Topics

‘‘مراقبہ کی تعریف’’

سوال: مراقبہ کیا ہے؟ اس کا کرنا کیوں ضروری ہے اور اس کے کرنے سے انسان میں کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں؟ نیز مراقبہ میں واردات و کیفیات کا نزول کس طرح ہوتا ہے؟

جواب: مراقبہ ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں انسانی شعور آہستہ آہستہ لاشعوری واردات و کیفیات سے مغلوب ہو جاتا ہے اور لاشعور (روح کا شعور) متحرک ہو جاتا ہے۔ مختلف سلسلوں میں مختلف مشقوں کے ذریعہ اس حالت کو بیدار کیا جاتا ہے۔ مقصد سب سلسلوں کا ایک ہی ہے وہ یہ کہ ارادہ کے ساتھ نیت بھی کام کرے اس لئے کہ بغیر نیت کے ارادہ میں حرکت پیدا نہیں ہوتی۔

مراقہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں زمان ومکان کی حد بندیاں نہیں ہیں۔ زمان و مکان کی حد بندیاں انسانی ارادے اور نیت میں خلل پیدا کرتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہماری زندگی میں حد بندیاں کن حالات میں زیادہ اور شدید ہوتی ہیں اور وہ کونسی صورت ہے جس میں ہم ان حد بندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔

انسانی زندگی دو حصوں پر منقسم ہے۔ ایک حصہ بیداری ہے اور دوسرا حصہ خواب۔ بیداری میں انسان زمان و مکاں کا پابند ہے لیکن خواب میں انسان ان سے آزاد ہو جاتا ہے۔ باالفاظ دیگر جاگتے انسان کی نسبت سوتے انسان میں صلاحیتیں زیادہ بیدار ہوتی ہیں۔ مراقبہ کے ذریعہ خواب میں زمان و مکان سے آزاد کام کرنے والی صلاحیتیں بیداری میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ سب سے پہلے مراقبہ میں اس بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ انسان کے اوپر بیدار رہنے کی حالت میں ایسی کیفیت طاری ہو جائے جو خواب سے قریب ترین ہے۔ اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ انسان اپنی نیت اور ارادے سے بیداری میں اپنے اوپر خواب کی زندگی طاری کر لے مثلاً یہ کہ
اندھیرا ہو۔ آنکھیں بند ہوں۔ جسم ڈھیلا ہو۔ شعور بیداری کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو اور لاشعوری کیفیات کو قبول کرتا ہو۔ ذہن کسی ایک نقطہ پر مرکوز کر لیا جائے جو بظاہر سامنے نہیں ہے یہ مشق آہستہ آہستہ انسان کو اس مقام پر لے آتی ہے جہاں وہ خواب کی واردات کو بیداری کے حواس میں محسوس کرتا ہے اور اس کا آخری درجہ یہ ہوتا ہے کہ لاشعوری تحریکات کو انسان اس طرح قبول کرنے لگتا ہے جس طرح وہ شعور کی تحریکات کو قبول کرتا ہے۔

اس ضمن میں یہ بتانا ضروری ہے کہ انسان کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں ایک دماغ وہ ہے جو آدم کے اندر اسفل سافلین میں پھینکے جانے سے پہلے کام کرتا تھا اور دوسرا دماغ وہ ہے جو اسفل میں بنا اور اسفل میں کام کرتا ہے لیکن وہ دماغ جو جنت میں کام کرتا تھا وہ ختم نہیں ہوا۔ ہوتا یہ ہے کہ اسفل کا دماغ غالب رہتا ہے اور جنت کا دماغ مغلوب۔ لیکن اس کی حرکات و سکنات ہر لمحہ اور ہر آن برقرار رہتی ہیں اور یہ حرکات و سکنات خواب میں سفر کرتی رہتی ہیں۔ لیکن مراقبہ کے ذریعے خواب کے حواس جب بیداری میں منتقل ہو جاتے ہیں تو صورت حال الٹ جاتی ہے یعنی اسفل کا دماغ مغلوب ہو جاتا ہے اور جنت کا دماغ غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر اسفل کا دماغ معطل ہو جائے تو انسان کے اوپر جذب طاری ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس راستہ میں سفر کرنے والے سالک کو استاد کی ضرورت پیش آتی ہے ایسا استاد جو اس راہ میں سفر کر کے منزل رسیدہ ہو اور وہ اس بات سے کماحقہ واقف ہو کہ سالک کی ذہنی استعداد کیا ہے۔ اور وہ جنت کے دماغ کی تحریکات کو کس حد تک قبول کر سکتا ہے۔ اسی مناسبت سے وہ استاد ایسے اسباق تجویز کرتا ہے جو سالک کی ذہنی استعداد کے مطابق ہوں اور اس کی سکت کو بتدریج بڑھاتے رہیں۔ تصوف کی زبان میں اس استاد کا نام شیخ ہے۔

مراقبہ کا سب سے آسان طریقہ تصور شیخ ہے۔ آنکھیں بند کر کے ذہن کی تمام صلاحیتوں کو اس بات میں استعمال کیا جائے کہ شیخ ہمارے سامنے ہے۔ اس سے پہلا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مرید چونکہ شیخ سے واقف ہے اور اس کے ذہن میں شیخ کی شکل و صورت اور سیرت کا ایک عکس بھی موجود ہے اس لئے تصور کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ جب ہم تصور شیخ کرتے ہیں تو خیالات کے ذریعے شیخ کی پاکیزگی ہمارے ذہن میں منتقل ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ اس پاکیزگی کا اتنا غلبہ ہو جاتا ہے کہ تاریکی اور کثافت چھٹ جاتی ہے۔ جب تک دماغ کی سطح پر تاریکی اور کثافت باقی رہے گی۔ کوئی سالک روحانی سفر میں قدم نہیں بڑھا سکتا۔

مراقبہ کی تعریف ہو چکی اب دیکھیں کہ مراقبہ میں واردات و کیفیات کا نزول کس طرح ہوتا ہے۔ یہ دو طرح سے ہوتا ہے۔

پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے اس کے اوپر آدھی نیند طاری ہو گئی جس کو ہم نیم غنودگی کہہ سکتے ہیں اور اس حالت میں وہ غیب کی بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کرتا ہے۔

دوسری حالت میں وہ آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے لیکن اس کے اوپر نیند طاری نہیں ہوتی۔ آنکھیں بند ہیں اور وہ غیب کی چیزوں کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اس کیفیت کا نام اصطلاحی درود ہے۔ جب کوئی شخص اس کیفیت سے پوری طرح آشنا ہو جاتا ہے تو پھر درود کی حالت میں اس کی آنکھیں کھلنے لگتی ہیں اور کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر چیز بند آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ آنکھوں پر ایک دباؤ پڑا اور آنکھیں کھل گئیں۔ رفتہ رفتہ یہ حالت اسی درجہ غالب آ جاتی ہے کہ اس کو آنکھیں بند کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور وہ اپنے ارادہ کے ساتھ جہاں دیکھنا چاہتا ہے دیکھ لیتا ہے۔ اس کیفیت کا اصطلاحی نام کشف یا مکاشفہ ہے۔ لیکن اس حالت میں انسانی شعور کافی حد تک معطل اور دبا ہوا رہتا ہے۔ یعنی جب اس کے اوپر یہ حالت وارد ہوتی ہے تو ماحول سے اس کا تعلق منقطع ہو جاتا ہے اور جب اس کیفیت سے باہر آتا ہے تعلق بحال ہو جاتا ہے۔

مکاشفہ کی صلاحیت پوری طرح بیدار ہو جانے کے بعد ذہن ایک نئی کروٹ لیتا ہے اور انسان کھلی آنکھوں سے دور دراز اور پس پردہ چیزوں کو دیکھنے پر قادر ہو جاتا ہے پس پردہ چیزیں بھی دیکھتا ہے اور شعوری حواس میں بھی رہتا ہے۔ مطلب یہ کہ شعوری حواس میں وہ باتیں کر رہا ہے، کھا رہا ہے۔ چل رہا ہے اور مشاہدہ بھی کر رہا ہے۔ تصوف میں اس کا نام مشاہدہ ہے، یہ مشاہدہ ہی ہے جو انسان کو درجہ بدرجہ وہاں لے جاتا ہے جہاں وہ عرفان صفات کے علم سے متصف ہو جاتا ہے۔

مشاہدہ میں اس بات کی مشق ہو جاتی ہے کہ انسان لاشعوری واردات و کیفیات میں جو دیکھتا ہے شعور اس کو نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ اس کو ایک حقیقت جان کر اہمیت بھی دیتا ہے۔ نتیجہ میں لاشعوری اور شعوری کیفیات میں ایک توازن قائم ہو جاتا ہے۔

جب یہ کیفیت قائم ہو جاتی ہے تو کوئی سالک غیب اور ظاہر میں بیک وقت دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے اور عمل کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ بھی کرتا ہے اور دنیاوی کاموں میں بھی مصروف رہتا ہے، فرشتوں سے ہم کلام بھی ہوتا ہے اور اپنے دوستوں سے محو گفتگو بھی رہتا ہے۔ یعنی اس کے اوپر ایک ایسی حالت وارد ہو جاتی ہے جس کو ہم لاشعوری اور شعوری کیفیات کا ایک جگہ جمع ہونا اور بیک وقت عمل کرنا کہہ سکتے ہیں۔ وہ خود کو زمین پر بھی موجود دیکھتا ہے اور آسمانوں کی سیر میں بھی مصروف پاتا ہے۔

آیئے! دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور اپنے محبوبﷺ کے صدقے میں ہمیں توفیق عطا فرمائیں کہ ہم اس کے محبوبﷺ کے نقش قدم پر چل کر اپنا عرفان حاصل کریں اور من عرف نفسہ فقد عرف ربہ یعنی جس نے خود کو پہچان لیا بیشک اس نے اپنے رب کو پہچان لیا کی وعید کے مطابق خود کو پہچانیں اور ذات باری تعالیٰ کا عرفان حاصل کر لیں۔ آمین یا رب العالمین۔

****

Topics


Zaat Ka Irfan

خواجہ شمس الدین عظیمی

‘‘انتساب’’

اُس ذات

کے
نام
جو عرفان کے بعد

اللہ کو جانتی‘ پہچانتی

اور
دیکھتی ہے