Topics

حواس کی تقسیم ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ نومبر2022


 

آج کی با ت

بچہ دنیا میں آتا ہے تو جانتا ہے کہ میں کو ن ہوں اور مجھے کس نے بنا یا ہے ۔ یہ دنیا اس کے لئے نئی ہے مگر یہ پہلی دنیا نہیں ۔ وہ کئی دنیا ؤں سے گز ر یہا ں آیا ہے ، وہاں اسے ہستی کا شعو ر تھا ۔ جانتا تھا کہ میں مخلوق ہوں اور خالق اللہ ہے ۔

          اس شعو ر کی داغ بیل روزِ ازل میں پڑی جب مخلوق نے آواز سنی ۔ کیا میں تمہا را رب نہیں ہوں ؟ آوا ز سے حوا س میں حر کت ہو ئی اور شنا خت کی صلا حیت بیدا ر ہو ئی ۔ اس صلا حیت کے ذریعے مخلو ق پہلے سما عت سے واقف ہو ئی پھر جا ننے کے کو شش کی کہ آواز کہا ں سے آرہی ہے اس کس نے پکا را ہے تو بصا رت متحر ک ہو ئی ۔ مشا ہدہ احسا س میں داخل ہو تے ہی یقین کی تکمیل ہو ئی کہ پکا ر نے والی ہستی رب العالمین ہے ۔ مخلو ق نے اقرار کیا، جی ہا ں ! آپ ہما رے رب ہیں ، اور سجدے میں چلی گئی ۔

          کا ئنا ت میں تما م دنیا ئیں رنگ و روشنی کی درجہ بند ی ہیں ۔ روشنی کسی نہ کسی رنگ میں ظا ہر ہو تی ہے ۔ جس دنیا میں کششِ ثقل مغلوب ہے ، وہا ں روشنی کو دیکھتے ہو ئے رنگ کا خیا ل نہیں آتا ۔ رنگ سے مرا د دوری ہے ۔ اور جس دنیا میں کششِ ثقل کا غلبہ ہے  ، وہاں روشنی مو جو د ہو تی ہے مگر رنگ گہرے ہو جا تے ہیں جن کو دیکھ کر روشنی کا خیال نہیں آتا ۔

          پا نی ایک نو ع ہے ۔ اس کی نسلیں اور خا ندا ن ہے ۔ پا نی میٹھا ہو تا ہے ، نمکین اور بھا ری بھی ۔ اس کے لا شما ر رنگ ہیں  جیسے نیلا ، سبز ، سرخ اور سیا ہ ۔ یہ گرم ہوتا ہے اور ٹھنڈا بھی ، گدلا ہو تا ہے اور شفا ف بھی ۔ شفا ف پا نی آئینہ بن جا تا ہے اور نگا ہ کو تہ تک لے جا تا ہے ۔ گدلا پانی بھی عکس جذب کر تا ہے مگر اندر کی تصویر نہیں دکھا تا، اس کی سطح نگا ہ کے لئے پر دہ بن جا تی ہے ۔ گدلے پانی کو گہرا رنگ گہہ سکتے ہیں ۔

**----------------------------**

          ہر پیدا ہو نے والے بچے کا ذہن نئی دنیا کی روایا ت سے خا لی ہوتا ہے مگر وہ کا ئنا تی شعو ر سے لا عمل نہیں ہو تا۔ پیدا ئش کے بعد تین ما ہ تک بچے کی طر ز فکر ان دنیا ؤں سے رنگین ہو تی ہے جہا ں سے وہ آیا ہے ۔ وہ خلا میں ٹکٹکی با ندھ کر دیکھتا ہے ، غوں غاں کی آواز نکا لتا ہے ، مسکرا تا ہے اور تکلیف کا اظہا ر بھی کر تا ہے ۔

          وہ  کہا ں دیکھ رہا ہے ، کیا دیکھ رہا ہے اور کیوں مسکرارہا ہے۔۔ ۔ ؟

          بچے کا ذہن لا شعو ر کے زیر اثر ہے جس میں رنگ کی طرزیں*  مو جو د ہیں مگر نگا ہ ان رنگوں میں روشنی دیکھتی ہے یعنی بچے میں وہ حوا س متحر ک ہیں جو reality  کو دیکھتے ہیں اور وہ حواس مغلوب  ہیں جن میں illusion ہے ۔

          قدرت کا نظا م ہے کہ بچہ تین ما ہ تک ما ں کو خوش بو سے پہنچا نتا ہے ۔ خو ش بو لہروں میں مظا ہر ہ کر تی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ بچہ لہروں کے ذریعے شنا خت کر تا ہے ۔ دیکھتا اور سنتا ہے ۔ وہ دیکھنے ، سننے اور بو لنے کے لئے حوا س کی تقسیم سے واقف نہیں بلکہ اندر کی آنکھ سے دیکھتا ہے جو تما م حوا س کا ایک نقطے میں مشا ہد ہ کر تی ہے اور وہ نقطہ لہریں ہیں ۔ با لفا ظ سے دیگر بچہ جانتا ہے کہ میں اس وقت سنتا ، بو لتا ، سونگھتا اور محسو س کر تا ہوں جب انر میں تصویر بنتی ہے ، میں اندر میں دیکھنے کو دیکھتا ہوں ۔ لیکن فکشن ما حول کے زیر اثر وہ رفتہ رفتہ یہ با ت بھول جا تا ہے ۔

          تجر بہ کیجیے ۔ پا نی کہنے سے اندر میں پا نی کی شبیہ نظر آتی ہے ۔

          بچہ ما ں کو یا د کر تا ہے ، یا د کی لہروں کی شدت سے روتا ہے ، بیزا ری کا اظہا ر کرتا ہے ۔ یا د کرنے سے اندر میں ما ں کی تصویر بن جا تی ہے ۔ ما ں سینے سے لگا تی ہے  اور بچہ خو ش ہو جاتا ہے ۔

**----------------------------**

          حواس کی تقسیم اور حوا س کی ایک نقطہ میں موجودگی کو سمجھئے ۔

          اسما رٹ فون پر کسی کوویڈیو کا ل کی جا تی ہے ۔ وہ شخص چند کلو میٹر یا ہزاروں میل دور ہے پھر اسپیکر سے آواز کیسے آئی اور اسکرین پر تصویر کہا ں سے آرہی ہے ؟

          مو با ئل ٹا ور کے ذریعے آنے والی لہروں میں آواز اور تصویریں مو جو د ہیں جو لہروں کے اسما رٹ فون میں داخل ہو نے کے بعد نظر آتی ہیں ۔ ہم جو کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں ، وہ لہروں کا روپ ہے ۔لہریں تقسیم ہو کر آواز اور تصویر میں ظا ہر ہو تی ہیں تو اسے حواس کا تقسیم ہو نا کہتے ہیں یعنی آدمی سمجھتا ہے کہ تصویریں اور آواز الگ الگ ہیں ۔ جب لہریں ایک حا لت میں رہتی ہیں ، وہ حا لت جو اسمارٹ فون میں داخل ہو نے سے پہلے ہے ، اسے حوا س کا ایک نقطے میں مو جو د ہو نا کہتے ہیں ۔

**----------------------------**

          ہر بچہ ایک نقطہ ٔ ذہنی میں دیکھنے کی صلا حیت کے ساتھ دنیا میں آتا ہے ۔ وہ لہروں کو اولیت دیتا ہے  اس لئے سما عت و بصار ت کو الگ الگ نہیں سمجھتا بلکہ جا نتا ہے کہ لہریں سما عت ہیں اور لہریں بصا رت ہیں ۔ جب ما حول کی طر زیں شعو ر کا حصہ بنتی ہیں تو وہ چیزوں کو یک جان دیکھنے کے بجا ئے تقسیم کر کے دیکھتا سیکھتا ہے  جس سے شک اور وسوسے کی طرز فکر غا لب ہو تی ہے یہا ں تک کہ اس شعو ر پر پردہ آجا تا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ اب اسے لہر رنگوں میں تقسیم نظر آتی ہے یعنی دوری پیدا ہو جا تی ہے ۔

          اگر بچے کے ما حول میں حقیقت شنا سی کی طر زیں ہیں مثلا ً ما ں با پ اللہ اور خا تم النبیین رسول اللہ  ﷺ کی تعلیما ت پر عمل کر تے ہیں ، ذکر کا اہتما م کر تے ہیں ، تفکر سے فکر کو جلا بخشتے ہیں ، خد مت ِ خلق کر تے ہیں ، یقین سے قریب اور شک سے دور رہتے ہیں اور چا ہتے ہیں کہ ہما ری نسل اللہ رسولؐ سے محبت کر نے والی ہو تو ان کے بچوں کو اس دنیا میں روشن طر ز فکر حا صل ہو تی ہے ۔

v   آدمی لہروں سے واقف ہو ئے بغیر اپنی  اصل سے واقف نہیں ہو سکتا۔

v   لہروں میں زما نی و مکا نی فاصلے ہو تے ہیں لیکن نہیں ہو تے ۔ رفتار بہت تیز ہو تی ہے ۔

v   ہم جو کچھ بو لتے ہیں ، اس کی آواز لہروں کے ذریعے کا نوں کے اندر بالوں سے ٹکراتی ہے اور تصویر بنتی ہے ۔

v   عا م فرد تصویر کو دیکھتا ہے۔

v   یقین کے نو ر سے معمو ر فر د تصویر میں لہروں کا نظا م تلا ش کر تاہے ۔

v   تلا ش کے دوران ہر نشا نی ۔ نشا ن ِ منزل بن جا تی ہے ۔

 

خوا تین و حضرا ت اور بزرگوں سے درخواست ہے کہ آج کے با ت پر تبصرہ کریں۔

اللہ حا فظ

خوا جہ شمس الدین عظیمی

 

*رنگ کی طرزیں (حد بندی ۔ Limitation)

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔