Topics

کیا یوں ہی یہ خدمت سبو کرتے ہیں

کیا یوں ہی یہ خدمت سبو کرتے ہیں

انسان ملے یہ جستجو کرتے ہیں

ہم سن نہیں سکتے یہ خطا ہے اپنی

یہ کوزہ و خم بھی گفتگو کرتے ہیں

تشریح!             زندگی کا مطالعہ کرنے سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ جو چیز موجود ہے وہ زندہ ہے  اس کے اندر زندگی سے متعلق حواس کار فرما ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پہاڑ بے جان چیز ہیں مگر پہاڑ بھی مونث مذکر ہوتے ہیں، پہاڑوں میں نسل کشی کا سلسلہ قائم ہے۔پہاڑ پیدا ہوتے ہیں،   پہاڑ بچپن سے گزر کر لڑکپن میں اور لڑکپن سے گزر کر جوانی میں داخل ہوتے  رہتے ہیں، پہاڑ شعور بھی رکھتے ہیں، انھیں اچھے برے کی تمییز بھی ہوتی ہے، وہ اپنی سکت و ہمت اور صلاحیت سے بھی واقف ہوتے ہیں، پہاڑ پیدا ہوتے ہیں اور اپنی عمر پوری کرنے کے بعد مرتے بھی ہیں۔ شراب کے پیالے میں بھی جان ہے۔ جب ہم شراب پیتے ہیں یہ پیالہ اس لیے ہمارے ہونٹوں سے لگ جاتا ہے، کہ اسے ایک محبوب کی تلاش ہے۔ خم و کوزہ بے قرار رہتے ہیں کہ کوئی ایسا  کامل انسان مل جائے جو یہ جانتا ہو کہ خم اور کوزہ بھی زبان رکھتے ہیں۔ اس تلاش میں وہ کم علم، کوچشم، نادان اور کم سمجھ انسان کے منہ بھی لگتے رہتے ہیں کیوں کہ اس ایثار کے بغیر کامل انسان کی تلاش ممکن نہیں ہے۔


__________
روحانی ڈائجسٹ : مئی ۲۰۰۲

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔