Topics

دنیا میں پریشان بہت دیکھے ہیں

دنیا میں پریشان بہت دیکھے ہیں

اجڑے ہوئے ویران بہت دیکھے ہیں

منہ دیکھ کے رہ جاتے ہیں اپنوں کا عظیم

اس طرح کے حیران بہت دیکھے ہیں

تشریح! حضرت  قلندر بابا اولیاء ؒ مندرجہ بالا رباعی میں مادی زندگی کے حالات و واقعات سے عبرت کے اصول کی ہدایت کررہے ہیں، دنیاوی پریشیانیاں اور رکاوٹیں در اصل دنیا سے غیر ضروری قلبی وابستگی کی وجہ سے  ہیں، اگر انسان دنیا کے لوگوںسے غیر ضروری توقعات وابستہ نہ کرے تو اسے اتینی زیادہ پریشانی اٹھانا نہ پڑے ، ہوتا یہی ہے کہ اسنا اپنے عزیز و اقارب اور قرب و جوار میں موجود دوسرے لوگوں سے بہت  سی توقعات وابستہ کرلیتا ہے اور جب یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں تو انسان حیرت زدہ ہوکر رہ جاتا ہے، حالانکہ اسے چاہیے کہ انسانوں سے توقعات وابستہ کرنے کے بجائے خدا سے توقعات وابستہ کرے۔ خدا وہ قادر مطلق ہستی ہے کہ اس کی ذات سے اگر روزآنہ ایک لاکھ خواہشات بھی وابستہ کی جائیں تو وہ پوری کر سکتا ہے، اس لیے وہ  خود ہر خواہش سے بے نیاز ہے اور ہر ضرورت سے لا احتیاج ہے۔




____________

روحانی ڈائجسٹ : دسمبر 85، مئی 2004، نومبر 2004

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔