا نام دیا ہے۔۔۔ وہ کچھ اور ہے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم شکل و صورت دیکھ کر شے کا تعین کرتے ہیں جب کہ شکل تبدیل اور اندازے غلط ہوجاتے ہیں۔ اس کے باوجود ہم یہ نہیں سوچتے کہ کل جو بچہ تھا، آج جوان کیسے ہوگیا، جو آج جوان ہے وہ کل بوڑھا کیوں ہوجاتا ہے۔۔۔ جس باغ میں خزاں تھی، آج وہاں بہار کیوں ہے، بہار کے بعد گرمی کا آنا پھر سردی میں پتوں کا کم زور ہونا کیا ہے۔۔۔ پتے کیوں جھڑتے ہیں اور جھڑ کر زمین پر گرتے ہیں تو رنگوں کا خاک میں مل کر خاک ہونا کیا ہے۔۔۔ ہم خاک کس کو کہتے ہیں۔۔۔ اور وہ رنگ کیا ہوئے جنہوں نے بیابان کو گلستان اور گلستان کو بیابان بنادیا۔۔۔؟

قارئین! کیفیت بدلنے سے وقت بدلتا ہے جب کہ بے کیفی میں وقت پس پردہ چلا جاتا ہے۔ بے کیفی کیا ہے۔۔۔؟ نظر کا خود سے ہٹنا بے کیفی ہے۔ خود سے ہٹنے سے مراد یہ ہے کہ نگاہ آسمان کی طرف اٹھتی ہے تو آسمان کو سمجھنے کے لئے ذہن میں اپنا کوئی زاویہ نہ ہو۔۔۔ ورنہ نگاہ آسمان کو نہیں، زاویہ کو دیکھے گی۔ آسمان کو دیکھ کر سطحی ذہن میں سوائے اس کے اور کوئی بات نہیں آتی کہ آسمان نیلے یا سفید رنگ کا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سوچ پر رنگ غالب ہیں۔ رنگ صرف ہرا، پیلا یا نیلا نہیں بلکہ زاویہ ہے اور آسمان زاویوں سے آزاد ہے۔

نظر اٹھا کر دیکھئے کیا آپ کو آسمان پر کہیں کوئی سمت نظر آتی ہے۔۔۔؟ کیوں نظر نہیں آتی۔۔۔؟ کیا نیلے، سرخ، سفید یا سیاہ رنگ کا نام آسمان ہے۔۔۔؟

اگر آسمان کا رنگ نیلا ہے تو دن ڈھلنے کے ساتھ نیلا رنگ کہاں چھپ جاتا ہے۔۔۔؟

زمین پر آبادی میں کوئی فرد ایسا بھی ہے جو سوچتا ہے کہ آسمان کیا ہے؟ اور پھر لاشعور اس کی راہ نمائی کرتا ہے کہ بظاہر ٹھوس نظر آنے والی چھت ٹھوس نہیں، وہ روشنیوں کا مجموعہ ہے۔ روشنیاں محدود و حواس سے نظر نہیں آتیں اور نگاہ دھندلاجاتی ہے تو دھند کو ہم آسمان سمجھتے ہیں۔ دھند کیا ہے۔۔۔؟ دھند پھیلنے سے پہاڑ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ایسا مادہ ہے جو بڑی بڑی عمارتوں، شاہراہوں کو اپنی لپیٹ میں  لے کرہر منظر کو نظر سے اوجھل کردیتا ہے مگر منظر موجود رہتا ہے۔

یہی صورت آسمان کی ہے۔ ہم آسمان کو نہیں، ذہن کے دیکھنے کو دیکھتے ہیں۔ نگاہ آسمان کی طرف جاتی ہے تو بتاتی ہے کہ آسمان زمین کا آئینہ ہے۔ زمین میں حواس پر دھند پھیلی ہوئی ہے جس کا عکس ہم آسمان کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ جن لوگوں کے ذہن دھند سے آزاد ہیں، ان کے لئے خالق کائنات نے فرمایا ہے،

’’ہم نے آسمان کو بروج بنایا اور دیکھنے والوں کے لئے اسے زینت بخشی اور شیطان مردود سے محفوظ کردیا۔‘‘ (الحجر: 17-16)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شخصیت کو بیان کرتے وقت کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص خوب صورت، وجیہ، بلند قدوقامت، شائستہ اخلاق اور نیک اوصاف کا حامل ہے۔ یہ ذات کا نہیں، صفات کا بیان ہے۔ بلند قدوقامت اور وجیہ صورت شخص بداخلاقی سے پیش آئے تو ذہن میں بنی تصویر کھلتی ہے اور صفات میں ’’تکبر‘‘ کا زاویہ شامل ہوجاتا ہے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ سطحی ذہن زندگی اور رویوں کو سطحی یعنی ظاہری اوصاف میں دیکھتا ہے۔

اس فرد کو خوب صورت بھی آپ نے سمجھا اور اب بدصورت بھی۔ کس وجہ سے۔۔۔؟ کہ اس کا رویہ کیا ہے۔ حالاں کہ دونوں صورتوں میں رویہ کے پس پردہ محرکات کو نہیں دیکھا گیا، جو دیکھا۔۔۔ ذہن کے دیکھنے کو دیکھا۔ وہ شخص اندر میں کیا ہے۔۔۔ ہم نہیں جانتے۔

ہمارے زاویے غلط کیوں ہوجاتے ہیں۔۔۔؟ کسی کے ساتھ طویل عرصہ گزار کر بھی ہم اسے کیوں نہیں جانتے۔۔۔؟ تاعمر ایک شے کو استعمال کرکے بھی ہمیں کیوں نہیں معلوم کہ وہ کیا ہے۔۔۔؟ کیا ہمارے اندر یہ صلاحیت ہے کہ ہم کسی کو جان سکیں۔۔۔؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم پانی پیتے ہیں۔ زمین بھی پانی پیتی ہے۔ پانی پینے سے ہمارے اندر رنگ ظاہر ہوتے ہیں تو زمین کی بوقلمونی بھی پانی سے ہے۔ پانی جس سانچہ میں داخل ہوتا ہے اس کی شکل اختیار کرلیتا ہے، سانچہ بھی پانی سے بنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے ہر شے پانی سے تخلیق کی۔ سورہ رعد میں پانی کو ’’السَّحَابَ اثِّقَالَ‘‘ بھی کہا گیا ہے۔ سحاب۔۔۔ بادل ہیں اور ثقال کے معنی ثقل کے ہیں۔ ثقل سے شے میں خدوخال (ابعاد) پیدا ہوتے ہیں۔ آسمان سے برسنے والے پانی میں ابعاد (dimension) ہیں۔ ہر شے پانی سے پیدا کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ جو شے عدم سے وجود میں آئی ہے اس میں خدوخال کا سبب وہ کیمیا ہے جس کو پانی کہا گیا ہے۔ شے میں سے پانی نکل جائے تو وجود معدوم ہوجائے گا۔۔۔ معدوم کا مطلب ختم ہونا نہیں ہے۔

زندگی کا کوئی دن پانی پئے بغیر نہیں گزرتا۔ پانی پینے سے پیاس بجھتی ہے۔ پانی تو دور کی بات ہم یہ بھی نہیں سوچتے کہ پیاس کا بجھنا اور پیدا ہونا کیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زاویہ نظر صرف پیاس بجھانا ہے۔ سطحی ذہن۔۔۔ سطح سے آگے نہیں جاتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) اطلاع وارد ہوتی ہے توذہن پر ہلکا دباؤ پڑتا ہے لیکن پہلے مرحلہ پر اطلاع میں موجود تفصیل کا ادراک نہیں ہوتا کیوں کہ یہ وہ سطح ہے جہاں وجود میں ابعاد (ڈائی مینشن) تو موجود ہیں لیکن نقش بے حد ہلکا ہے۔ تصوف میں اس مرتبہ کو واہمہ کہتے ہیں۔ (2) واہمہ میں گہرائی پیدا ہونے سے خدوخال ظاہر ہوتے ہیں اور ذہن میں تصورات نظر آتے ہیں۔ (3) توجہ مرکوز ہوجائے تو تصورات میں رنگ بھرتے ہیں اور تصویر واضح ہوجاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوجوان نے بزرگ سے پوچھا، اطلاع تصویر کی شکل میں کیوں ظاہر ہوتی ہے۔۔۔؟

بزرگ نے فرمایا، ذہن کی دنیا پر غور کرو، وہاں تصویروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ تصویریں سنتی ہیں، دیکھتی ہیں، سمجھتی ہیں، محسوس کرتی ہیں، بات کرتی ہیں اور اندر میں بھی دیکھتی ہیں لیکن کیا ذہن کی دنیا میں موجود حرکت تصویروں کی ہے۔۔۔؟

نوجوان نے توقف کے بعد عرض کیا، نہیں! تصاویر تو عکس ہیں اور عکس منعکس ہوتا ہے۔

بزرگ نے پوچھا، ان تصویروں کو تحریک کون دیتا ہے۔۔۔؟

نوجوان نے عرض کیا، وہ جس کے ذہن میں تصویریں ہیں۔

بزرگ نے فرمایا، کائنات اللہ تعالیٰ کے ذہن میں موجود پروگرام کا عکس ہے۔ اس مثال کو ذہن میں رکھو اور بتاؤ کہ کائنات کیا ہے اور کائنات میں ہماری حیثیت کیا ہوئی۔۔۔؟

نوجوان کچھ دیر سوچ میں گم رہا اور پھر مسکرادیا۔

بزرگ نے فرمایا، یہی تمہارے سوال کا جواب ہے۔

زندگی اطلاع پر قائم ہے۔ اطلاع کے معنی اللہ تعالیٰ کے حکم کا تصویری شکل میں ظاہر ہونا ہے۔ اپنی حقیقت سے ناواقف شخص کسی شے کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتا۔ کائنات میں ہر شے ’’کن‘‘ سے تخلیق ہوئی ہے۔ کن میں موجود میکانزم ہر شے میں موجود ہے جس سے واقف ہونے کے لئے سطحی سوچ کو ترک کرنا ہوگا۔۔۔ ترک کی بہترین تربیت روزہ ہے۔

مضمون میں ایک بات کو مختلف مثالوں سے سمجھایا گیا ہے کہ بندہ ظاہر کے بجائے باطن میں داخل ہوا ور دیکھے کہ زندگی کیا ہے، کہاں سے آتی ہے اور بالآخر کہاں چلی جاتی ہے۔

روزہ میں کم کھانے، کم پینے، کم بات کرنے اور ہر کام میں توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مرکوز کرنے سے نظر فکشن شعور سے ہٹتی ہے۔۔۔ وہ شعور جس سے زاویے تخلیق ہوتے ہیں اور اس شعور میں داخل ہوتی ہے جسے خالق کائنات نے ’’نور‘‘ فرمایا ہے۔ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا نور ہے اور نور ی صفت یہ ہے کہ اس کا کوئی شرق ہے اورنہ غرب۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’اَﷲُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرضِ (النور 35:)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روزہ کے بارے میں اللہ کا ارشاد ہے:

’’روزہ میرے لئے ہے اور روزہ کی جزا میں خود ہوں۔‘‘

سورہ اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی پانچ صفات کا تذکرہ ہے جن میں ایک صفت ہر شے سے بے نیاز ہونا ہے۔ روزہ کی جزا پر غور کیا جائے تو کم کھانے، کم سونے اور کم بات کرنے کی مشق سے بندہ اللہ کی صفت بے نیازی پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور روزہ کی جزا پالیتا ہے۔

رحمن و رحیم اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ کی جزا عطا فرمائے، آمین۔

آپ سب کو ماہِ رمضان مبارک ہو۔

 

اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

مئی 2018

 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔