Topics

اساتذہ کرام سے درخواست ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ مارچ 2022

 اساتذہ کرام سے درخواست

آج کی با ت

 

                  آدم و حوا کا پہلا مسکن جنت ایسی اسپیس پر آبا د ہے جہاں عا لی شان محلا ت ، نہریں ، مرغزار۔ نیلے پیلے ، اودے پیر ہن سے آراستہ پھولوں کے تختے ۔ خو ب صور ت با غا ت۔ پھل دار اور سایہ دار درخت ہیں ۔ پا نی سے اُبلتے فوارے ، کل کل کر تے جھر نے اور آبشا ریں ، دریا ، بوستا ن و نخلستا ن ہیں ۔ یہ سب چیزیں ہما ری زمین پر بھی مو جو د ہیں ۔

                  زمین ایک اسپیس ہے ۔ اسپیس کا مطلب بہت بڑی جگہ کو چھو ٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کردینا ہے ۔ زمین کا تذکر ہ کر تے ہیں تو اس سے کو ئی ملک یا کسی ملک کے کئی شہر مراد نہیں ہو تے ۔ زمین سے مرا دہے ۔ اتنا بڑا رقبہ جو اعداد و شما ر میں نہ آئے ۔ کہا جا تا ہے کہ ہما ری زمین تین حصے پا نی اور ایک حصہ خشگی ہے ۔ زمین کے اوپر کڑوںیا چھلوں کی شکل میں پہا ڑ ایستا دہ ہیں اور ان پہا ڑوں کے درمیا ن خا لی جگہ شہر اور ملک میں تقسیم ہے ۔ زمین کا رقبہ جو کچھ بتا یا جا تا ہے وہ محض قیا س ہے ، پورا ناپ تول ممکن نہیں ہوا ۔ سا ئنسی ترقی کے اس دور میں بھی ایسے علا قے ہیں جو دریا فت نہیں ہو ئے ۔

                  سمجھا یہ جا تا ہے کہ زمین واحد سیا ر ہ ہے جس پر زندگی کے آثا ر نظر آتے ہیں جب کہ ایسا نہیں ہے ۔ ہر سیا رے پر آدیا ں ہیں ۔ چا ند ، سوری، ستا رے اور کہکشا ئیں نظر آتی ہیں ۔ زمین پر حیا ت و مما ت کا سلسلہ ہے ، عما رتیں تعمیر ہو تی ہیں ، کھیتی با ڑی ہو تی ہے ، فیکڑیا ں لگتی ہیں ، ہو ائی جہاز اڑتے ہیں ، بڑے بڑے پا نی کے جہا ز اور با دبا نی کشتیا ں سمند ر کی منہ زور لہروں کا مقابلہ کر کے سفر کر تی ہیں ۔ دوسرے سیا روں میں بھی یہ سب ہو رہا ہے ۔

**----------------------------**

زمین پر کو ئی ایک شے ایسی نہیں جو بے رنگ ہو۔ کھیت کھلیا نوں میں رنگ ہیں ۔ پھو ل پھلواری اور درخت کے سراپے پر نظر ڈالئے ۔ جڑوں کا رنگ الگ ہے ۔ تنے کا رنگ الگ ہے ، لبا س کا رنگ الگ ہے ، لبا س سے مراد درخت کی چھا ل ہے ، پتوں کا رنگ الگ ہے ،پھولوں کا رنگ منفر د ہے اور درخت میں لگنے والے پھل بھی بے رنگ نہیں ۔ یہ رنگینی illusion ہے ۔

                  زمین پر تقریباً ساڑھے گیا رہ ہزا ر نوعیں آبا د ہیں ۔ ہر نو ع میں کم سے کم دوسو مخلو قات شما ر کی جا سکتی ہیں ۔ کتنی زیا دہ ہو سکتی ہیں ؟ اس کا کو ئی اندازہ نہیں ہے ۔

                  مچھلی ایک نو ع ہے ۔ بہت بڑے aquarium کے اندر رنگ بر نگ مچھلیوں میں کو ئی سرخ ہے ، کو ئی جامنی ہے ، کو ئی ٹرانسپیرنٹ ہے ، کو ئی چھو ٹی ہے ، کو ئی بہت بڑی ہے ۔ کو ئی مچھلی اتنی بڑی ہے کہ کئی ہزار مچھلیا ں اس کا ایک لقمہ بن جا تی ہیں ۔ یہی مثال درختوں ، پرندوں اور چوپایوں کے اوپر صادق آتی ہے ۔

                  زمین بھی تخت (طبقات) کی طر ح ہے اور اس میں آبا دیا ں ہیں ۔ تخلیقی قوا نین کے مطا بق ہما ری زمین دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ ایک حصہ وہ ہے جس پر آدم زاد چلتا پھرتا ، سوتا جاگتا اور کھاتا پیتا ہے ۔ دوسرا حصہ خلا میں واقع ہے اور یہ ہما ری زمین کی طر ح ہے ۔ زمین سے دوسو میل اوپر جنا ت کی آبا دیا ں ہیں جہاں افزا ئش نسل کا سلسلہ قا ئم ہے ، لہلہا تے کھیت ہیں ، با غا ت ہیں ، جما دا ت ، نباتا ت ، معدنیا ت ، دریا ، سمندر سب ہیں ۔ جنا ت کھا تے پیتے ہیں ، کاروبا ر کر تے ہیں ۔ ان کے یہاں ایجا دات و ترقی کا گراف آدمیوں کی ترقی سے زیا دہ ہے ۔

**----------------------------**

                  با ت یہ ہے کہ آدم و حوا کا پہلا مسکن جنت تھا  ۔ اور اب بھی ہے ۔

                  باشعو ر انسا ن اسے کہتے ہیں جو گردونواح کی صورت حا ل اور اندر کی دنیا سے با خبر ہو ۔ فکر طلب یہ ہے ۔ آدم و حوا جب جنت میں رہتے تھے تو ان میں کو ن سا شعور کا م کر تا تھا ؟ ہم جنت کو شعو ر کو رد نہیں کر سکتے ۔ جنت ایک لا محدود رقبہ ہے ۔ علم الٰہی سے منکشف ہوتا ہے کہ وہاں با غا ت ہیں ، انا ر اور کھجور کے درخت ہیں، انگور کی بیلیں ہیں ، جھو لےہیں ، خو ش نما قطا ر در قطا ر درخت ہیں ، پھولوں کے تختے ہیں ، ایسے پھول جن میں کئی کئی رنگوں کی آمیزش ہے ۔ ہوا چلتی ہے تو ساز بجتے ہیں ۔ پھول ہلتے ہیں تو جل بجھ روشنیوں کا ادراک ہوتا ہے ۔ خو ش بو کا یہ عالم ہے کہ فضا میں سے پھو لوں کی مہک گھو نٹ گھونٹ اندر اتر جا تی ہے ۔ پا نی دودھ جیسا سفید اور میٹھا ہو تا ہے ۔ شہد کا سنہر ی رنگ اور ذائقہ ہما ری زمین کے شہد سے ہزار گنا افضل ہے ۔ جب قطا ر درقطا ر درخت انا ز ، کھجور اور انگور کا تذکرہ آتا ہے تو شعو ر ایک قدم آگے نہیں بڑھتا لیکن وہ یہ سوچنے پر مجبو ر ہے کہ جنت میں حواس اور شعور دونوں موجود ہیں پھر جنت کے شعو ر سے آدم و حوا کو عارضی محرومی کیوں ہو ئی ؟

                  کسی پر انعا م و کرام کیا جا تا ہے تو وہ انعا م و کرام کرنے والی ہستی کا شکر گزار ہوتا ہے ۔ اس کے احکا ما ت کی تعمیل کر تا ہے ، جو ضابطے اس نے  متعین کر دیئے ہیں ان کی خلا ف ورزی نہیں کر تا ۔ جنت میں ایسا نہیں ہو سکا ۔ آدم و حوا کے لئے جو احکا ما ت صا در ہو ئے تھے ، ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ بنیا دی حکم یقین کا حصول تھا ۔ یہ با ت ذہن نشین کر دی گئی تھی کہ اگر تعمیل حکم سے انحرا ف ہو ا تو جنت کے شعور پر پر دہ آجا ئے گا ۔ جیسے ہی جنت کے شعور پر پردہ آیا ۔ محدود شعو ر کا غلبہ ہو گیا۔

                  محدود شعو ر کا مطلب احسا س محرومی ، اضطرا ب ، گھٹن اور پچھتا وا ہے ۔ اس دنیا میں رہتے ہو ئے اگر آدم و حوا کی اولا د زمین کے محدود شعو ر سے نکل کر جنت کے لا محدود شعو ر میں داخل ہو جا ئے تو یہ دنیا اس کے لئے جنت ہے ۔ جتنی دیر اس دنیا میں قیا م رہے گا، جنت کی کیفیا ت اس کے اوپر غالب رہیں گی۔ اور جب اس دنیا کا سفر ختم ہو گا تو جنت کا ابدی سکون اسے حاصل ہو جا ئے گا۔

**----------------------------**

                  صد احترا م اساتذہ کرام ۔ آپ نے "آ ج کی با ت" پڑھی ۔ رنگین نقشے ذہن نشین ہو ئے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے کہ جو کچھ زمین میں ہے ، مختلف رنگوں کا مظا ہر ہ ہے ۔

                  "اور یہ جو بہت سی رنگ رنگ کی چیزیں اس نے تمہا رے لئے زمین میں پیدا کی ہیں ، ان میں غور و فکر کر نے والوں کے لئے نشانی ہے ۔"(النحل :۱۳)

                  میں فقیر عاجز بندہ چا ہتا ہوں کہ آپ جنت اور زمین کے شعو ر پر غو ر کریں ۔ رنگ سے مراد نگا ہ کا اصل سےدور ہونا ہے اور اصل بے رنگ ہے ۔ زمین پر ہر شے رنگین خول میں بند ہے اور ہر رنگ دوسرے رنگ سے مختلف ہے ۔ رنگوں کے اختلا ف کی وجہ سے شعو ر ہر شے کو دوسری شے سمجھتا ہے جب کہ رنگ جس شے پر چڑھے ہو ئے ہیں ، وہ محض زمین ۔ یعنی زمین سے پیدا ہو نے والی ساری اشیا رنگین کو ل کی وجہ سے الگ الگ نظر آتی ہیں مگر با طن میں سب سے زمین ہیں ۔ رنگوں کے فریب نے آدمی کو اصل سے دور کردیا ہے ۔

                  فریب:۔          آدمی روٹی کھا تا ہے اور کہتا ہے  کہ پیٹ بھر گیا۔ چند گھنٹوں بعد بھوک کا تقا ضا دوبا رہ پیدا ہوتا ہے ۔ جب روٹی کھا لی اور پیٹ بھر گیا تو دوبا رہ بھو ک کیوں لگی اور جو روٹی کھا ئی تھی ، وہ کہا ں گئی ۔۔؟ سوال یہ ہے کہ آدمی نے کیا چیز کھا ئی ۔۔؟

                  میں فقیر یہ چا ہتا ہوں کہ اسا تذہ کرا م ا س مسئلے کو حل کریں تا کہ زمین کے پرُ فریب شعو ر سے نکلنے اور جنت کے شعو ر میں داخل ہو نے کا راستہ ملے۔

اللہ حا فظ

خوا جہ شمس الدین عظیمی

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔