Topics

آج اور کل کیا ہے۔۔؟ - ماہنامہ قلندر شعور ۔ ستمبر 2021


امتحان (کل نمبر 50)

آج کی بات

         

آج کی بات کل کی بات ہو گئی اور کل کی بات، آج کی بات ہے۔ گزرا ہوا کل آج ہے اور آج کل ہو جائے گا۔ پیغام مشترک ہے۔ پھر آج اور کل کیا ہے۔۔؟  زندگی گزرتی ہے،  ہر لمحہ منظر بدلتا ہے لیکن وقت  × ۔۔۔؟

          تخلیقات کا سلسلہ کُن سے شروع ہوا اور رات دن میں تقسیم ہو گیا۔ دن پر illusion (فریبِ نظر) کی حکمرانی ہے اور رات حقیقت کا پر تَو ہے۔ جب آدمی اپنے اور دوسروں کے لئے پریشانی پیدا نہ کرے۔ شک، حسد، غصہ اور انتقام سے دور رہے۔ تخلیقات میں تفکر کرے تو ذہن یکسو ہو جاتا ہے اور نیند کی دنیا میں اسرار کھلتے ہیں۔ اگر آدمی ان اعمال سے خالی ہو تو نیند کی دنیا پردے میں چھپ جاتی ہے یعنی جو کچھ آدمی یا مخلوقات رات میں کرتی ہیں، وہ اصل میں دن میں کئے ہوئے اعمال کا پرنٹ ہے۔

          رب العالمین اللہ کا ارشاد ہے،

                   ” ہرگز نہیں ۔ یقیناً بد کاروں کا نامۂ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے

 کا دفتر؟ وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی؟ “     (المطففین: ۷۔۹)

          کائنات کی اصل چھپی ہوئی ہونے کے باوجود ظاہر ہوتی ہے اور پھر غیب کے پردوں  میں چھپ جاتی ہیں۔ چھپی ہوئی دنیا ظاہر ہوتی ہے اور ظاہر دنیا چھپ جاتی ہے۔ چھپنا غیب ہے جس کو لیل (رات) کہتے ہیں، ظاہر ہونا حضؤر ہے جس کو نہار (دن) کہتے ہیں۔

________________________________________

          × جملے پر غور کیجیئے۔ سمجھ میں نہ آئے تو مزید غورو فکر کیجیئے۔ ذہن کھلے گا، انشاء اللہ

 

          آیئے اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ اس ”راز“ پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کریں کہ دن اور رات کیا ہے۔ رات اور دن میں سب وہ کام کئے جاتے ہیں جو بیداری میں اور بیداری کے بعد رات میں ظاہر ہوتے ہیں۔ محترم قارئین!  چھپنا اور ظاہر ہونا کیا ہے۔۔۔؟

          ظاہر ہونا اور چھپنا پھر ظاہر ہونا پھر چھپنا ایک ورق کے دو صفحوں کی طرح ہے۔ ہم جب کتابِ زیست کا صفحہ کھولتے ہیں، اس کے دو رُخ ہیں۔ ایک کو شعور کہتے ہیں اور دوسرا رخ لاشعور ہے۔ ذہن سوچتا ہے کہ رات کیا ہے ، اور پردہ آنے پر دن ظاہر ہو جاتا ہے۔ دن غائب ہوتا ہے تو اندھیرے کا غلبہ ہو جاتا ہے۔

          زندگی کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ رات اور دن کا الٹ پھیر ایک تصویر ہے جس کو فلم سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ فلم میں دونوں طرف کی تصویریں ہیں۔ یہ تصویریں مفرد اور مرکب لہروں سے بنی ہیں۔ مفرد اور مرکب لہروں کی تخلیق میں مفرد اور مرکب لہریں کام رہی ہیں۔ لہریں تانا یعنی عرض

  میں ہوتی ہیں تو مفرد کہلاتی ہیں اور جب لہریں تانا بانا یعنی طول و عرض       میں ہوتی ہیں تو مرکب ہیں۔ یہ لہریں دن رات اور مخلوقات کی بساط ہیں۔ خالقِ لیل و نہار کا ارشاد ہے،

                   ” ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے ہم اس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔“

                   (یٰس : ۳۷)

**----------------------------**

منظر ایک ہے، پہلو دو ہیں جن کو رات اور دن کہتے ہیں۔ منظر کے دونوں طرف وہی کچھ لکھا ہوا ہے جو دن اور رات میں اسکرین پر ظاہر ہوتا ہے۔ ایک اسکرین پر اسپیس کی نفی ہے ، دوسری اسکرین پر اسپیس کا غلبہ ہے۔ نفی سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ اسپیس موجود نہیں۔ اسپیس موجود ہے لیکن نظر نہیں آتی۔

Oval: مثال             

                   نیند کی دنیا میں وقت کی رفتا ناقابلِ شمار ہے۔ آدمی چھ گھنٹے سوتا ہے اور اس دوران میں سالہا سال کا فاصلہ طے کرتا ہے۔ جب وہ جاگتا ہے تو محض چند واقعات اور کچھ مناظر یاد رہتے ہیں اور یاد داشت میں ترتیب نہیں ہوتی۔ سالہا سال کا سفر کہاں گیا، کیسے اور کہاں طے ہوا۔۔۔؟ مطلب واضح ہے کہ وقت غالب ہونے سے کئی سالوں کی اسپیس محسوس نہیں ہوتی۔ بیداری کے حساب سے شمار کئے گئے چھ گھنٹے ، نیند کی دنیا میں چھ گھنٹے نہیں۔  جس دنیا میں وقت کی رفتار لامحدود ہے، وہاں حافظے میں رہ جانے والے چند واقعات کے علاوہ  باقی کہاں گیا؟

          وقت کی رفتا تیز ہونے سے اسپیس کی نفی ہوتی ہے جب کہ اسپیس غالب ہونے سے وقت موجود رہتا ہے لیکن نظروں سے اوجھل ہوتا ہے اور اسکرین (اسپیس) پر وقفے وقفے سے تخلیقات کا ظہور ہوتا ہے۔ اسپیس کا ایک رخ نفی ہے اور اسپیس کا دوسرا رخ اثبات ہے۔ بیداری میں اسپیس ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی ہے جب کہ سونے کی حالت میں یہ ترتیب نظر نہیں آتی۔

          غور کیجیئے۔۔۔ اسپیس کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ میں اسپیس الگ الگ نظر آتی ہے، دوسرے رخ میں اسپیس ہونے کے باوجود نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور وقت۔۔۔؟

          اس وقت آپ جو کچھ پڑھ رہے ہیں ، وہ تخلیقی قوانین کے مطابق ہے۔ کروڑوں اربوں تخلیقات چلتی پھرتی ہیں، کھاتی پیتی ہیں ، خواب دیکھتی ہیں، اماں ابا کے رشتے سے واقف ہیں۔ حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ جب میں، آپ یا کوئی مخلوق غیب سے ظاہر ہوتی ہے اور غیب میں ہو جاتی ہے پھر ظاہر ہوتی ہے پھر غیب ہو جاتی ہے تو  یہ غیب ظاہر ہونا کیا ہے؟ بچہ پنگوڑے میں ہوتا ہے، جب اسپیس میں وقت گزرتا ہے تو نقوش تبدیل ہو جاتے ہیں، اس طرح کہ آدمی اس بچے کو نہیں پہچانتا جو آدمی کا اپنابچپن تھا۔

          تحریر لکھتے ہوئے یکسوئی کے ساتھ غور کیا، ذہن میں چمک نمودار ہوئی۔ چمک کی طرف توجہ مبذول کی تو چمک ایک نقطہ نظر آیا۔ نقظہ کھلا تو ادراک ہوا۔

 

                   ” لوگو! اپنے رب کے لیے تقویٰ اختیار کرو جس نے تم کو نفسِ واحدہ سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا

                   جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے۔ “      ( النساء : ۱)

          سوال:    محترم طالبات و طلبا! تحریر غور سے پڑھیئے ۔ اس میں کائناتی دستاویز سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ تحریر میں کئی آیتوں کی تشریح ہے۔ باریک بینی سے غورو فکر کر کے امتحان میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیجیئے۔

          خواتین و حضرات۔۔۔۔ مبارک ہو کہ ” ماہنامہ قلندر شعور“ کی عمر 100 مہینے ہوگئی ہے۔ بظاہر 100 شمارے کل کی بات ہیں لیکن۔۔۔ آج کی بات ہیں۔ میں اور آپ سب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ” ماہنامہ قلندر شعور“ کی عمر میں اضافہ کرے، آمین۔

                                                                                                اللہ حافظ

نوٹ : امتحانی پرچہ حل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل باتیں مدِنظر رکھیے۔

۱۔ قرآن کریم کی ایات کا حوالہ دیجیئے

۲۔ تفکر میں عملی زندگی کی نشاندہی ہو۔

۳۔ علمِ حصولی اور علمِ حضوری پر روشنی ڈالیے۔

آپ قابلِ عزت و تکریم اساتذہ کرام اور محترم بزرگوں سے مشورہ کیجیئے۔ پرچے کے نمبر 50 ہیں۔

 

 

 

Topics


Aaj Ki Baat

خواجہ شمس الدين عظيمي

اور جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے۔ (سورۂ عنکبوت 69(

اللہ تعالیٰ کی مدد اور اولیاء اللہ کے فیض سے ماہنامہ"قلندر شعور" کے ذریعے ہم آپ تک ایسے مضامین پہنچائیں گے جن کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ بندہ یہ جان لیتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور بندہ یہ د یکھ لیتا ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔

اس ماہنامہ میں انشاء اللہ تسخیر کائنات سے متعلق قرآنی تفہیم، خلاء میں سفر کرنے کے لئے جدید تحقیقی مضامین، حمد اور نعتیں، اصلاحی افسانے، پی ایچ ڈی مقالوں کی تلخیص، سائنسی، علمی، ادبی، سماجی، آسمانی علوم، خواب۔۔۔ ان کی تعبیر، تجزیہ و مشورہ پیش کئے جائیں گے۔

دعا کی درخواست ہے اللہ تعالیٰ ادارہ "ماہنامہ قلندر شعور" کو ارادوں میں کامیاب فرمائیں۔