Topics

خیال اور مشاہدے کا میکانزم ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ نومبر2021


آج کی بات

 


کائنات کا نظام لہروں کے ارتعاش وائبریشن پر قائم ہے ۔ کہیں سے حرکت کا آغاز ہوتا ہے اور ارتعاش تانے بانے کے کائناتی گراف میں پھیل جاتا ہے۔ ارتعاش جتنی مقدار میں جہاں تک پہنچتا ہے اسی کے مطابق لہروں میں تصویر میں ظاہر ہوتی ہیں۔ جہاں ارتعاش مدھم ہے وہاں حرکت محدود حواس سے مخفی رہتی ہے اور جہاں ارتعاش میں وزن ثقل زیادہ ہے حواس حرکت کو محسوس کر لیتے ہیں۔ تمہید سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔

 نمبر 1: حرکت ہر جگہ ظاہر ہے۔

 نمبر 2: جس کو غیب سمجھا جاتا ہے وہ حرکت کی محدود حو اس سے آزادی ہے۔

کسی چیز کی شناخت میں اہمیت حواس کی ہے۔ اگر حواس کا رخ زمین کی طرف ہے تو زمین کے کناروں سے نکلنا دور کی بات یہ زمین کی فضا میں بھی ایک خاص حد تک محدود رہتے ہیں۔ زمین ایسے حواس کا نام ہے جن میں کشش ثقل زیادہ ہے۔ مثلا زمینی ماحول اگر فضا میں دو سو میل تک محیط ہے جس کے بعد دوسرا زون شروع ہوتا ہے تو دو سو میل کے اندر محدود حواس کی رسائی محض ایک میل یا اس سے کم ہوتی ہے۔ آنکھ اندر میں دیکھتی ہے کہ زمین سے اوپر دو سو میل کے فاصلے پر جنات کی آبادی ہے۔ اگر حواس دو سو میل کا فاصلہ طے کر لیں تو ہم زمین پر رہتے ہوئے جنات کی دنیا میں داخل ہو سکتے ہیں۔ وہاں کی آوازیں سن سکتے ہیں۔ معمولات دیکھ سکتے ہیں اور وہاں کا ماحول اس طرح محسوس ہوتا ہے، جیسے ہم اسکرین پر فلم دیکھتے ہیں۔ کائنات میں فاصلہ جسمانی دوری کا نہیں، محسوس کرنے کی صلاحیت کا ہے۔

کمرے میں دس آدمی ہیں، ایک کو خوشبو یا بدبو آتی ہے، باقی کو نہیں آتی۔ اسی طرح حواس کی رسائی جتنی زیادہ ہوتی ہے دور کی آواز قریب محسوس ہوتی ہے اور رسائی جتنی کم ہوتی ہے ، قریب کی آواز دور ہو جاتی ہے۔ حواس کا فاصلہ کیسے کم ہو۔ ہم کام میں مشغول ہیں کہ ہزاروں میل دور دوست یاد آیا اور ذہن متوجہ ہو گیا۔

 نمبر 1: کیا یہ ممکن نہیں کہ دوست کو ہمارا خیال آیا یا لاشعور نے ہمیں اس کی طرف متوجہ کیا۔

          نمبر 2: قطع نظر کہ کس نے پہلے کس کو یاد کیا ۔ آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ دور موجود شخص کی فریکوئنسی قبول کرتا ہے اور اپنی وابریشن اس تک پہنچا سکتا ہے۔

 نمبر 3: آدمی زمین کی فضا میں رہتے ہوئے میلوں میل دور لہریں محسوس کرتا ہے۔ مگر زمین سے دو سو میل کے فاصلے پر جنات کی آبادی سے ناواقف ہے۔

نمبر 4: یاد ہزاروں میل دور کی ہے تو ارتعاش بھی ہزاروں میل کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچا ہے ۔

نمبر 5: ذہن کے پرتوں میں یہ بھی دیکھئے کہ دوست تک صرف ایک حس احساس کی رسائی ہوئی ۔ حس بصارت اور حس سماعت نے براہ راست کام نہیں کیا۔ وہ احساس کے تابع رہیں۔ دوست کی یاد آئی، اس کے ہونے کو محسوس کیا ، مگر معلوم نہیں ہوا کہ وہ اس وقت کیا کر رہا ہے۔ ایسے میں ذہن کی اسکرین پر نظر آنے والی دوست کی تصویر اور کانوں میں گونجنے والی آواز ماضی کی ہے۔ ذہن میں ریکارڈ ماضی کے علم کے مطابق دوست کو دیکھا۔

قارئین !اس نقطے پر تفکر کیجئے۔

احساس نے براہ راست کام کیا مگر مختصر مدت کے لیے بعد ازاں ذہن معنی پہنانے میں گم ہو گیا۔ احساس کی فریکوئنسی میں تسلسل قائم رہنے کے بجائے سوچ کا غلبہ ہو گیا کہ دوست اس وقت کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ جو فریکوئنسی ظاہر ہوئی تھی وہ اپنی جگہ رہ گئی ۔ اب قیاسی سفر شروع ہو گیا۔ کیا یہ خیال میں ملاوٹ نہیں۔ خیال اور خواب میں فرق یہ ہے کہ خواب میں آدمی معنی نہیں پہناتا ۔ خیال حر کت کی فریکوئنسی پر سفر کر کے ناقابل بیان وقت میں میلوں میں فاصلہ طے کرتا ہے ۔ جتنے حواس ہیں سب ساتھ سفر کرتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے کہ خواب میں ناقابل تذکرہ وقت میں ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ کیسے پہنچتے ہیں۔ لہروں میں تحلیل ہو کر۔ کیونکہ زمانی مکانی فاصلے لہروں کے لئے معنی نہیں رکھتے۔

 قانون: خواب میں کسی جگہ کا خیال آتا ہے تو بندہ لہروں میں منتقل ہو کر اس جگہ پہنچ جاتا ہے ۔ سفر کی یہ جہت لہروں میں تحلیل ہو کر ہی ممکن ہے اور اس میں وہ قانون کار فرما ہے۔ جس کا استعمال پیغمبر سلیمان علیہ السلام کے دربار میں کتاب کا علم رکھنے والے بندے آصف بن برخیا نے کیا۔ ملک سبا کم و بیش پندرہ سو میل دور تھا۔ آصف بن بر خیا نے سبا کی ملکہ بلقیس کا تخت پلک جھپکنے سے پہلے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضر کر دیا۔ حواس میڈیم کے ذریعے سفر کرتے ہیں۔ ادراک کی حد اس وقت بڑھتی ہے جب ہم میڈیم سے واقف ہوتے ہیں۔ اگر میڈیم مادی ہے تو سفر آنکھ کے سامنے بار یک کاغذ آنے پر رک جاتا ہے۔

اگر میڈیم روشنی ہے تو لہروں میں تحلیل ہونے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور سفر نور کے ذریعہ ہے تو خواب کے بعد کی دنیا ئیں روشن ہوتی ہیں۔ کائنات میں فاصلہ ایک زون کا دوسرے زون سے نہیں، حو اس کا حواس سے ہے۔ جیسے لہروں نے میلوں میل دور دوست سے رابطہ قائم کیا۔ مگر جب لہروں سے ناواقف ذہن نے خیال میں معنی پہنائے تو رابطہ منقطع ہو گیا۔ ذہن معنی پہنانے کے بجائے احساس کی فریکوئنسی پر مرکوز رہتا تو ممکن ہے میلوں میل دور آواز سننے کے لئے سماعت کی رسائی بڑھتی اور میلوں میل دور دیکھنے کے لئے بصارت کا میکانزم متحرک ہو تا، جیسے خواب میں ہو تا ہے ۔ ایک حواس مادیت کے اور ایک حواس لہروں کے ہیں۔ ہزاروں میل دور دوست کی وائبریشن محسوس ہونا، بتاتا ہے کہ دوری زمین کے طول و عرض کی نہیں، لہروں کے حواس سے ناواقفیت کی ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ

 

 دل کے آئینے میں ہے تصویر یار     

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی

 

گرامی قدر دوستو !ہم کہتے ہیں کہ پیاس لگتی ہے ۔ پیاس اطلاع ہے کہ اندر میں سیر ابی کی ضرورت ہے ۔ بات یہ ہوئی کہ طلب کے بعد مظاہرے کے اوپر سے پردہ اٹھتا ہے اور یہ پردہ و ہم خیال اور تصور کا مظاہرہ ہے۔ آپ نے آج کی بات میں خیال اور مشاہدے کا میکانزم پڑھا۔ ان تین کیفیات کو سامنے رکھ کر ذہن میں پردے پلٹے اور بتایئے کہ حواس قبول کرنے کا میکانزم کیا ہے؟

 

السلام عليكم ورحمة اللہ و برکاته!                                           

                                                                              اللہ حافظ

 خواجہ شمس الدین عظیمی

 

 خلاصہ:

ارتعاش جتنی مقدار میں جہاں تک پہنچتا ہے۔ اسی مناسبت سے تصویریں ظاہر ہوتی ہیں۔ کائنات میں فاصلہ جسمانی دوری کا نہیں، محسوس کرنے کی صلاحیت کا ہے ۔ زہن ابتدائی فریکوئنسی پر مرکوز رہے تو حواس کی رسائی بڑھ جاتی ہے ۔ خواب کی دنیا لہروں میں منتقل ہونے کے میکانزم کا مشاہدہ ہے۔ طلب کے بعد مظاہرے کے اوپر سے پردہ اٹھتا ہے۔

 1: وہم                   2 : خيال         3: تصور

 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔