Topics

‘‘اللہ کی جان’’

برس ہا برس سے میرے ساتھ یہ ہو رہا ہے کہ جب لوگ تقریریں سنتے سنتے تھک جاتے ہیں تو میری باری آتی ہے۔ اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ اگر کوئی کام خالی الذہن ہو کر کیا جائے تو اس کے نتائج اچھے مرتب ہوتے ہیں۔ تجربہ بھی یہی ہے کہ آدمی دن بھر کام کر کے تھک جاتا ہے تو اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔ دماغ ماؤف ہونے لگتا ہے اور آدمی سو جاتا ہے۔ صبح کو جب اٹھتا ہے تو تازہ دم ہوتا ہے۔ اعصاب شکنی نہیں ہوتی اور وہ تیار ہو کر نئے کام شروع کر دیتا ہے۔ پھر تھک کر سو جاتا ہے اور صبح کو پھر تازہ دم ہو کر کاموں میں مشغول ہو جاتا ہے۔

لیکن میرے ساتھ عجیب صورتحال ہے۔ مجھے صدر بنا دیا جاتا ہے۔ صدر کی یہ مجبوری ہے کہ بات اس کی سمجھ میں آئے نہ آئے لیکن جب تک پروگرام کے تمام مقررین اس کو اپنی تقریر نہیں سنا دیتے وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتا۔ اور وہ اس بات کا بھی منتظر رہتا ہے کہ جب سب لوگ اپنی باتیں سنا دیں گے تو میری باری آئے گی۔ مشاعرے کی حد تک تو یہ بات ٹھیک ہے کہ ایک شاعر اس انتظار میں بیٹھا رہتا ہے کہ میں کسی کا شعور سنوں گا تو کوئی میرا شعر سنے گا۔ لیکن تقریر کا مسئلہ عجیب ہے کہ محترم صدر تقاریر سنتے سنتے یہ بھول جاتے ہیں کہ مجھے کیا کہنا ہے۔ پھر بھی انہیں نئے نئے موضوعات مثلاً سائنس، ادب، کواکب، شمس و قمر، زمین و آسمان، ہجر و فراق، عشق و مستی، جسم و روح اور فلسفہ حیات و ممات سننا پڑتا ہے۔ سامعین کی سمجھ میں کوئی بات نہ آئے تو اونگھ لیتے ہیں۔ مگر صدر اونگھ بھی نہیں لے سکتا کہ یہ آداب محفل اور صدر کے وقار کے خلاف ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ پوری تقریر پر لطیفہ ہوتی ہے۔ مگر کیا مجال ہے کہ صدر تیوری پر بل ڈالے یا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جائے۔

کیوں؟
اس لئے کہ وہ ذی احترام صدر ہے۔

بہرحال جو بھی رسم و رواج ہو میں آپ خواتین و حضرات کے سامنے ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ شروع کہاں سے کروں۔ سب کچھ ہمارے مقررین کہہ چکے ہیں۔ اگر میں آپ کے سامنے معزز خواتین و حضرات کی تقاریر کے اقتباس پیش کروں تو یقیناً وہ ناراض ہو جائیں گے کہ اتنے انتظار کے بعد آموختہ سنا دیا۔ یہ بھی نہیں سوچا کہ انتظار موت سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔

‘‘روحانیت میں خواتین کا مقام’’ کے موضو ع پر ماشاء اللہ بڑی اچھی اچھی تقریریں ہوئیں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ مقررین نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اللہ میاں مردوں سے زیادہ عورتوں کو پسند کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دو بیویاں تھیں۔ سب جانتے ہیں کہ ان کی ایک زوجہ محترمہ مکہ میں تھیں اور ایک فلسطین میں تھیں۔

وہ بیچارے چھ مہینے سفر میں رہتے۔ چھے مہینے دونوں بیویوں کے پاس رہتے تھے۔ سال بھر اسی طرح گزر جاتا تھا اور ان کی بڑی بیگم صاحبہ شرائط عائد کرتی تھیں کہ حضرت ہاجرہ کے پاس جا تو رہے ہو لیکن اونٹ سے نہیں اترنا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام وعدہ کر لیتے تھے۔ پہنچتے تو اونٹ پر بیٹھے بیٹھے باتیں کرتے تھے۔ اونٹ پر بیٹھے بیٹھے حضرت ہاجرہ ان کے ہاتھ پیر دھلاتی تھیں۔ اونٹ پر بیٹھے بیٹھے وہ کھانے کو دیتی تھیں۔ اس صورت حال سے جب بہت زیادہ پریشان ہوئے اور کوئی ایسا طریقہ سمجھ میں نہ آیا کہ اس سے آزادی حاصل ہو جائے۔ انہوں نے سوچا کہ اس مسئلے کا حل اللہ تعالیٰ سے معلوم کرنا چاہئے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ یا اللہ دو بیویوں میں جو میرا حال ہے وہ آپ کے سامنے ہے، کوئی ایسا بندوبست کر دیجئے کہ مجھے سکون مل جائے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

‘‘اے ابراہیم! تم مرد ہو کر عورتوں کی شکایت کرتے ہو۔’’

دوسری بات یہ ہے کہ ہمیشہ سے یہی سنتے آئے ہیں کہ اللہ میاں مخلوق سے ستر ۷۰ ماؤں سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ اللہ معاف کرے کبھی کبھی مجھے یہ خیال بھی آتا ہے کہ کبھی اللہ میاں یہ بھی کہہ دیتے کہ میں دو ۲ باپ سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔

حضور پاکﷺ کی خدمت میں ایک صحابی حاضر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا کہ سب سے اچھا عمل بتایئے جو اللہ کو پسند ہو۔ اور آپ کو بھی پسند ہو۔ حضور پاکﷺ نے فرمایا۔ ماں کی خدمت۔ انہوں نے کہا۔ اگر ماں نہ ہو تو رسول پاکﷺ نے فرمایا۔ خالہ کی خدمت۔ ان صحابی نے پھر فرمایا کہ اگر خالہ بھی نہ ہو۔ تب حضور پاکﷺ نے فرمایا،باپ کی خدمت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باپ کا مقام خالہ کے بعد آتا ہے۔ جتنا بھی آپ غور کریں ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ ماں ہی سب کچھ ہے۔ آپ نے یہ نہیں سنا ہو گا کہ باپ کے قدموں میں جنت ہے۔ ہر مرد و عورت نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ ماں کے قدموں میں جنت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایک نظام اور سسٹم بنایا ہے اور یہ سسٹم عورت کے ارد گرد گھومتا ہے۔ عورت اللہ کی ایسی تخلیق ہے جو خود تخلیق کرتی ہے۔ جس طرح ایک عورت اپنے بچے کو نو ماہ پیٹ میں رکھتی ہے اور ۹ ماہ پیٹ میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ماں بچے کو نو مہینے اپنا خون پلاتی ہے۔ کیونکہ ماں کے پیٹ میں کوئی دوسری غذا خون کے علاوہ اسے نہیں ملتی۔ پیدائش کے وقت جن مراحل سے عورت گزرتی ہے مرد اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ سوا دو سال تک دودھ پلانا، یہ بھی ماں کا خون دودھ کی شکل میں بچے کے لئے غذا بنتی ہے۔ یعنی ۹ مہینے تک ماں اپنے بچے کے اندر براہ راست خون انڈیلتی رہتی ہے اور پیدائش کے بعد سوا دو سال تک دودھ کی شکل میں اپنا خون پلاتی رہتی ہے۔ ہم جب غور کرتے ہیں تو بچہ ماں کے علاوہ کچھ نہیں نظر آتا۔ بچہ دراصل ماں کا ایک حصہ ہے۔ جو قطرہ قطرہ خون جمع ہو کر شکل و صورت بنتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ

‘‘وہ ماں جو خود گیلے میں سوتی ہے تمہیں سوکھے میں سلاتی ہے۔’’

میری ماں جی کہتی تھیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اللہ نے کہا کہ

‘‘اے موسیٰ! اب سنبھل کے آنا۔’’

موسیٰ علیہ السلام کو بڑا تعجب ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں کہا۔ شاید کوئی گستاخی یا بے ادبی ہو گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

‘‘تمہاری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ جب تم ہمارے پاس کوہ طور پر آتے تھے تمہاری ماں سجدے میں گر جاتی تھیں اور جب تک تم واپس نہیں چلے جاتے تھے وہ ہم سے تمہارے لئے عافیت مانگتی رہتی تھیں اور کہتی تھیں کہ یا اللہ میرے بچے سے اگر غلطی ہو جائے تو گستاخی اور بے ادبی کو معاف کر دیں۔ اس کے اوپر اپنی عافیت اور رحمت رکھیں۔

ماں ایک ایسی ہستی ہے جو بچے کا گہوارہ ہے۔ ہمیشہ یہی کہا جاتا ہے کہ بچہ مادری زبان بولتا ہے۔ آپ نے کبھی سنا ہے کہ بچہ پدری زبان بولتا ہے؟ ماں کی جو طرز فکر ہوتی ہے وہی بچے کی طرز فکر بن جاتی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ جس گھر میں لڑائی فساد زیادہ ہوتا ہے اس گھر کے بچے بھی جھگڑالو اور فسادی ہوتے ہیں۔ جس گھر میں ماں چیخ کر بولتی ہے اس گھر کے بچے بھی چیخ کر بولتے ہیں۔ جس گھر میں ماں کے لہجے میں حلاوت ہے، نرمی ہے، ٹھنڈک ہے، بردباری ہے، محبت اور شفقت ہے، اس گھر کے بچوں میں ادب و احترام ہو گا۔ الفت ہو گی۔ زمین پر اللہ کا سارا نظام ماں کے دم سے ہے۔ میں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔ ماں نہ ہوتی تو میرا وجود ہی نہ ہوتا۔

ماں کا کردار دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا مظہر ہے جن صفات سے اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو تخلیق کیا ہے۔ مرد کی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ مثلاً اگر آدم علیہ السلام کے اندر سے حوا پیدا نہ ہوتی تو حوا کا وجود نہ ہوتا۔ آدم کے اندر سے حوا پیدا ہوئی۔ دنیا میں حوا کے اندر سے آدم پیدا ہوا۔ آدم ہو یا حوا۔ دونوں تخلیق کے ایسے راز و نیاز ہیں کہ جن کے بارے میں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ جب تک آدم و حوا کے دو رخ موجود نہیں ہوں گے تخلیقی نظام نہیں چلے گا۔

چرندوں میں نر و مادہ ہوتے ہیں، پرندوں میں نر و مادہ ہوتے ہیں، درختوں میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں، تخلیق کا فارمولا یہ ہے کہ جب تک دو رخ موجود نہ ہوں اور دونوں رخ ایک دوسرے کے اندر جذب ہو کر رد و بدل نہ ہوں اور ان میں سے کوئی ایک رخ غالب اور مغلوب نہ ہو تخلیقی نظام اور نسل کشی کا سلسلہ قائم نہیں ہو گا۔ خالی مرد ہی مرد ہوں تو تولید کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ دنیا میں اگر مرد ختم ہو جائیں تو خواتین ہی خواتین ہوں تب بھی تخلیق کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ یہ بالکل ایسی بات ہے کہ اگر گاڑی کے دو پہیے نہ ہوں، گاڑی نہیں چلتی۔

اللہ تعالیٰ نے آدم کو تخلیق کیا۔ اللہ نے آدم کو بجنی مٹی سے بنایا یعنی پتلا بنایا اور اس پتلے میں اپنی روح پھونک دی۔ روح سے مراد اللہ تعالیٰ کا امر ہے۔ جب ہم اس آیت پر غور و فکر کرتے ہیں کہ پتلے کے اندر اللہ کی روح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر جو کچھ بھی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ دراصل وہ اللہ کی جان ہے۔ جان کا حصہ ہے۔ یہ ہرگز نہ سمجھئے کہ میں نعوذ باللہ شرک کر رہا ہوں۔ میں اللہ کی بات دہرا رہا ہوں۔ قرآن میں ہے۔

‘‘اور ہم نے اپنی روح میں سے روح ڈال دی۔’’

مثال سے سمجھئے!

سمندر کا ایک قطرہ سمندر کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سمندر کا قطرہ سمندر بن گیا۔ اسی طرح جب اللہ کی روح یعنی اللہ کی جان جسم میں ڈالنے کا تذکرہ ہو گا تو یہ مفہوم نہیں نکلے گا کہ انسان نعوذ باللہ خدا بن گیا۔ یا اس کے اندر وہ تمام صفات پیدا ہو گئیں جو اللہ کی ذاتی صفات ہیں۔ انسان کے اندر وہی صفات منتقل ہوئی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر منتقل کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ

‘‘میں نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔’’

اس کا مطلب بھی یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی طرح ہیں۔ انسانوں کی طرح ان کی آنکھیں ہیں۔ کان ہیں۔ اگر صورت سے مراد انسانی صورت لے لی جائے تو یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ سوتے ہیں، جاگتے ہیں۔ کھانا کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ کو کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اللہ ہر چیز سے بے نیاز و بے احتیاج ہے۔ صورت پر تخلیق کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے اپنی لامحدود صفات میں سے تقریباً ساڑھے گیارہ ہزار صفات انسان کے اندر منتقل کر دی ہیں اور ہر صلاحیت سمندر کی طرح محدود تو ہے لیکن لامحدود بھی ہے۔ لامحدود کو کتنا بھی محدود کر دیا جائے۔ اس کی اصل لامحدود رہتی ہے مرد اور عورت کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی جان یعنی روح ہے۔ جب تک روح انسان کے اندر رہتی ہے۔ جسم میں حرکت رہتی ہے اور جیسے ہی روح اس مادی جسم کو چھوڑ دیتی ہے۔ یہ جسم بے جان ہو جاتا ہے۔ عورت اور مرد دراصل ایک کھلونا ہے جو چابی سے چلتا ہے۔ جب تک کھلونے کے اندر چابی رہتی ہے کھلونا چلتا رہتا ہے اور چابی ختم وہ جاتی ہے۔ کھلونا نہیں چلتا۔ ایک مردہ جسم کی حیثیت ایسے کھلونے کی ہے جس میں روح نہ ہو۔ انسان کی مشینری اور مشینری کے کل پرزے دماغ، دل، گردے اور پھیپھڑے اس وقت تک قابل ذکر ہیں جب تک ان کے اندر روح ہے۔

آج صبح میں سوچ رہا تھا کہ مجھے تو یاد بھی نہیں کہ میں کتنی تقریریں کر چکا ہوں۔ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے جو سنتے ہیں وہ بہت کم یاد رہتا ہے لیکن جو تقریر کرتا ہے اسے یاد رہتا ہے۔ میں نے اپنے پیارے اللہ سے عرض کیا۔ اللہ میاں! یہ لوگ آپ کے نام پر یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آپ کے حبیب محمد الرسول اللہﷺ کا پیغام سننے کے لئے یہاں آئے ہیں۔ میرے اللہ میرا سینہ کھول دے۔ میرے اندر ایسی روشنی اتار دے کہ میں تیرے بندوں کے سامنے کچھ عرض کر سکوں۔ میرے ذہن میں قرآن پاک کا یہ ترجمہ آیا۔ دماغ میں اک جھماکا ہوا اور آواز ایکوEchoہوئی:

‘‘اللہ وہ ہے جو آسمان سے پانی نازل کرتا ہے اور پانی میں رزق نکالتا ہے۔’’

ہم جانتے ہیں کہ پانی برستا ہے تو کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ لیکن جہاں پانی نہیں برستا وہاں بھی درخت اُگتے ہیں۔ سندھ کے علاقے تھر میں جہاں بارش شاز و نادر ہی برستی ہے۔ وہاں کیکر ہے، تھور ہے، کیکٹس ہے۔ پانی کے بغیر بھی یہ چیزیں زمین پر ہیں۔ آسمان سے پانی برسنے کا مفہوم کیا ہے؟ اگر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آسمان سے پانی برسے گا تو ہمیں رزق ملتا رہے گا تو ایسی زمین جس پر پانی نہیں برستا، کیکر اور دوسرے درخت کیوں اُگتے ہیں؟ میں نے غور کیا کہ ‘‘انزل من السماء ماء’’ اللہ اعلیٰ و ارفع ہے اور قادر مطلق ہستی ہے جو آسمان سے پانی برساتی ہے اور پھر اس پانی سے نوع انسانی کے لئے نوع اجنہ کے لئے نوع جمادات کے لئے نوع نباتات کے لئے رزق پیدا کرتی ہے۔ جب میں نے اس بات پر غور کیا تو میری سمجھ میں ایک بات یہ آئی کہ اللہ کی جتنی بھی مخلوق ہے اس میں نقش و نگار ہوتے ہیں۔ چھ ارب کی آبادی بغیر نقش و نگار کے نہیں ہے۔ کسی کی ناک چپٹی ہے تو کسی کی ناک کھڑی ہوتی ہے۔

کسی کی ناک چھوٹی ہوتی ہے، کسی کی بڑی ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی کی آنکھ گول ہے، کسی کی مخروطی ہے اور کوئی غزل چشم ہے لیکن انسانی ڈائی مینشن (Dimension) دنیا کے کسی خطے پر بھی اس کو انسان دکھاتے ہیں۔ اگر آپ ایک چینی کو دیکھیں تو اس کا قد چھوٹا ہو گا۔ اس کی ناک چپٹی ہو گی۔ اس کا رنگ پیلا ہو گا۔ اس کی آنکھ گول ہو گی لیکن اسے آپ انسان ہی کہتے ہیں۔ اسی طرح ایک قد آور آدمی کو دیکھ کر آپ کہتے ہیں کہ یہ انسان ہے۔ اسی طرح آپ کبوتر کو دیکھیں گے، دنیا کے کسی بھی خطے میں آپ چلے جائیں کبوتر کالا ہو، کبوتر سفید ہو، کبوتر فاختائی رنگ کا ہو، کیسا ہی ہو اسے آپ کبوتر ہی کہتے ہیں۔ بات یہ سمجھ میں آئی کہ کائنات میں جتنی بھی نوعیں ہیں، پرندے ہوں، چرندے ہوں، حشرات الارض ہوں، ان کے اپنے مخصوص خدوخال ہیں اور اپنے مخصوص خدوخال سے ہی وہ پہچانے جاتے ہیں۔

‘‘ہم آسمان سے ماء نازل کرتے ہیں۔’’

ماء کا ترجمہ پانی ہے لیکن پانی کی صفات یا پانی کی خصوصیات پر ہم غور کریں تو ہمیں یہ بات نظر آتی ہے کہ پانی ایسی مائع شئے ہے جو بہتی ہے۔ نہ صرف بہتی ہے بلکہ جس جگہ وہ ٹھہرتی ہے اس جگہ کے ہر ہر پہلو میں سرائیت کر کے اس کو سیراب کر دیتی ہے۔ کبوتر کی ڈائی بنائیں اور اس میں پانی ڈال دیں، اس کو ڈیپ فریزر میں رکھ دیں۔ وہاں سے نکال کر اسے کھولیں تو آپ کو کیا چیز ملے گی؟ کبوتر ملے گا۔ اسی صورت سے قلفی کی ڈائی میں پانی دودھ چینی ملا کر اسے جما دیں۔ باہر نکالیں گے تو قلفی ملے گی۔ اللہ نے پانی کی خاصیت یہ رکھی ہے کہ پانی میں ماہیت قلب کی صفات ہیں۔ پانی جس ڈائی میں جاتا ہے ڈائی کی مناسبت سے خود کو تبدیل کر لیتا ہے۔ پانی نشیب میں بہتا ہے۔ پانی میں طاقت (Energy) ہے جس سے آپ بڑے بڑے ٹربائن چلا کر بجلی حاصل کر لیتے ہیں۔ پانی منہ زور ہو جائے تو بڑے بڑے شہر سیکنڈوں میں تباہ و برباد ہو جاتے ہیں یعنی پانی کا مطلب ہے توانائی، توانائی کا مطلب ہے روشنی۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے روشنیاں نازل کرتا ہے۔

اللہ نور السموات والارض

یعنی اللہ آسمان و زمین کی روشنی ہے۔ زمین میں شجر حجر پانی سب روشنی ہے۔ آسمانوں میں فرشتے ہیں، عرش و کرسی ہے، بیت المعمور ہے، سدرۃ المنتہیٰ، جنت سب روشنی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے روشنی نازل کرتا ہے اور اس روشنی کا وصف یہ ہے کہ جس ڈائی میں جاتی ہے، وہی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اور جس ڈائی سے وہ روشنی نکل آتی ہے وہ ڈائی خول رہ جاتا ہے۔ اس میں حرکت نہیں رہتی۔

روشنی اللہ کی صفات ہیں۔ ان ہی صفات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

‘‘میں نے انسان یعنی مرد اور عورت دونوں کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔’’

یعنی انسان کے اندر اللہ نے اپنی صفات منتقل کر دیں۔ ان صفات کی بنیاد انسان کا اللہ سے رابطہ ہے۔ رشتہ اور تعلق ہے۔ اگر انسان ان روشنیوں سے واقف نہیں ہے جن صفات یعنی روشنیوں کو اللہ نے بندے کے اندر منتقل کیا ہے اور جو صفات ڈائی مینشن (Dimension) بن کر انسان کو خدوخال بخش رہی ہیں تو انسان کبھی خدا رسیدہ نہیں ہو سکتا۔

ہر مذہب نے یہ اعلان کیا ہے کہ بندے کا اللہ کے ساتھ رشتہ قائم ہے۔ ہم سب انسان ہوں، حیوانات ہوں، نباتات ہوں، جنات ہوں، فرشتے ہوں، جو بھی ہوں اسی وقت تک متحرک ہیں جب تک ہمارا اللہ سے رشتہ قائم ہے۔

غور فرمایئے! روح چیونٹی میں داخل ہو گئی تو چیونٹی بن گئی۔ مثال کے طور پر اگر آپ چیونٹی بنا لیں اور اس میں جو بھی مصالحہ ڈالیں گے چیونٹی بن جائے گی۔ اسی طرح روح اونٹ میں چلی گئی اونٹ بن گیا۔ روح مور میں داخل ہو گئی مور بن گیا۔ روح انسان میں چلی گئی، انسان بن گیا۔ لیکن جب ان سب چیزوں میں سے روح نکل گئی تو کیا رہ گیا کچھ بھی نہیں۔ تو آپ کی اصل روح ہے۔ اصل انسان روح ہے۔ جب تک روح ہے آپ کو بھوک بھی لگے گی۔ جب تک روح ہے آپ کو پیاس بھی لگے گی۔ جب تک آپ کے اندر روح ہے آپ کا دل چاہے گا شادی کروں، آپ کا دل چاہے گا میرے بچے ہوں۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ مردہ جسم نے کبھی شادی کی ہو۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے؟ مردہ جسم سے کبھی ولادت ہوئی ہو؟

تو اصل چیز کیا ہے؟ اصل چیز روح ہے۔ اگر اصل چیز روح ہے تو پھر ہم کیا ہیں؟ ہم کہاں بھٹک رہے ہیں؟ ہم تو اصل جسم کو کہہ رہے ہیں۔ ہم تو اصل مادیت کو کہہ رہے ہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اگر آدمی روٹی نہیں کھائے گا تو مر جائے گا۔ لیکن یہاں صورتحال یہ ہے کہ اگر روح نہ ہو تو آدمی کو بھوک ہی نہیں لگتی۔ اس سبق کو اچھی طرح یاد کر لیجئے کہ انسان روح کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

آیئے!ہم سب آج کی اس روحانی مجلس میں یہ طے کر کے اٹھیں کہ مادی جسم کی کوئی حیثیت نہیں۔ اصل حیثیت روح کی ہے۔ جب اصل حیثیت روح کی ہے تو ہم جس طرح مادی جسم کی پوجا کر رہے ہیں یا مادی جسم کے لئے قوانین توڑ رہے ہیں۔ جس طرح ہم نے مادی جسم کے ساتھ تعلق قائم کیا ہوا ہے۔ کیا انصاف پر مبنی ہے؟ ہرگز یہ انصاف نہیں۔

کتاب لوح و قلم میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے روحانی علوم کے وارث ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

انسان کی مجبوری یہ ہے کہ سردی گرمی ہے حفاظت کے لئے وہ لباس بناتا ہے۔ گرمیوں میں بھی اسے لباس چاہئے۔ سردیوں میں بھی اسے لباس چاہئے۔ اس لئے کہ اگر وہ لباس سے آزاد ہو جائے گا تو اس میں اور حیوان میں کوئی فرق ہی نہیں رہے گا۔ انسان کو مادی اعتبار سے حیوانات سے جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ لباس ہے۔ جانوروں کو ستر پوشی کا احساس ہی نہیں ہے۔ انسان کو ستر پوشی کا احساس دلایا جاتا ہے۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے بچے کے شعور میں جو چیز منتقل کی جاتی ہے وہ ستر پوشی کا احساس ہے۔

ہن، بھائی، دوست احباب ہر آدمی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ بچہ کو ستر پوشی کی عادت ڈال دی جائے۔

میں نے جو کرتا پہن رکھا ہے۔ میں چاہوں بھی کہ ہاتھ ہلائے بغیر آستین حرکت کرے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس طرح اگر انسان کے اندر روح نہیں ہے تو انسان کا ہاتھ بھی نہیں ہلتا۔ جس طرح انسان اُون کا یا سوت کا لباس بناتا ہے اور لباس کی حرکت جسم کے تابع ہے۔ اسی طرح جسم کی حرکت روح کے تابع ہے۔ روح ہو گی تو ہاتھ ہٹے گا روح نہیں ہو گی ہاتھ نہیں ہٹے گا۔ مادی خول کو یعنی کھال کو پٹھوں کو ہڈیوں کو ہم لباس قرار دے کر روح کو سمجھیں گے تو بات آسانی سے ذہن نشین ہو جائے گی۔

سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ جس نے اپنے نفس (روح) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ کیونکہ روح اللہ کی جان ہے۔

اللہ ایک دائرہ ہے جس کے اندر تم بند ہو۔

نحن اقرب الیہ من حبل الورید

میں تمہاری جان سے بھی زیادہ تم سے قریب ہوں۔

اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں

و فی انفسکم افلا تبصرون

یعنی میں تمہارے اندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں۔

روح اندر ہی تو ہے۔ آپ کو پتھر اٹھانے کی مشقت نہیں کرنی۔ آپ کو کوئی پہاڑ نہیں توڑنا صرف اتنا کام کرنا ہے کہ اپنے اندر دیکھنے کی پریکٹس کریں۔ اپنے اندر جھانکنے کی کوشش کریں۔ جب آپ اپنے اندر جھانک لیں گے تو روح نظر آ جائے گی۔ اور جب روح نظر آ جائے گی تو روح تو اللہ کو پہلے ہی دیکھ چکی ہے۔ اللہ کی آواز پہلے ہی سن چکی ہے۔

ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں اور ان کے فیض یافتہ اولیاء اللہ نے ایک ہی بات بتائی ہے کہ مادی جسم روح کا لباس ہے۔ اصل انسان روح ہے۔ مادی جسم کی حفاظت اس لئے کرو کہ مادی جسم روح کے لئے پردہ ہے۔ اس لباس کو زندگی کا مقصد نہ بناؤ۔ یہ جسم گھٹنے بڑھنے والی چیز ہے۔ آدمی ہر روز پیدا ہوتا ہے ہر روز مرتا ہے۔ ایک دن کے بچہ پر موت وارد نہ ہو وہ دو دن کا بچہ نہیں ہو سکتا۔ ایک سال کے بچے پر فنائیت غالب نہ آئے تو وہ دو سال کا نہیں ہو سکتا۔ اگر جوانی کو بڑھاپا نہ نگل لے تو کوئی آدمی بوڑھا نہیں ہو سکتا۔ ہر چیز فنا ہو رہی ہے۔ موت زندگی کو کھا رہی ہے۔ اور زندگی موت کو کھا رہی ہے۔ یہاں کا ہر لمحہ موت و زیست کے دوش پر رقصاں ہے۔ اگر روح سے واقفیت نہیں ہو گی تو ساری زندگی گھاٹے اور خسارے کی زندگی ہے۔

سلسلہ عظیمیہ کا یہ پیغام ہے کہ نوع انسان کو یہ بتا دیا جائے کہ مادی زندگی عارضی زندگی ہے۔ مادی زندگی فکشن زندگی تراش ہے خراش ہے۔ ڈسٹربنس(Distrurbance) ہے، پریشانی ہے، اضطراب ہے، بے چینی ہے، بے قراری ہے۔ رد عمل ہے اور روحانی زندگی میں ردعمل نہیں ہے۔ بے چینی نہیں ہے۔ بے قراری نہیں ہے۔ اضطراب نہیں ہے۔ خوف نہیں ہے۔ غم نہیں ہے۔
اصل یہ ہے کہ یہاں کوئی انسان مادی وجود میں اصل انسان نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ہر مادی وجود اس لئے قائم ہے کہ اس کے اندر روح موجود ہے۔

سلسلہ عالیہ عظیمیہ کے کارکنان کی یہ کوشش ہے کہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے جس طرح اپنے شاگردوں کو ان کی روح سے واقف کرا دیا۔ اسی طرح ہم بھی اپنی بہنوں اور اپنے بھائیوں کو بلا تخصیص مذہب و ملت روح سے متعارف کرا دیں۔ آمین یا رب العالمین۔

شکریہ۔
****

Topics


Zaat Ka Irfan

خواجہ شمس الدین عظیمی

‘‘انتساب’’

اُس ذات

کے
نام
جو عرفان کے بعد

اللہ کو جانتی‘ پہچانتی

اور
دیکھتی ہے