Topics

بے بادہ رہوں اور میں واللہ غلط

بے بادہ رہوں اور میں واللہ  غلط

ساقی کے سوا اور کی ہو چاہ غلط

ہے میکدہ و محراب پرستش میری

میں میکدہ چھوڑ دوں یہ افواہ غلط

تشریح!           میرے وجود و بقا کا انحصار نشہ و سرمستی پر ہے۔ نشہ و سرمستی ہی میری عبادت ہے،  میری حیات ہے، میری مرکزیت ہے۔ یہ ساقی کا کرم ہےکہ اس نے میکدہ میں مجھے جگہ دے دی ہے۔ محروم لوگ کہتے ہیں کہ مے نوش نے میکدہ چھوڑ دیا ہے یہ محض افواہ ہے یہ افواہ انہوں نے  اس لیے پھیلائی ہے  کہ نشہ و سرمستی سے محروم لوگ مخمور اور بے خود بندوں کی سرمستی سے واقف ہی نہیں ۔ لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ خمار اور سرمستی ساقی کے دم سے قائم ہے اور ساقی کی شان ہے کہ وہ اپنے شیدائیوں دکے اندر خم کے خم انڈیلتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جب یہ حال ہوجائے کہ شراب بندہ کی زندگی بن جائے تو شراب کے بغیر وجود ہی بے کار ہے۔۔۔۔۔۔۔



____________

روحانی ڈائجسٹ: جنوری ۸۵

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔