Topics

تصوف اور صحابہ کرام

 

سوال: روحانیت اور تصوف کے حوالہ سے اولیاء اللہ کی کرامات اور کشف کا تذکرہ بڑی شد و مد سے کیا جاتا ہے جبکہ یہ بات حقیقت ہے کہ حضرات صحابۂ کرام اور صحابیاتؓ امت محمدیہ میں سب سے افضل ہیں۔ اور کوئی ولی رتبہ میں کسی صحابی سے بلند مرتبہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سے کرامات، کشف اور خرق عادات کا ظہور نہیں ہوا۔ اور اولیاء اللہ سے ہر زمانہ میں کرامات ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔

روحانیت میں مراقبہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ صحابۂ کرامؓ اور صحابیاتؓ نے مراقبے کیوں نہیں کئے؟

درخواست ہے کہ اس سلسلہ میں اسلامی نقطۂ نظر سے حقائق بیان کریں۔

جواب: اللہ کے حبیب رحمت اللعالمین علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’میں چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے محبت کے ساتھ مخلوق کو پیدا کیا تا کہ مخلوق مجھے پہچانے۔‘‘

(حدیث قدسی)

اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنی محبت خاص سے اس لئے پیدا کیا تا کہ مخلوق اسے پہچانے اس سے واقف ہو۔ اس کی کبریائی اور عظمت کا اقرار و اعتراف کرے۔ چونکہ مخلوق میں سب سے افضل تخلیق انسان ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا نائب اورخلیفہ بنایا۔ انسان کی سرکشی اور نافرمانی کے پیش نظر ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے۔

امتوں میں سب سے افضل نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت ہے اور اس امت میں سب سے افضل لوگ صحابہ کرامؓ ہیں۔

روحانیت کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کو پہچاننا ہے اس کا عرفان حاصل کرنا ہے مگر اللہ تعالیٰ کو پہچاننے سے پہلے انسان کو خود کو پہچاننا ضروری ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے:

’’من عرف نفسہٗ فقد عرفہ ربہٗ‘‘

یعنی جو شخص اپنی ذات کا عرفان حاصل کر لیتا ہے وہ خداوند قدوس کو پہچان لیتا ہے۔

صحابہ کرامؓ کی واردات قلبی اور روحانی کیفیات کے بارے میں ابدال حق، حضرت قلندر بابا اولیاءؒ لوح و قلم میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’ذات باری تعالیٰ سے نوع انسانی یا نوع اجنہ کا ربط دو طرح پر ہے ایک جذب کہلاتی ہے اور دوسری علم۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں اور قرونِ اولیٰ میں جن لوگوں کو مرتبہ احسان(مرتبہ احسان یہ ہے کہ بندہ یہ محسوس کرے اور دیکھے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ دیکھے اور محسوس کرے کہ وہ بندہ اللہ کو دیکھ رہا ہے) حاصل تھا۔ ان کے لطائف حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت سے رنگین تھے۔ انہیں ان دونوں قسم کے ربط کا زیادہ علم نہیں تھا ان کی توجہ زیادہ تر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق غور و فکر میں صرف ہوتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے روحانی قدروں کے جائزے زیادہ نہیں لئے کیونکہ ان کی روحانی تشنگی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اقوال پر توجہ صرف کرنے سے رفع ہو جاتی تھی۔ ان کو احادیث میں بہت زیادہ شغف تھا۔ اس انہماک کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کے ذہن میں احادیث کی صحیح ادبیت، ٹھیک ٹھاک مفہوم اور پوری گہرائی موجود تھی۔ احادیث پڑھنے کے بعد اور احادیث سننے کے بعد وہ احادیث کے انوار سے پورا استفادہ کرتے تھے۔ اس طرح انہیں الفاظ کے نوری تمثلات کی تلاش کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ الفاظ کے نوری تمثلات سے بغیر کسی تعلیم اور بغیر کسی کوشش کے روشناس تھے۔ مجھے عالم بالا کی طرف رجوع کرنے کے مواقع حاصل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ صحابۂ کرام کی ارواح میں ان کے ’’عین‘‘ قرآن پاک کے انواراور احادیث کے انوار یعنی نور قدس اور نور نبوت سے لبریز ہیں۔ جس سے میں نے اندازہ لگایا کہ ان کو لطائف کے رنگین کرنے میں جدوجہد نہیں کرناپڑتی تھی اس دور میں روحانی قدروں کا ذکر و فکر نہ ہونا اس قسم کی چیزوں کے تذکروں میں نہ پایا جانا غالباً اس ہی وجہ سے ہے۔‘‘

ابدال حق حضرت قلندر بابا اولیاءؒ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ صحابۂ کرامؓ کے دور میں پچیس(۲۵) فیصد لوگ روحانی ہوتے تھے جبکہ قحط الرجال کے اس دور میں گیارہ(۱۱) لاکھ آدمیوں میں ایک آدمی پوری طرح روحانی صلاحیتوں سے واقف ہوتا ہے۔

عام طور سے لوگ کرامات کو ہی روحانیت سمجھتے ہیں جبکہ یہ بات ہمارے سامنے ہے کہ جس شخص سے خرق عادت کا ظہور ہو وہ ہی روحانی آدمی سمجھا جاتا ہے۔ خرق عادات اور کرامات غیر مسلم حضرات سے بھی صادر ہوتی ہیں۔

عامتہ المسلمین کے ذہنوں سے یہ غلط فہمی دور کرنے کے لئے صحابۂ کرامؓ سے کرامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ اسلام کی مستند کتابوں سے صحابہ کرامؓ کی کرامات درج کی جا رہی ہیں۔ 

Topics


Ism E Azam

خواجہ شمس الدین عظیمی


نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین میں ملے۔ اس زمانے میں چین ایک بڑا متمدن اور ترقی یافتہ ملک تھا اور علم و دانش کا ایک بڑا مرکز تھا۔ 1987ء میں مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) کا قیام عمل میں آیا۔ مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے افتتاحی تقریر میں فرمایا تھا انشاء اللہ یہاں روحانی کلاسز کا اجراء ہو گا اور یہاں روحانی علم کی شمع روشن ہو گئی گفتہ و گفتہ اللہ بود کے مصداق مراقبہ ہال لاہور میں روحانی کلاسز شروع ہو گئیں ہیں کورس کی پہلی کتاب مرشد کریم کے لکھے ہوئے کتابچوں سے ترتیب دی گئی ہے۔ روحانی کلاس کی پہلی کتاب میں ابتدائی نوعیت کے روحانی سوال و جواب لکھے گئے ہیں مجھے یقین ہے کہ اگر طالبات اور طلباء ذوق و شوق سے اس کتاب کو استاد کی نگرانی میں پڑھیں اور تھیوری کے ساتھ ساتھ پریکٹیکل مراقبہ بھی کریں تو ان کے علم (Knowledge) میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔