Topics

فضائل حج

قرآن پاک اور احادیث میں حج کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ نے جب بیت اللہ شریف کی تعمیر پوری مکمل کر دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو۔ حضرت ابراہیمؑ نے عرض کیا: ’’یا اللہ! میری آواز کس طرح پہنچے گی۔ یہاں ہم تین آدمیوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’ابراہیمؑ! آواز پہنچانا ہمارے ذمہ ہے۔‘‘

حضرت ابراہیمؑ نے حج کا اعلان کر دیا۔ اس آواز کو آسمانوں اور زمین میں اور اس کے درمیان جتنی بھی مخلوق ہے سب نے سنا۔ 

موجودہ دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ آواز ہزاروں میل دور سنی جا سکتی ہے۔ لاسکی نظام کے تحت یا برقی نظام کے بغیر ہوا کے دوش پر آواز پھیلتی ہے۔ اور جگہ جگہ سنائی دیتی ہے۔ یہ جتنے سائنسدان ہیں۔ اللہ کے حکم سے پیدا ہوئے ہیں۔ دماغ، عقل، شعور و فہم و تفکر سب اللہ کا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اگر فکر و فہم نہ دے تو کوئی آدمی سائنسدان نہیں بن سکتا۔ اللہ تعالیٰ ماں کے بطن سے پیدا نہ کرے تو کوئی سائنسدان نظر نہیں آئے گا۔ جس اللہ نے سائنسدان تخلیق کر دیئے ہیں۔ اس قادر مطلق کے لئے یہ مشکل نہیں تھا اور نہیں ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی آواز کو پوری کائنات میں پھیلا دے اور کائنات کی مخلوق اس آواز کو سن لے۔ حج کا یہی وہ اعلان ہے جس کے جواب میں حاجی حضرات حج کے دوران لبیک الھم لبیک کہتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے:

’’جس شخص نے بھی خواہ وہ پیدا ہو چکا تھا یا ابھی عالم ارواح میں تھا حضرت ابراہیمؑ کی آواز سن کر لبیک کہا وہ حج ضرور کرتا ہے۔‘‘

یہ بھی ارشاد ہے کہ جس نے ایک مرتبہ ’’لبیک‘‘ کہا وہ ایک مرتبہ حج کرتا ہے جس نے دو مرتبہ لبیک کہا وہ دو مرتبہ حج کرتا ہے اور جس نے زیادہ مرتبہ لبیک کہا اس کو اتنے ہی حج نصیب ہوتے ہیں۔

ترجمہ: ’’حج کے چند مہینے ہیں جو معلوم ہیں۔ پس جو شخص ان ایام میں اپنے اوپر حج مقرر کر لے تو پھر نہ کوئی فحش بات جائز ہے اور نہ حکم عدولی درست ہے اور نہ کسی قسم کا جھگڑا زیبا ہے اور جو نیک کام کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔‘‘

(سورۃ البقرہ: ۲۵)

یہود کے علماء نے حضرت عمرؓ سے عرض کیا کیا کہ تم قرآن پاک میں ایک آیت پڑھتے ہو اگر وہ ایک آیت ہم  پر نازل ہوتی تو ہم اس دن عید مناتے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا۔’’وہ کون سی آیت ہے؟‘‘ یہودی علماء نے عرض کیا۔

’’الیوم اکملت لکم دینکمo‘‘

حضرت عمرؓ نے فرمایا:

’’مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کس دن اور کہاں نازل ہوئی۔ ہمارے یہاں دو عیدیں ہیں ایک جمعہ کا دن، دوسرا عرفے کا دن۔ عرفے کا دن بھی حاجی کے لئے عید کا دن ہے۔‘‘

یہ آیت جمعہ کے دن شام کے وقت عصر کے بعد اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہﷺ عرفات کے میدان میں اپنی اونٹنی پر تشریف فرما تھے۔

حدیث شریف میں ہے کہ اس آیت کے بعد حلال و حرام کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل نہیں ہوا۔ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ کی اونٹنی بوجھ کی وجہ سے بیٹھ گئی۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب حضورﷺ اونٹنی پر سوار ہوتے اور وحی نازل ہوتی تو اونٹنی اپنی گردن گرا دیتی اور جب تک وحی کا سلسلہ قائم رہتا اونٹنی حرکت نہیں کر سکتی تھی۔

حج کے اہم فضائل میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تکمیل دین سے متعلق آیت مبارکہ حج کے موقع پر نازل ہوئی۔ 

ترجمہ: ’’آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل اور مکمل بنا دیا اور تم پر اپنا انعام پورا کر دیا۔ اور میں نے اسلام کو تمہارے دین بننے کے لئے پسند کر لیا۔‘‘

(سورۃ المائدہ۔۱)

حج اور عمرہ کے فضائل کے بارے میں بہت ساری احادیث ہیں۔

ترجمہ:’’حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اس طرح کہ اس حج میں نہ رفث ہو(یعنی فحش بات) اور نہ فسق ہو(یعنی حکم عدولی) وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے جیسا اس دن تھا جس دن ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔‘‘

(متفق علیہ مشکوٰۃ)

* ایک مرتبہ حضرت عمرؓ صفا مروہ کے درمیان تشریف فرما تھے۔ ایک جماعت آئی جو اپنے اونٹوں سے اتری اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا۔ صفا مروہ کے درمیان سعی کی حضرت عمرؓ نے  ان سے دریافت کیا، ’’تم لوگ کون ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا کہ عراق کے لوگ ہیں۔

حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ’’یہاں کیسے آنا ہوا؟‘‘ انہوں نے کہا، حج کے لئے۔

حضرت عمرؓ نے پوچھا۔’’کیا کوئی اور غرض بھی ہے۔ مثلاً اپنی میراث کا کسی سے مطالبہ ہو یا کسی قرض دار سے روپیہ وصول کرنا ہو یا کوئی اور تجارتی غرض ہو۔‘‘

انہوں نے کہا۔ ’’نہیں کوئی دوسری غرض نہیں ہے۔‘‘

آپؓ نے فرمایا:’’تمہارے پہلے سارے گناہ معاف ہو گئے ہیں۔‘‘

* نبی کریم نے ایک حدیث پاک میں ارشاد فرمایا کہ حج کی خوبی نرم کلام کرنا اور لوگوں کو کھانا کھلانا ہے لہٰذا کسی سے سختی سے گفتگو کرنا، نرم کلام کے منافی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں پر بار بار اعتراض نہ کرے، کسی کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئے، ہر شخص سے تواضع، حلم اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے۔

* حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے۔

’’نیکی والے حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

* ایک جماعت سعدون خولانیؒ کے پاس آئی اور ان سے یہ قصہ بیان کیا کہ قبیلہ کنامہ کے لوگوں نے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ 

رات بھر اس پر آگ جلاتے رہے مگر آگ نے اس پر ذرا بھی اثر نہیں کیا۔ سعدونؒ نے فرمایا:

’’شاید اس شخص نے تین حج کئے ہونگے۔‘‘

لوگوں نے کہا۔ ’’جی ہاں! اس نے تین حج کئے تھے۔‘‘

سعدونؒ نے کہا۔’’مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جس شخص نے ایک حج کیا اس نے اپنا فریضہ ادا کیا۔ جس نے دوسرا حج کیا اس نے اللہ کو قرض دیا اور جو تین حج کرنا ہے تو اللہ جل شانہ اس پر آگ حرام کر دیتا ہے۔‘‘

امام غزالیؒ نے ایک صاحب کشف صوفی کا قصہ لکھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔

عرفہ کا دن شیطان نظر آیا۔ بہت ہی کمزور دکھائی دے رہا تھا۔ چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ نقاہت سے کمر جھکی ہوئی تھی۔ ان بزرگ نے شیطان سے پوچھا تو کیوں رو رہا ہے؟ اس نے جواب دیا۔ مجھے یہ بات رلا رہی ہے کہ حاجی لوگ بلا کسی دنیاوی غرض کے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔ مجھے یہ غم ہے کہ اللہ پاک کی ذات ان لوگوں کو نامراد نہیں رکھے گی۔ انہوں نے پوچھا تو دبلا کیوں ہو گیا ہے؟ اس نے کہا۔ گھوڑوں کی آواز سے جو ہر وقت اللہ کے راستوں میں (حج، عمرہ، جہاد وغیرہ) پھرتے رہتے ہیں۔ کاش یہ سواریاں میرے راستے میں نہ ہوتیں۔ انہوں نے پوچھا۔ تیرا رنگ زرد کیوں پڑ گیا ہے؟ شیطان نے کہا۔ لوگ ایک دوسرے کو نیکیوں کی تلقین کرتے ہیں اور لوگ آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے کام آتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ اگر یہ آپس کی امداد و اعانت گناہ کرنے میں ہوتی تو میں بہت خوش ہوتا۔ ان بزرگ نے پوچھا تیری کمر کیوں جھک گئی ہے؟ شیطان نے کہا۔ بندہ ہر وقت یہ کہتا ہے کہ یا اللہ خاتمہ بالخیر عطا کر۔ ایسا شخص جس کو اپنے خاتمہ کی ہر وقت فکر رہے نیک عمل کرتا ہے۔

ابن شمامہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمروبن العاصؓ کے پاس حاضر ہوئے ان کا آخری وقت تھا۔ حضرت عمرؓ بہت دیر روتے رہے۔ اس کے بعد اپنے اسلام لانے کا قصہ سنایا اور فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا کیا تو میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ بیعت کے لئے ہاتھ دے دیجئے۔ میں مسلمان ہوتا ہوں۔ حضورﷺ نے اپنا دست مبارک پھیلایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’کیا بات ہے؟‘‘

میں نے عرض کیا۔ حضورﷺ! میری ایک شرط ہے اور شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے پچھلے گناہ معاف کر دے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:

’’عمر! تجھے یہ بات معلوم نہیں کہ اسلام ان سب گناہوں کو دھو دیتا ہے جو کفر کی حالت میں کئے گئے ہوں۔ ہجرت ان سب نفرتوں کو ختم کر دیتی ہے جو ہجرت سے پہلے کی ہوں اور حج ان سب قصوروں کو صاف یعنی خاتمہ کر دیتا ہے جو حج سے پہلے کئے ہوں۔‘‘

حضورﷺ عرفہ کی شام عرفات کے میدان میں امت کی مغفرت کے لئے بہت الحام و زاری سے دعا مانگتے رہے۔ رحمت الٰہی کو جوش آ گیا۔ ارشاد ہوا۔ ’’میں نے تمہاری دعا قبول کر لی اور میرے بندوں نے جو گناہ کئے ہیں وہ معاف کر دیئے۔ البتہ ایک دوسرے پر جو ظلم کئے ہیں ان کا بدلہ لیا جائے گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پھر درخواست کی۔

’’یا اللہ! تو اس پر قادر ہے کہ مظلوم کے ظلم کا بدلہ عطا فرما دے اور ظالم کے قصور کو معاف کر دے۔‘‘ صبح مزدلفہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کر لی۔ اس وقت حضورﷺ نے تبسم فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ! آپﷺ نے ایسی حالت(الحام و زاری کی) میں تبسم فرمایا۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا:

’’جب اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی تو شیطان آہ و واویلا کرنے لگا اور غم سے مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا۔‘‘

ایک صحابیؓ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے دریافت کیا۔

’’یا رسول اللہﷺ! ہم اپنے مردوں کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں۔ حج کرتے ہیں۔ ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ 

یہ ان تک پہنچتا ہے؟‘‘

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’پہنچتا ہے اور وہ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسا کہ تمہارے پاس طباق میں کوئی ہدیہ پیش کیا گیا ہو۔‘‘

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے۔

’’اللہ تعالیٰ(حج بدل میں) ایک حج کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتے ہیں۔ ایک مردہ (جس کی طرف سے حج بدل کیا جا رہا ہے) دوسرا حج کرنے والا۔ تیسرا وہ شخص جو حج کرا رہا ہے۔‘‘

رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ:

’’حاجی کی سفارش چار سو گھرانوں میں مقبول ہوتی ہے اور حاجی اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جاتا ہے جیسا پیدائش کے دن تھا۔‘‘

حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے:

’’جب کسی حاجی سے ملاقات ہو تو اس کو سلام کرو۔ اس سے مصافحہ کرو اور اس سے پہلے کے وہ اپنے گھر میں داخل ہو اس سے اپنی مغفرت کے لئے دعا کراؤ۔‘‘

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:

’’میں نے حضورﷺ سے جہاد میں شرکت کی اجازت مانگی۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تمہارا جہاد حج ہے۔‘‘

ایک صحابی عورت نے حضورﷺ سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہﷺ! میرے والد بوڑھے ہیں اور سواری پر سوار بھی نہیں ہو سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج بدل کر سکتی ہوں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’ہاں! ان کی طرف سے حج کر سکتی ہو۔‘‘ ابن موفق کہتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ کی طرف سے متعدد حج کئے۔ ایک مرتبہ خواب میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپﷺ نے فرمایا۔’’اے ابن موفق! تو نے میری طرف سے حج کئے؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ جی حضورﷺ کئے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔’’تو نے میری طرف سے لبیک کیا؟‘‘ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ! جی ہاں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔’’میں قیامت کے روز اس کا بدلہ دونگا کہ حشر کے میدان میں تیرا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کر دونگا۔


Topics


Roohani Haj O Umrah

خواجہ شمس الدین عظیمی

چار ابواب پر مشتمل اس کتاب کے باب اول میں تمام مقدس مقامات کا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ باب دوئم میں حج وعمرہ کا طریقہ اورباب سوئم میں اراکین حج وعمرہ کی حکمت بیان کی گئی ہے۔جب کہ باب چہارم میں چودہ سوسال میں گزرے ہوئے اورموجودہ صدی میں موجود ایسے مردوخواتین بزرگوں کے مشاہدات وکیفیات جمع کئے گئے ہیں جن کو دوران حج وعمرہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام کا فیض حاصل ہوا ہے اورجن خواتین وحضرات  کو خالق اکبر ، اللہ وحدہ لاشریک کا صفاتی دیدارنصیب ہوا۔