Topics

تبت یدا

ابو لہب اور اس کی بیوی محمدرسولؐ اللہ کے چچا چچی تھے۔ جب حضورؐ دعوت حق دیتے تو ابو لہب مجمع کے پاس جا کر کہتا تھا کہ اس کی بات نہ سنو یہ مجنو اور دیوانہ ہے ۔ اس کی بیوی ام جمیل جنگل سے کانٹے دار لکڑیاں چن چن کر لاتی اور حضور ؐکے رستے میں ڈال دیتی تھی۔ اس کے بارے میں سورة لہب نازل ہوئی۔

ترجمہ :

ٹوٹ گئے ابو لہب کے ہاتھ اور وہ نامراد ہوا۔ نہ تو اس کا مال اس کے کچھ کام آیا اور نہ جو اس نے کمایا ۔ ضرور وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈالا جائے گا اور اس کے ساتھ اس کی بیوی بھی جو ایندھن سر پر اٹھائے پھرتی ہے ۔ اس کے گلے میں مونج کی رسی ہو گی ۔ (پارہ ۳۰)

حضورعلیہ الصلوة والسلام بیت اللہ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے ہمراہ تشریف فرما تھے۔ ام جمیل حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے مخاطب ہوئی، ” ابو بکر تمہارا ساتھی کہاں ہے؟ اس نے میری ہجو کہی ہے ۔“ 

محمد رسولؐ اللہ وہاں موجود تھے۔ لیکن ابو لہب کی بیوی کو نظر نہیں آئے۔

٭٭٭

لہب کے معنی شعلے کے ہیں۔ ابو لہب کا اصلی نام عبدالعزیٰ تھا ۔ ابو لہب سرخ و سفید شعلہ رد تھا ۔ غالبا ً اسی وجہسے ابو لہب پکارا جاتا تھا۔ ابو لہب بیت اللہ کے بیت المال کا نگراں تھا ۔ بیت المال پر اس نے اس طرح قبضہ کر رکھا تھا کہ بیت المال کا بڑا حصہ یتیموں ، مسکینوں اور حاجیوں پر خرچ ہونے کی بجائے اس کے خزانے میں جمع ہوتا تھا ۔حضور علیہ الصلوة والسلام کی دعوت حق سن کر اسے محسوس ہوا کہ اس کا احتساب کا وقت قریب آ گیا ہے اور وہ اس اعزاز اور مال و دولت سے محروم ہو جائے گا جو اسے حاصل ہے ۔ چنانچہ اس نےآپؐ کی مخالفت کی اور مخالفت میں بڑے بڑے دشمنوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ قرآن نے اس سورہ میں حضور پاکؐ کے دشمن کی سیاسی قوت ٹوٹ جانے کی پیش گوئی کی ہے ، جو پوری ہو ئی ۔ غزوہ بدر کے کچھ عرصے بعد وہ چیچک میں مبتلا ہوا۔ اس بیماری کے دوران چھوت کے اندیشے سے اس کے ساتھیوں نے ، اس کے بیٹوں نے اور اس کے خاندان نے اس کی تیمار داری بھی نہیں کی ۔ وہ اسی بے کسی کے حال میں مرگیا اور کئی دن اس کی لاش سڑتی رہی ۔ با لآخر لوگوں کے طعنوں سے تنگ آ کر اس کے بیٹوں نے مزدوروں کی مدد سے مکہ کے بلائی حصہ میں لاش پھینکوا دی اور اس پر اتنے پتھر پھینکے کہ لاش پتھروں میں ڈھک گئی ۔

ابو لہب کی بیوی اس زمانے میں خاتون اول تھی جو نہایت خوبصورت او رجمیل تھی ۔ اس سورہ میں ابو لہب کی ذلت کی وہ تصویرنمایاں ہے جو قیامت کے دن ہو گی ۔ دنیا میں خاتون اول بن کر ہیرے جواہرات کے قیمتی ہار پہن کر اتراتی پھرتی تھی ۔ قیامت کے دن یہی ہار موٹی رسی کی شکل میں بدل جائیں گے اور وہ اسی طرح پھرے گی جیسے کوئی کنیزگلے میں رسی ڈال کر لکڑیاں چننے جا رہی ہو ۔ ابو لہب کی بیوی ام جمیل چونکہ حضور کو اذیت پہنچانے میں اپنے شوہر کے ساتھ برابر کی شریک رہی اس لیے جہنم میں اپنے شوہر کے ساتھ ان جرائم کی سزا بھگتے گی جو اس نے حضور علیہ الصلوة والسلام کی دشمنی میں کئے ہیں۔


Topics


Mohammad Rasool Allah (2)

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت پر ان گنت صفحات لکھے جاچکے ہیں اور آئندہ لکھے جاتے رہیں گے لیکن چودہ سوسال میں ایسی کوئی تصنیف منظر عام پر نہیں آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کی روحانی اور سائنسی توجیہات اور حکمت پیش کی گئی ہو ۔ یہ سعادت آپ کے نصیب میں آئی ہے ۔ ایک سعید رات آپ کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضری کا موقع ملا ۔ دربار رسالت میں ایک فوجی کی طرح Attention، جاں نثار غلاموں کی طرح مستعد، پرجوش اورباحمیت نوجوان کی طرح آنکھیں بند کئے دربار میں حاضر تھے۔ 

آہستہ روی کے ساتھ ، عشق و سرمستی کے خمار میں ڈوب کر دو قدم آگے آئے اور عرض کیا ،

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !

بات بہت بڑی ہے، منہ بہت چھوٹا ہے ۔۔۔ 

میں اللہ رب العالمین کا بندہ ہوں اور۔۔۔ 

آپ رحمت للعالمینﷺکا امتی ہوں۔۔۔

یہ جرأت بے باکانہ نہیں، ہمت فرزانہ ہے۔۔۔ 

میرے ماں باپ آپ ﷺپر قربان ہوں ۔ 

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !

یہ عاجز ، مسکین ، ناتواں بندہ ۔۔۔

آپ ﷺ کی سیرت مبارک لکھنا چاہتا ہے ۔۔۔

یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !

سیرت کے کئی پہلو ابھی منظر عام پر نہیں آئے۔۔۔ 

مجھے صلاحیت عطا فرماےئے کہ۔۔۔ 

میں معجزات کی تشریح کرسکوں۔

آپ نے بند آنکھوں سے محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ملاحظہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ ہے ۔ آپ اس سرمستی میں سالوں مد ہوش رہے ۔ خیالوں میں مگن ، گھنٹوں ذہن کی لوح پر تحریریں لکھتے رہے ۔ سیرت کے متعلق ہر وہ کتاب جو آپ کو دستیاب ہوسکی اللہ نے پڑھنے کی توفیق عطا کی اوربالآ خر ایک دن ایسا آیا کہ کتاب محمد رسول اللہ جلد دوئم کی تحریر کا آغاز ہوگیا۔