Topics

دخان۔کاربن۔ماہنامہ قلندر شعور۔اپریل 2019

 

مخلوقا ت لا شما ر لیکن تخلیق کا فارمو لا ایک ہے ۔ فا رمولا مقداروں میں قسم قسم کے عجا ئبا ت میں ظا ہر ہو تا ہے ۔ قر آن کریم کے مطابق ہر شے پا نی سے پیدا کی گئی ہے ۔ پا نی میں حر کت ہے اور حر کت کا تعلق حرارت سے ہے ۔ ٹھنڈک اور حدت —حرارت کے دو رخ ہیں ، ایک پر منفی اوردسرے پر مثبت چا رج ہے ۔ چا ر ج کے معنی  دبا و َ کے ہیں ۔ حر ارت میں درجہ بدرجہ کمی بیشی کی منا سبت سے تخلیقا ت وجو د میں آتی ہیں ۔

پا نی میں حرارت ، پا نی سے پیدا ہو نے والی ہر مخلوق میں منتقل ہو تی ہے ۔ پا نی بذا ت خو د فارمولا ہے جس میں ہر وہ مقدار شا مل ہے جس سے وائر س سے لے کر پہاڑ تک کا مظا ہر ہ ہو تا ہے ۔ پا نی کے فارمولے میں پا نی سے پیدا ہو نے والی تخلیقا ت کی مقداریں ساخت کے مطا بق نما یا ں ہو تی ہیں ۔ ہر مقدا ر دوسری مقدار سے الگ ہے لیکن جب تک ادراک منتقل نہ ہو ، پہچان (ڈا ئی مینشن ) مغلو ب رہتی ہے ۔

ڈا ئی مینشن کب غالب ہو تے ہیں — ؟ معدنی ذخا ئر مختلف دھا توں کی شکل میں زیر زمین جس مقا م پر مو جو د ہیں وہا ں حدت زیا دہ ہے ۔ حدت کی وجہ سے دھا تیں پگھل کر تحلیل ہو تی ہیں یعنی ان کی ڈائی مینشن مغلو ب ہو جا تی ہے  ۔ حدت کم ہو کر منفی درجہ میں داخل ہو تی ہے تو اس عمل کے دوران وہ دھا تیں جو تحلیل ہو گئی تھیں، اپنی مخصو ص مقداروں کی طر ف رجو ع کر تی ہیں  اور شنا خت ظا ہر ہو تی ہے ۔

پا نی میں تیل ڈالیں، تیل اوپر آجا تا ہے ۔ اس پا نی کو آگ پر رکھیں ، تیل کی مقداریں پگھل کر پا نی میں شا مل ہو جا ئیں گی کیوں کہ پا نی میں تیل کی اور تیل میں پا نی کی مقدار شا مل ہے ۔ اب پانی کو ٹھنڈا کریں ۔ تیل پا نی سے الگ ہو جا ئے گا۔

قارئین اس کا تجر بہ کیجیئے ۔

• • ———————— • •

ہر مخلو ق حرارت کے ایک مخصو ص درجہ کا نا م ہے ۔ اس درجہ میں کمی یا زیا دتی  سے شکل تبدیل ہو تی ہے ۔ پا نی سے خو ن ، خو ن سے دودھ ، دودھ سے با لا ئی ، بالا ئی سے مکھن اور مکھن سے گھی بننا کیا ہے ___؟ پا نی میں گھی موجو د ہے اور اس وقت نما یا ں ہو تا ہے جب حرارت گھی کے لئے مخصو ص درجہ کے برا بر ہو جا ئے ۔  اسی طر ح دالوں ، سبزیوں اور دیگر انا ج کو مشین سے گزارا جا ئے  تو ان میں چکنا ئی خا رج ہو تی ہے جس کو ہم تیل کہتے ہیں ۔ چکنا ئی کی مقداریں ٹوٹنے سے ڈائی مینشن نظر نہیں آتیں۔

غور کیجیے— چکنا ئی جس کا دوسرا نا م تیل ہے ، پا نی میں مو جود ہے ۔ جس شے میں ثقل پیدا ہوتا ہے وہ بھا ری ہوجا تی ہے اور اس میں ڈا ئی مینشن ظا ہر ہو تے ہیں —  پا نی میں زندگی کی ساری ڈا ئی منیشن مو جو د ہیں ۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے "السحا ب الثقا ل " فر ما یا ہے ۔

"اور وہی تو ہے جو تمہیں خو ف اور امید دلا نے کے لیے بجلی دکھا تا ہے اور بھا ری با دل پیدا کرتا ہے ۔" (الرعد:۱۲)

مفہو م یہ ہے کہ اللہ نے اولی الالبا ب  ہستیوں کو منفی و مثبت چا ر ج سے واقف کرانے کے لئے برق سے متعارف کرایا ہے اور ثقل والے با دل پیدا کئے ہیں۔

تجزیہ:   پانی  — ثقل  — چکنا ئی —  مثبت چا رج — منفی چا رج        =       بر ق

برق  — آگ ہے اور آگ اور بجلی دونوں دونوں کا کام جلا نا ہے ۔

• • ———————— • •

کا ئنا ت کا نظا م حر کت پر قا ئم ہے ۔ حر کت تیز ہو نے سے حدت پیدا ہو تی ہے ، حدت کو آگ سے تشبیہ دی جا تی ہے ۔     حر کت کی رفتا ر کم ہو نا ، حدت کا دوسرا رخ —  ٹھنڈک ہے ۔حدت اور ٹھنڈک دونوں حرارت ہیں ۔ حرارت کیا ہے — ؟ حرارت ایک قسم کی توانا ئی ہے جو کیمیا ئی طور پر ایندھن جلا نے سے ، میکا نیکی طریقہ میں رگڑ سے اور بر قی طریقہ میں مزا حمت سے پیدا ہو تی ہے ۔ کیمیا کا تعلق گیس سے ہے ، میکا نیکی کا تعلق ٹھو س  سے اور بر قی کا تعلق — سیا ل سے ہے ۔ یہ تینوں حالتیں پا نی میں مو جو د ہیں۔

• • ———————— • •

قرآن کریم میں ارشا د ہے ،

"جس نے تمہا رے لئے سبز درخت سے آگ پیدا کی پھر تم اس سے جلا تے ہو ۔" (یٰس :۸۰)

اب آپ سبز درخت سے آگ پیدا ہو نے کی سائنسی اور روحا نی توجیہ پڑھئے ۔

سا ئنسی توجیہ:   خو ن میں گلوکو ز کی ایک مخصو ص مقدا ر  گردش میں رہتی ہے ۔ اگر یہ مقدا ر مخصو ص حد سے کم ہو جا ئے تو چکر آجا تے ہیں اور آدمی بے ہو ش ہو سکتا ہے ۔

پودوں میں گلوکو ز کی تیا ری کا عمل ضیا ئی تالیف (photosynthesis )ہے اور حر کت کا تعلق حرارت سے ہے ۔ ٹھنڈک اور حدت ___ حرارت کے دو رخ ہیں ، ایک پر م کہلا تا ہے ۔ پتوں میں مو جو د سبز ما دہ (کلو روفل) سورج کی حدت سے کا ربن ڈائی آکسا ئیڈ اور جسم میں موجود پا نی کو گلو کوز میں تبدیل کر تاہے ۔ نتیجہ میں آکسیجن خا ر ج ہو نے سے فضا صا ف ہو تی ہے اور ما حول کو نقصا ن سے بچا تی ہے ۔

گلو کو ز     پتوں ، پھولوں اور پھلوں میں رنگ بر نگ اقسا م میں ذخیرہ ہو تا ہے۔ حیوانا ت اسے بطور غذا استعما ل کر تے ہیں ۔ حیوانی اور نبا تا تی خلیہ میں گلوکوز آکسیجن کے سا تھ تعامل (reaction) کر کے دوبا رہ کا ربن ڈا ئی آکسا ئیڈ، پا نی اور حرارت میں بدل جا تا ہے ۔ گویا یہ ضیا ئی تالیف کے عمل کا الٹ ہے ، اسے خلیہ کا میٹا بولز م کہتے ہیں ۔

          خلیہ کا میٹا بولزم احترا ق (combustion) یا جلنے کے عمل کی ما نند ہے ۔ فر ق اتنا ہے کہ خلیہ کے اندر ہو نے والا یہ عمل محدودنو عیت کا ہے اور توانا ئی کی خفیف مقدا ر  خا ر ج ہو تی ہے ۔ خلیہ اس اندرونی "آتش دان" کو محفوظ طریقہ سے حر کت میں رکھتا ہے ۔ مثال گا ڑی کے انجن کی ہے جس میں پٹرول تھو ڑا تھوڑا جلنے سے انجن متحر ک رہتا ہے ۔ سانس کے ذریعے آکسیجن ہر خلیہ میں پہنچ کر میٹا بولز م کا حصہ بنتی ہے ۔ جس طر ح آگ کو دھونکنی سے فروزاں کر تےہیں ، آکسیجن میٹابولزم کے عمل کو تیز کر تی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھا گتے وقت  ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں ۔

• • ———————— • •

روحا نی توجیہ:    رب کا ئنا ت کا اشا د ہے ،

                            بسم اللہ الرحمن الرحیم

"پا ک اور بلند مرتبہ ہے وہ ذات جس نے تخلیق کیا مقداروں میں اور ان مقداروں کی ہدایت بخشی ۔ جس نے روئیدگی پیدا کی اور سے سیا ہ کوڑا کردیا۔"(الاعلیٰ : ۱-۵)

          ہر مخلو ق  مقدا روں سے مرکب ہے اور ان مقداروں کا خا لق اللہ تبا رک و تعالیٰ ہے ۔ آگ ، ہوا، مٹی اور پا نی تخلیق کے بنیا دی عنا صر ہیں ۔ ان کے ردوبدل سے دیگر تخلیقا ت وجو د میں آتی ہیں ۔ مگر غور طلب ہے کہ یہ چاروں عنا صر بھی مقداروں سے مرکب ہیں۔

          مثلاً آگ صر ف آگ سے نہیں بنی ، یہ ان تما م اجزا کا مرکب ہے جو کا ئنا ت میں موجود ہیں ۔ یہ اجزا جب آگ کے لئے مخصوص مقداروں میں جمع ہو تے ہیں تو ایک فارمو لا بن جا تا ہے جس کو آگ کہتے ہیں۔

          ما حو لیا تی نظا م میں اعتدال قا ئم رکھنے کے لئے نبا تا ت کا کردار اہم ہے ۔ نبا تا ت کی پہچان بنیا دی طور پر سبز رنگ ہے ۔ درخت ، پتے ، گھا س پھو س ، پھو ل پتی ، ترکا ریا ں ، فصلیں سب میں سبز رنگ نما یا ں ہے اور سبز ٹھنڈک کی علا مت ہے ۔ جس طرح  ہر شے  اپنے متضا د رخ سے پہچا نی جا تی ہے اسی طر ح ٹھنڈک کا متضا د رخ آگ ہے جو درختوں  میں مو جود لیکن مغلوب ہے ۔ ہر ے بھر ے درخت میں آگ کی وجہ اس کے اندر تیل مو جو د ہو نا ہے ۔ اگر حدت اتنی زیاد ہ ہو جا ئے کہ لکڑی کی مقداریں ٹوٹیں اور تیل کا غلبہ ہو جا ئے تو تیل سے جو شے ٹکرا ئے گی ، اس کی رگڑ سے آگ پیدا ہو گی ۔

          ایک طر ف تیل یعنی  چپک نے اجزا  کو جو ڑ کر رکھا ہے ۔ دوسری طر ف اسی تیل کی وجہ سے اشیا میں جلنے یا راکھ ہو نے کا وصف مو جو د ہے ۔  یہی وجہ ہے کہ لکڑ ی بھی آگ پکڑ لیتی ہے ، مٹی سے بھی تیل نکلتا ہے اور پا نی میں بھی آگ لگتی ہے ۔ تیل میں کا ربن ہو تا ہے اور کا ربن کی خصوصیت جلا نا ہے ۔ جلنے سے دھواں پیدا ہوتا ہے اور دھوان کثیف شے ہے ۔ البتہ ایک تیل زیتون ہے جس میں کاربن نہیں ۔

          ڈا ئی مینشن نما یا ں کب ہوئے — ؟ قر آن کریم میں ارشا د با ری ہے ،

"پھر وہ آسما ن کی طر ف متوجہ  ہوا اور وہ اس وقت دخا ن تھا ۔ اس نے دخا ن اور زمین سے کہا ، دونوں آوَ ، خو شی یا زبر دستی سے ۔ دونوں نے کہا کہ ہم خو شی سے آتے ہیں ۔"(حمٰ السجدۃ:۱۱)

          کا ئنا ت کی تخلیق میں ایک مر حلہ وہ ہے جب آسما ن "دخان " کی حالت میں تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں داخل ہو نے کا حکم دیا ۔ جیسے ہی دخان زمین میں داخل ہوا، زمین میں ڈائی مینشن نما یا ں ہو گئے۔

          واضح رہے کہ قرآن کریم نےجسے دخا ن فرما یا ہے ، سائنس اسے کاربن کہتی ہے تاہم لفظ کا ربن سے "دخا ن " کی وضا حت نہیں ہوتی ۔

          اس تشریح سے درخت میں سے آگ پیدا ہو نے کے عمل کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

          آگ کا غالب رنگ سرخ ہے ۔ سبز اور سرخ        لکڑی میں منفی اور مثبت چارج کی علا مت ہیں  ۔ مثبت اور منفی چار ج ایک دوسرے میں جذب ہو تے یعنی ایک دوسرے سے رگڑ کھا تے ہیں تو ایندھن بنتا ہے جس کو ہم سانس لینا کہتے ہیں ۔

          سانس کا تعلق کیلوریز سے ہے ۔ حرارت کی وہ مقدار جو ایک گرام پا نی کو ایک درجہ سینٹی گریڈ تک گرم کر سکے، کیلوری کہلا تی ہے ۔ جسم ستر فی صد پا نی پر مشتمل ہے ۔ پا نی میں مثبت اور منفی دونوں چارج ہیں ۔ پا نی میں توانا ئی داخل ہو نے سے دونوں چارج ٹکراتے ہیں ، ان کی رگڑ سے بھا پ پیدا ہو تی ہے ۔ بھا پ سانس بن کر جسم سے خا رج اور داخل ہو تی ہے ۔

          اس فا رمولے کویک سوئی کے ساتھ دوبا رہ پڑھئے۔

          آنا اور جا نا ، دو مقداریں ایک جگہ جمع ہو تی ہیں تو ہم اسے سانس کہتےہیں۔ سانس لینے اور سانس با ہر آنے میں جو شے متا ثر ہو تی ہے وہ ٹھہراوَ یا عدم ٹھہراوَ ہے ۔ گہرائی میں سانس لینے سے زندگی کا وقفہ بڑھتا ہے ، سانس سطحی ہے تو دورانیہ کم ہو جا تا ہے ۔ دووجود فنا ہو نے سے تیسرا وجو د پیدا ہو تا ہے ۔ یہ تیسرا وجو د ایک زندگی ہے جو اپنے دوسرے رخ سے مل کر فنا ہو تا ہے اس طر ح زندگی سے مو ت اور مو ت سے زندگی ظا ہر ہو تی ہے ۔

لا ئی حیا ت آئے قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خو شی چلے

          اللہ حافظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

اپریل 2019

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔