Topics

میں کیا ہوں یہ عقدہ تو کھلے گا آخر

مَرَجَ البَحرَينِ يَلتقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَان

ترجمہ: اسی نے دو دریا رواں کئے جو آپس میں ملتے ہیں دونوں میں ایک آڑ ہے کہ اس سے تجاوز نہیں کرسکتے ، تو تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤگے؟۔

 پارہ 27، قال فماخطبکم ، سورہ 55، الرحمن ، آیت: 19 تا 22


میں کیا ہوں یہ عقدہ تو کھلے گا آخر

پردہ جو پڑا ہے وہ اٹھے گا آخر

ذرے کو مرے کوئی تو صورت دیں گے

ساغر نہ بنا خم تو بنے گا  آخر

تشریح!  حیا ت وموت  دراصل ہستی کائنات کے دو پہلو ہیں، ان میں فی نفسہ کوئی مغائرت اور تضاد نہیں، اور نہ ہی ان میں عقل انسانی سے ماوراء کوئی ایسا راز پوشید ہ ہے، جس کی پردہ کشائی انسانی حدود امکان سے باہر ہو، ہستی کے یہ دونوں پہلو دن اور رات کی طرح ہیں بظاہر ایک دوسرے سے الگ اور متضاد ہیں ، مگر دونوں مل کر ایک دن کہلاتے ہیں اور اس اتصال سے دونوں علیحدہ علیحدہ پہچانے جانے جاتے ہیں، بعینہ یہی فرق ظاہر بینی اور کشف باطن کے درمیان  ہے۔ ہاں ان کے درمیا  ایک پردہ ضرور ہے جو نظر نہیں آتا۔ سورہ رحمن میں اللہ تعالی نے دو دریاؤں کے متصل پانی کے درمیان ایک برزخ (پردہ) کا ذکر  فرمایا ہے جس کے باعث دو قسم کے پانی ایک دوسرے سے ملنے کے باوجود جداجدا رہتے ہیں، ایسا ہی ایک پردہ زندگی اور موت کے درمیا ن ہے، حضور قنندر بابا ؒ رموز و اسرار کائنات کے شناسا اور حامل علم الٰہی ہیں اور آپ یہ حقائق آئینہ کی طرح روشن ہیں مگر جب آپ عام انسان کی طرز میں گفتگو فرماتے ہیں تو اس اسے مدعا ہماری روز مرہ کی زندگی کے ان پہلوؤں کی نشان دہی ہوتی ہے جنہیں ہم اپنے شب و روز کے مشاغل کا حصہ قرار دے سکتے ہیں، یہاں حضور بادہ ٔ الست سے سرشار شاعر فطرت شناس کے لہجے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اس (ظاہری فنا) کے باوجود میری مٹی رائیگاں نہیں  جائے گی، کیوں کہ قانون قدرت کے مطابق مادہ فنا پذیر نہیں ہے۔ صرف اس کی ہیئت اور خواص تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اس مٹی کا ساغر بنے تو ایک مست مئے پندار کے لیے اس بڑھ کر اور کیا خوشی  ہو سکتی ہے کہ نازک اور لطیف لبوں کا لمس اس کو نصیب رہے گا۔ اگر یہ بھی نہ ہو تو وہ خم یا صراحی ضرور بنادی جائے گی، اور یہ بھی انا اور خودی کی تسکین کے لیے کافی ہے، اس کے برعکس عمر خیام اسرار و رموز کی پردہ کشائی سے اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے قلب کی پریشانی کا علاج  جرعۂ مے میں تلاش کرتے ہیں، فرماتے ہیں:

درپردۂ اسرار کسے را رہ نیست                زیں تعبیہ جان، ہیچ کن آگہ نیست

جز در دل خاک ہیچ منزل کہ نیست             مے خور کہ چنیں فسانہ ہا کو تہ نیست

اسرار اور پردہ سے لاعلمی کا پہلو دونوں رباعیوں میں مشترک ہے، مگر جو فرق حضور قلندر بابا ؒ اور عمر خیام کی طرز فکر میں نمایاں ہے، وہ یہ ہے کہ حضور کے ہاں تیقن اور اتقاد ہے کہ پردہ ضرور اٹھے گا اور تبدیلی ہیئت کے باوجود تخلیق ثانی  کا ایک ایسا پہلو سامنے آئے گا جو وجہ سکون اور باعث طمانیت ہوگا۔کیوں کہ آپ کے یہاں محرومی اور عدم اعتماد کا خوف لاحق نہیں۔ مگر عمر خیام کے ہاں معذوری اور بے نصیبی کے ساتھ عذاب کے ساتھ عذاب جان سے بچنے کے لیے فرار کی کیفیت پائی جاتی ہے کہ شراب پیو اور اس قصہ ذہن ہی سے نکال دو۔

___________________

روحانی ڈائجسٹ: اکتوبر 83

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔