Topics

آدمی کو علم کی تلا ش ۔ ماہنامہ قلندر شعور ۔ مئی 2022


آ ج کی با ت

              آدمی کو علم کی تلا ش ہے جب کہ علم آدمی خود ہے ۔ اللہ نے آدم کا پتلا بنا یا تو اس کی ساخت میں وہ تما م صفات اورصلا حیتیں رکھیں جن سے تخلیقی فارمولوں کا علم حاصل ہوتا ہے ۔ آدمی مٹی کا پتلا ہے جو لا شما ر لہروں سے بنا ہے ۔ جس کو ہم مٹی سمجھتے ہیں ، وہ لہروں کا مجمو عہ ہے اور جس کو روشنی کہتے ہیں وہ بھی لہر ہے ۔ لہر تا نے با نے کی تاریں ہیں جن سے پر ت بنتے ہیں اور پرت لبا س ہے ۔ ہر پر ت میں مختلف فریکوئنسی کی حا مل توانا ئی دور کر تی ہے اور حر کت کا مظا ہر ہ ہو تا ہے ۔ جب تک توانا ئی ، لبا س کے دھا گے مر کب رہتے ہیں ۔ پر ت مٹی کا ہو، رنگ کا ہو یا روشنی کا ، لہر سے بنا ہے اور لہر علم ہے ۔ لہروں کے تانے با نے سے بنا انسا ن بھی علم ہے ۔

              جب انسان علم کو خو د سے الگ سمجھتا ہے تو فکشن نظر یا ت تخلیق ہو تے ہیں اور جب وہ خو د کو علم سمجھ کر اپنے آپ پر تحقیق کر تا ہے تو اسے معلو م ہو جا تا ہے کہ میں خو د کا ئنا ت ہوں۔ اللہ نے انسا ن کو احسن تقویم بنا یا ہے ۔ اعلیٰ مقداروں پر تخلیق کیا ہے ۔ انسا ن کو ابا آدم ؑ کا ورثہ عطا ہوا ہے ۔ کا ئنا ت میں جتنے عالمین ہیں ، اتنی ہی پر تیں مو جو د ہیں ۔ ہر پر ت کسی دنیا کا لبا س ہے ۔ احسن تقویم ہو نے کی وجہ سے انسا ن کے اندر کا ئنا ت کا ہر پر ت (لبا س) مو جو د ہے ، وہ اس علم سے کسی بھی دنیا میں داخل ہوسکتا ہے ۔ مٹی کی دنیا میں مٹی کا لبا س پہنتا ہے اور مر نے کے بعد اعراف میں منتقل ہو تا ہے تو وہان کا لبا س پہنتا ہے ۔

**----------------------------**

          موجودات کی حیثیت علم کےسوا کچھ نہیں ۔ دیکھنا ، سننا ، سمجھنا اور بولنا علم کی شا خیں ہیں ۔ کسی چیز کے با رے میں علم ہو تو نگا ہ دیکھتی ہے ، علم نہ ہو ۔۔۔ نگا ہ نہیں دیکھتی ۔ ہر شے لہروں سے بنی ہے لیکن ہمیں لہریں نظر نہیں آتیں کیو ں کہ ہم لہروں کا علم سیکھنا نہیں چاہتے۔

علم کے تین درجا ت ہیں ۔                 ۱۔ علم الیقین ۔ ۲ ۔ عین الیقین ۔ ۳ ۔ حق الیقین

تینو ں درجا ت میں علم الیقین سے مشروط ہے ۔ کسی چیز کی صحیح موجودگی کا علم نہ ہو ، یہ نہ دیکھا ہو کہ وہ اصل میں کیسی نظر آتی ہے اور اس کے تخلیقی فارمولے کا وقف نہ ہو تو علم یقین کے بجا ئے مفروضہ بن جا تا ہے ۔ مفروضہ وہ علم ہے جو آدمی کو حقیقت سے دور کر کے وہ دکھا تا ہے جو نہیں ہے ۔ جب تک آدمی اندر میں آبا د دنیا کو نہیں دیکھتا، اندر کی آواز نہیں سنتا، اندر کی فہم سے نہیں سمجھتا اور وہ زبا ن بولتا ہے جو اندر سے مما ثلت نہیں رکھتی تو ایسا فر د خو د ایک مفر وضہ ہے کیو ں کہ وہ اپنے آ پ سے واقف نہیں۔

من عرف نفسہُ فقد عرف ربہُ

**----------------------------**

مفروضہ یا حقیقت با ہر نہیں ۔ اندر میں ہے ۔ فردسمجھتا ہے کہ اشیا بدلتی ہیں ، منظر تبدیل ہو تا ہے ، دن رات میں داخل ہوتا ہے اور رات دن بن جا تی ہے ، سورج مشرق سے طلو ع اور مغر ب میں غروب ہوتا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ منا ظر نہیں بدلتے۔ دیکھنے والے کا ذہن بدلتا ہے ۔ تخلیقا ت جس حا لت اور ساخت پر ہیں ، اسی طر ح قا ئم ہیں  ۔۔۔ ان میں ادل بدل نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں رات دن اور منا ظر کی بساط کا علم نہیں۔

قانون :۔ نظر جب بساط سے ہٹتی ہے تو ذہن پر مفروضہ غلا ف آجا تا ہے ۔

فر د جو کچھ دیکھتا ہے، اندر میں دیکھتا ہے ۔ جو کچھ سنتا ہے ، اندر میں سنتا ہے ۔ زمین ، آسما ن ، چا ند ، سور ج ، ستا رے ، پہاڑ ، پو دے ، پھول ، رنگ اور روشنی دما غ کی اسکرین پر اس وقت نظر آتے ہیں جب ان کی صفا ت اور ان کے دیکھنے کی صلا حیت مو جو د ہو۔ مفہو م یہ ہے  کہ پہلے شے کی صفا ت منتقل یا بیدار ہو تی ہیں پھر فر د دیکھتا ہے ورنہ نہیں دیکھتا۔ دیکھنے کے لئے صلا ٖحیت کا ہو نا ضروری ہے اور صلا حیت کا تعلق صفا ت سے ہے ۔ انسا ن وہ علم ہے جس کو اللہ نے کا ئنا ت کے تخلیقی فارمو لو ں سے واقفیت کی صلا حیت عطا کی ہے ۔

"اور اس نے زمین اورآسما ن کی ساری چیزوں کو تمہا رے لئے مسخر کردیا، سب کچھ اپنے پا س سے ۔اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کر نے والے ہیں ۔ " ( الجا ثیہ: ۱۳)

**----------------------------**

نظر آنے والے نظر نہ آنے والی ساری اشیا علم ہیں ۔ میز پر گلا س میں پا نی رکھا ہے ۔ پا نی ، گلا س اور میز علم ہیں ۔ علم سے مراد یہ ہے  کہ ان سب کی تخلیق کا فا رمولا الگ الگ ہے ۔ زمین و آسما ن میں مخلو قات جن کو ہم دیکھتے اور نہیں دیکھتے ، ان کی پہچا ن اس کے علا و ہ کچھ نہیں کہ یہ سب فارمولے (علم) ہیں۔

قا رئین ! بہت شکریہ۔ آ ج کی با ت کھلے ذہن سے پڑھئے ۔ ذہن الوژن سے مصفا ہو۔

انسا ن لا شما ر پر توں پر مبنی علم ہے ۔ ایسا علم جو کہیں سے آتا ہے ، مظا ہر ہ کرتا ہے اور غا ئب ہو جا تاہے۔ جب علم اپنے ما خذ یا    ریکا رڈ سے نزول کر تاہے تو وہ کا ئنا ت میں مو جو د ساری پرتوں سے گزرتا ہے ۔ انسا ن جس پرت میں علم کو شعوری طور پر محسو س کر لے ، اس  پر ت میں علم کا مظا ہر ہ ہو جا تا ہے یعنی وہ اس پر ت میں خو د کو بیدار دیکھتا ہے ، با قی پرتیں  خوابیدہ حا لت میں رہتی ہیں۔

انسا ن پیدائش سے مو ت تک غیب ۔ ظا ہر ہے ۔ غیب سے آتا ہے ۔ غیب میں چھپ جا تا ہے ۔ انسا ن صر ف اس دنیا میں نہیں رہتا بلکہ جتنے پر ت ہیں اور ان پرتوں کا تعلق جن دنیا ؤں سے ہے ، وہ ان ساری دنیا ؤں میں آبا د ہے ۔ انسا ن علم ہے اور اس کا ہو نا بھی علم ہے  اس لئے زمین (اسکرین) پر مظا ہر ے سے پہلے علم جن راستوں یا دنیا ؤں سے گز ر کر شعو ر میں داخل ہوتا ہے ، انسا ن بھی لا شعو ر ی طور پر ان سارے راستوں سے گزرتا ہے ۔ اگر وہ اپنے آنے جا نے سے واقف ہو جا ئے تو۔ ۔۔ ؟

اس کی مثال خواب دیکھنا ہے ۔ خوا ب میں آدمی کھاتا پیتا اور سوتا جاگتا ہے ، غسل واجب  ہو جا تا ہے ، خو فنا ک شے دیکھ کر جسم پر لرزہ طا ری ہوتا ہے اور پسینے میں شرابو ر ہو کر وہ خو ف سے بیدارہو جا تا ہے ۔ تفکر طلب ہے کہ آدمی ڈرتا کیوں ہے اور خواب دیکھ کر خو ش کیوں ہو تا ہے ۔۔۔ ؟

**----------------------------**

محترم بہن بھا ئی ، قا بل قدر دوست اور بزرگو! عالمین کا وجو د خیا لا ت کی بیلٹ پر قا ئم ہے ۔ ہر خیا ل میں معنی  ہے ۔ ہر معنی دووجود یا دورخ قا ئم ہے ۔ مثالیں یہ ہیں کہ گرم ٹھنڈا ، کھٹا میٹھا ، فر حت بخش نا گوار، خو شی غم ، وجو د عدم وجود ، پیدا ئش انتقا ل ۔ انتقا ل سے مرا د منتقلی ہے ۔ ایک دن کا بچہ اور ساٹھ (60) سال کا بوڑھا  آدمی انتقا ل مکا ن سے زما ن منتقل ہوتا ہے اور زما ن سے با ہر آتا ہے تو انتقا ل کے بعد دوبا رہ  زما ن میں چلا جا تا ہے ۔ قر آن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فر ما تا کہ کہ ہرشے اللہ کی طر ف سے ہے اور ہر شے اللہ کی طر ف لوٹ رہی ہے ۔

معزز خواتین و حضرات !"آ ج کی با ت " میں قلم کی نوک سے رموز ازخود لکھے گئے ہیں ، ان کو آپ خو د غو ر سے پڑھئے  اور اس کی فوٹو کا پی  کروا کر اپنے دوستوں کو پڑھنے کے لئے دیجئے ۔ اللہ تعالیٰ آپ کی یہ خدمت قبو ل فرما ئے ، آمین۔

اللہ حا فظ

خواجہ شمس الدین عظیمی

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔