Topics

دنیا امتحان گاہ ہے

 

 

کیا آپ جانتے ہیں۔۔۔ آدمی اور انسان دو یونٹ ہیں۔ آدم کا ذکر ہوتا ہے تو کائنات میں مخلوقات کی ایک نوع کا تذکرہ ہے۔ کائنات تین نوعوں کے اشتراک پر الگ الگ لیکن مشترک صفات پر قائم ہے۔ جب ہم لفظ کائنات لکھتے یا بولتے ہیں تو منشا یہ ہے کہ بے شمار نوعیں زمین پر آباد ہیں۔ اگر اس طرح کہا جائے کہ زمین (ارض) ایک نہیں۔۔۔ انسانی شماریات سے زیادہ ہے۔ زمینیں وجود رکھتی ہیں اورہر زمین ایک دنیا ہے۔ ایسی دنیا جو examination hall ہے۔جو افراد قانون قدرت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں وہ کامیاب ہیں اور جو زندہ رہنے کے لئے "ذہن چوری" کرتے ہیں وہ امتحان میں ناکام ہیں۔

گہری سوچ سے ارضی و سماوی دنیاؤں پر تفکر کیا جائے تو دو تخلیقات جوابدہ ہیں اور کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ امتحان کے نتیجہ پر ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے،

میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ (الذٰریٰت: 56)

پیدائش کے بعد آدمی اور جنات کا قابل تذکرہ تعلق تین نظاموں سے ہے۔

1۔پہلا نظام وہ ہے جہاں خالق کائنات نے ارادہ فرمایا کہ میں پہچانا جاؤں۔ پہچاننے کے لئے ضروری ہے کہ خالق کائنات اللہ تعالیٰ  کا تعارف ہو۔۔ تعارف کے لئے ضروری ہے کوئی ہستی اپنا تعارف کرائے۔ خالق کائنات اللہ تعالیٰ  نے اپنا تعارف اس طرح کرایا کہ فرد جاننے، دیکھ کر پہچاننے اور اقرار کرنے کا عمل پورا کرے۔

2۔کائنات کی تخلیق کا جو پروگرام اللہ تعالیٰ  کے ذہن میں ہے، اللہ نےاجتماعی طور پر نشر کرنے کا ارادہ فرمایا تو کہا۔۔۔ ہوجا۔۔۔ کیا ہوجا۔۔۔؟ اللہ تعالیٰ  کے ذہن میں جو پروگرام ہے وہ ظاہر ہوجائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ  کے ذہن کے مطابق تخلیقات اجتماعی طور پر ظہور میں آگئیں۔ اس تخلیق یعنی کائناتی ذہن میں اس کے علاوہ کوئی فہم نہیں تھی کہ میں ہوں۔ کیاہوں۔۔ کون ہوں۔۔ کیوں ہوں۔۔ کہاں ہوں۔۔ کس لئے ہوں۔۔ اور مجھے بنانے والا کون ہے۔۔؟

3۔سکوت اور عالم حیرت سے آزاد کرنے کے لئے رب العالمین اللہ تعالیٰ نے رونمائی فرمائی۔ مخلوقات نے خالقِ کائنات کی آواز سنی۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟

نورانی لہریں سماعت بن گئیں۔

سماعت کا نظام یہ ہے کہ آواز کی لہریں کان میں داخل ہو کر کان کے پردہ  (ear drum) سے ٹکراتی ہیں۔ ان لہروں سے کان کے پردہ اور وسطی کان کی تین ہڈیوں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ یہ ارتعاش اندرونی کان میں موجود سیّال سے گزر کر ننھے بال نما خلیوں میں حرکت کا سبب بنتاہے۔

خلیے حرکت کو detectکرتے ہیں۔ اور کیمیائی سگنل میں تبدیل کر دیتے ہیں جو سماعتی عصب hearing nerve وصول کرتی ہے۔سماعتی عصب ان معلومات کو برقی رو کی شکل دے کردماغ کو بھیج دیتی ہے جہاں یہ آوازوں کی صورت میں سمجھی جاتی ہے۔ یہ نظام ہر مخلوق میں موجود ہے۔

مخلوقات نے جب خالق کائنات کی آواز سنی تو اللہ تعالیٰ  کو دیکھ کر اس کی منشا کو پورا کرنے کا عہد کیا۔ دوسرا نظام دارالعمل (امتحان گاہ) ہے۔

تیسرے نظام میں جنات اور انسان کی امتحان میں کامیابی یا ناکامی سے واقفیت ہے۔

زندگی گزارنے کے ذرائع متعین ہیں۔ ایک رخ وہ پروگرام ہے جو اللہ تعالیٰ  کو پسند ہے۔ اس کے برعکس زندگی کا دوسرا رخ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ  کے لئے ناپسندیدہ ہے۔پسندیدہ رخ خالق کائنات سے قربت کا وسیلہ ہے۔ اور ناپسندیدہ طرز فکر بندہ کو اللہ تعالیٰ  سے دور کردیتی ہے۔زندگی میں اگر شکوک و شبہات ہیں تو کردارمیں بھی شکوک و شبہات ہوتے ہیں۔طرز فکر میں قانون قدرت کے مطابق راست بازی ہے تو بندہ کی زندگی روشن اور پرنور ہے۔

قارئین !میں آپ نے جو کچھ پڑھا ہے، محسوس ہوسکتا ہے کہ یہ پرپیچ اور مشکل مضمون ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔ میری کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ  کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ قانون قدرت اس طرح بیان ہوجائے کہ تفکر کی روشنی سے بات آسان ہوجائے اور سمجھ میں آجائے۔

خالق کائنات رحیم و کریم اللہ تعالیٰ  یہ چاہتے ہیں کہ بندے اللہ تعالیٰ  کو اس طرح پہچانیں کہ خالق اور مخلوق کا رشتہ آنکھوں دیکھا حال بن جائے۔

کائنات میں نشر کرنے کے لئے پیغام پہنچانے والے برگزیدہ بندوں کا انتخاب ہوا۔ نوع آدم کے لئے پہلے رہنما حضرت آدمؑ منتخب ہوئے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہے,

"اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ انہوں نے عرض کیا، کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے انتظام کو بگاڑدے گا اور خون ریزی کرے گا؟ آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس توہم کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے۔اور اللہ تعالیٰ  نے آدم کو علم الاسما سکھایا۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تمہارا خیال صحیح ہے تو ان صفات کے بارے میں بتاؤ۔ انہوں نے عرض کیا، آپ کی ذات پاک ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں دیا ہے۔ بے شک آپ علیم وحکیم ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ  نے آدم کو حکم دیا کہ تم فرشتوں کو ان صفات کے بارے میں بتاؤ۔ جب آدم نے فرشتوں کے سامنے علم الاسما کی تشریح بیان کی۔ اللہ ٰ  نے فرشتوں سے فرمایا، میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکار کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا اور ہم نے آدم سے کہا، تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور یہاں خوش ہو کر جہاں سے چاہے کھاؤ پیو مگر اس درخت کا رخ نہ کرنا ورنہ ظالموں میں شمار ہوگے۔ آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی ترغیب دے کر ہماری حکم کی پیروی سے ہٹادیا اور انہیں اس حالت سے نکلواکر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ ہم نے حکم دیا کہ اب تم سب یہاں سے اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزربسر کرنا ہے۔ اس وقت آدم نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی، جس کو اس کے رب نے قبول کرلیا، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔"(البقرۃ : 30-37)

انسان کی فضیلت یہ ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ  نے صفات کا علم۔۔۔ علم الاسما عطا کیا ہے۔ نافرمانی کے نتیجہ میں زمین پر آجانے کے بعد یہ علم دبیز پرتوں میں چھپ گیا۔ رب اللعالمین۔۔۔ نہایت غفور الرحیم ہے۔ رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔ اگر آدمی کھوئی ہوئی میراث ۔۔۔ علم حاصل کرلے۔۔۔ وہ خاص علم جس سے جنات واقف ہیں نہ فرشتے۔۔۔ تو آدمی اپنے ازلی مقام جنت میں رہ سکتا ہے جہاں غم اور خوف نہیں ہے۔

نوع آدم اور جنات کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ  نے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر نبی اور رسول نے امت کو راہِ راست پر چلنے اور گمراہ ہونے سے بچنے کا پیغام دیا۔

ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک کوئی قوم ہادی اور ہدایت سے محروم نہیں رہی۔

 ہر امت کو حالات کے تقاضوں کے مطابق تعلیم دی گئی۔ اللہ تعالیٰ  نے اپنے برگزیدہ بندوں کے ذریعہ امتوں پر یہ واضح کیا کہ جو بات انہیں بتائی جارہی ہے وہ نئی نہیں ہے بلکہ اس پیغام کا تسلسل ہے جو ان سے پہلے کی امتوں کو دیا گیا، تاکہ نوع آدم اللہ تعالیٰ  سے متعارف ہو اور امتوں کے درمیان مساوات قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ  فرماتے ہیں،

"اے نبیؐ، ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیج جس طرح نوحؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔ ہم نے ابراہیمؑ ، اسمٰعیلؑ ، اسحقؑ ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوب، عیسیؑ ، ایوبؑ ، یونسؑ ، ہارونؑ اور سلیمانؑ کی طرف وحی بھیجی۔ ہم نے داؤدؑ کو زبور دی۔ ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کرچکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔ ہم نے موسیٰ ؑ سے کلام کیا۔ یہ سارے رسول خوشخبری سنانے والے اور خبردار کرنے والے بھیجے گئے تھے تاکہ لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ  کے مقابلہ میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ تعالیٰ  بحرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ (النسآء : 123-125)

اللہ تعالیٰ  نے آخری کتاب قرآن کریم میں حضرت محمدؐ سے مخاطب ہو کر پیغام میں تسلسل کی تصدیق کی ہے۔

اے نبیؐ، تم کو جو کچھ کہا جارہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں کو نہ کہی جاچکی ہو۔ (حٰم السجدۃ: 43(

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین اور رحمت اللعالمین ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی عبدیت کی عظیم مثال ہے۔ تبلیغ دین کے دوران حضورؐ پر جب کفار کے مظالم بڑھے، خانہ کعبہ میں سجدہ کے دوران جان لینے کی کوشش کی گئی، حضورؐ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا سوشل بائیکاٹ کیا گیا، بیٹیوں کو تکالیف پہنچائی گئیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم صراط مستقیم پر قائم رہے۔ حضورؐ کو تکلیف پہنچانے کے لئے "اذیت کمیٹی" بنائی گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درگزر فرمایا اور کبھی بددعا نہیں دی۔ طائف میں تبلیغ دین کے دوران اوباش لڑکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتنے پتھر برسائے کہ نعلین مبارک خون میں بھرگئیں۔ جبرئیل امین حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو بستی والوں پر پہاڑ الٹ دیئے جائیں۔

 رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،

"میں مخلوق کے لئے زحمت نہیں رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں۔ میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ  ان کی نسلوں سے ایسے بندے پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ تعالیٰ  کی عبادت کریں گے۔"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی کا عالم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا،

"جب انسان یہ جان لے کہ وہ کس کے لئے اور کس کی خاطر رنج اٹھارہا ہے تو اسے دکھ اور درد کا احساس نہیں رہتا۔"

عبادت کا تقاضہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ  کا تعارف حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ  حاضر و ناظر کے حضور خود کو حاضر دیکھے۔ رب العالمین اللہ کا ارشاد ہے،

میں نے جن اور انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ (الذٰریٰت: 56(

بندگی کا مفہوم ہے کہ عبادت، آداب، تسلیم و رضا، عجز و انکسار، فرمانبرداری اور بندہ کا ہر طرز عمل کیئر آف اللہ تعالیٰ  ہو۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ رسول اللہؐ کی سیرت طیبہ پر صدق دل کے ساتھ عمل کیا جائے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ  ہم سب کو صدق دل کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدین عظیمی


دل گداز

خواتین وحضرات کے نام