Topics

نفسِ واحدہ


سوال: حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے ’’جس نے اپنے نفس کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا۔‘‘ سوال یہ ہے کہ یہ نفس کیا ہے جس کو سمجھ کر ہم اللہ تعالیٰ کا عرفان حاصل کر سکتے ہیں؟

جواب: اللہ تعالیٰ جب تخلیق کا تذکرہ فرماتے ہیں تو اپنی خالقیت کا اعلان کرتے ہیں تو کہتے ہیں۔ ’’وہی ہے جس نے تمہیں تخلیق کیا ہے نفس واحدہ سے۔‘‘ تصوف میں اس کا اصطلاحی نام ’’نسبت وحدت‘‘ ہے اور اس کو ایک نقطہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس میں تمام کائنات بند ہے۔

بادی النظر میں ہم غور کرتے ہیں کہ نفس واحدہ کیا چیز ہے؟ تو عام طرزوں میں یہ کہہ دیا جاتا ہے، نوع انسانی آدم سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی نفس واحدہ سے مراد آدم ہے۔ یہ طرز فکر اور یہ تاویل صحیح نہیں ہے اس لئے کہ جب آدم کا تذکرہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق آدم کا پتلا سڑی اور بجنی مٹی سے تخلیق ہوا۔ حقیقت میں نفس واحدہ جس کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے تمہیں نفس واحدہ سے تخلیق کیا ہے۔ وہ نقطہ ہے جو ساری کائنات کی بنیاد ہے اور اس نقطہ میں کائنات کا ایک ایک ذرہ ریکارڈ ہے۔ کوئی چیز اس سے باہر نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آدمی اپنے اندر موجود اس نقطہ سے واقف ہو جائے اور اس کی نگاہ اس نقطہ کے اندر کام کرنے لگے۔

اسی نقطہ کے بارے میں حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔ ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے فرمان اور حضور اکرمﷺ کے ارشاد پر تفکر کیا جائے تو اس کے معانی اور مفہوم اپنی پوری توانائیوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں اور ہم ان دونوں میں باہمی ربط موجود پاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے تمہیں تخلیق کیا نفس واحدہ سے۔۔۔۔۔۔اور حضور اکرمﷺ اس نفس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ مشکل یہ آن پڑی ہے کہ جب عرفان نفس کا کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو ہم ان قرآنی آیات کو جس میں عرفان نفس کے متعلق واضح اور روشن ہدایات موجود ہیں متاشبہات کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ اس کتاب میں کسی قسم کے شک اور شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ کتاب جس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں ان لوگوں کو ہدایت بخشتی ہے جو متقی ہیں اور متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی غیب ان کے مشاہدے میں ہوتا ہے۔ ان حضرات کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ ان کی عام طرز فکر یہ ہوتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں، یہ بات ہمارا یقین ہے۔ یعنی یہ بات ہمارے مشاہدے میں ہے کہ ہر بات، ہر کام، ہر عمل، ہر حرکت خواہ وہ ابتدا ہو یا انتہا، ظاہر ہو یا چھپی ہوئی ہو سب اللہ کی طرف سے ہے۔ 

مطلب یہ ہے کہ کسی چیز کے عملدرآمد ہونے میں براہ راست اللہ تعالیٰ کی مشیت کا عمل دخل ہے۔

یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ کائنات میں موجود ہر شے لہروں کے تانے بانے پر قائم ہے اور یہ لہریں نور کے اوپر قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق زمین و آسمان اللہ کا نور ہیں۔ تخلیق کی ایک حیثیت نورانی ہے اور دوسری حیثیت روشنی ہے۔ ان لہروں اور تخلیق کے نورانی وصف کو تلاش کرنے کے اہل اللہ نے انسانی شعور کی مناسبت سے قاعدے اور ضابطے بنائے ہیں اور ایک نقطہ کو چھ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے تا کہ ایک سالک آسانی سے سمجھ سکے۔ اس نقطے کے چھ حصوں کا نام تصوف میں لطائف ستہ یعنی چھ لطیفے رکھا گیا ہے۔ پانچ لطیفوں کو چھوڑ کر آخری چھٹا لطیفہ جس کو اخفی کا نام دیا گیا ہے ہر انسان کے اندر نفس واحدہ ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جس میں داخل ہونے کے بعد کائنات صحیح معنوں میں انسان کے لئے تسخیر ہو جاتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد سمجھ لیتا ہے کہ ہم نے مسخر کر دیا سب کا سب تمہارے لئے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں، یعنی آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ تمہارا محکوم ہے اور تم اس کے حاکم ہو۔ اس ارشاد کی مزید تفصیل یہ سامنے آتی ہے کہ ہم نے تمہارے لئے سورج کو مسخر کر دیا، چاند کو مسخر کر دیا، ستاروں کو مسخر کر دیا۔ مسخر ہونے سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ چاند اور سورج کو اللہ تعالیٰ نے ایک ڈیوٹی تفویض کی ہے اور یہ بات ان کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ مخلوق کی خدمت کریں۔ چاند ہو، سورج ہو، ستارے ہوں، نباتات ہوں یا جمادات، پانی ہو یا گیس، چرندے ہوں یا پرندے۔ سب انسان کی خدمت گزاری میں مصروف ہیں، یہ مسخر ہونے کی تعریف میں نہیں آتا۔ مسخر ہونا کسی چیز پر حاکمیت قائم ہونے کے معنی رکھتا ہے کہ اس چیز پر تصرف کیا جا سکے۔ موجودہ صورت یہ ہے کہ انسان چاند اور سورج کے تصرف میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ اگر چاند اور سورج اپنا تصرف ختم کر سکتے تو زمین کا وجود باقی نہ رہتا۔ مثلاً یہ کہ ہم دھوپ کے محتاج ہیں اور ہم اس بات کے بھی محتاج ہیں کہ چاند اپنی روشنی سے ہماری فصلوں کو پروان چڑھائے۔ ہمیں چاند اور سورج پر کوئی حاکمیت حاصل نہیں ہے۔



Taujeehat

خواجہ شمس الدین عظیمی

۱۹۷۸ء تا اپریل ۱۹۹۴ء تک مختلف اخبارات و جرائد میں شائع شدہ منتحب کالموں میں عظیمی صاحب سے کئے گئے سوالات کے جوابات کو کتابی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

اِنتساب

دل اللہ کا گھر ہے اس گھر میں‘ میں نے
عظیمی کہکشاں دیکھی ہے‘ اللہ کی معرفت اس
منور تحریر کو عظیم کہکشاؤں کے روشن چراغوں
کے سپرد کرتا ہوں تا کہ وہ اس نور سے اپنے
دلوں کو منّور کریں۔