Topics

‘‘ذات روح اور جسم’’

سوال: من (ذات) اور روح اور جسم میں کیا فرق ہے؟

اگر جسم نہ ہو تو روح کے تقاضے کیا معنی رکھتے ہیں اور اگر روح نہ ہو تو جسم کی حیثیت صفر رہ جاتی ہے۔ یہ کہنا کہ من اور روح کا رشتہ حقیقی رشتہ اور جسم کا رشتہ فانی اور غیر حقیقی رشتہ ہے کس طرح تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ہم پہلے جسم کو جانتے ہیں پھر روح سے واقف ہوتے ہیں اور روح سے جس قدر واقف ہیں اس کی حیثیت محض علمی ہے‘ مشاہداتی نہیں ہے جبکہ جسم کی حیثیت علمی بھی ہے اور مشاہداتی بھی۔

جواب: جسمانی وجود کا انحصار روح پر ہے۔ روح کا انحصار جسمانی وجود پر نہیں ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ روح کے بغیر آدمی کی حیثیت ایک لاش کے علاوہ کچھ نہیں۔ جب تک روح گوشت پوست کے وجود سے تعلق قائم رکھتی ہے۔ گوشت پوست کے وجود میں حرکت موجود رہتی ہے۔ یہ گوشت پوست کا وجود یکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے، چھوتا بھی ہے، بولتا بھی ہے، تپش اور ٹھنڈک کی لہروں کو محسوس بھی کرتا ہے لیکن اگر روح اس گوشت پوست کے وجود سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے تو یہ جسمانی وجود نہ سنتا ہے، نہ بولتا ہے، نہ محسوس کرتا ہے۔ روح کی عدم موجودگی میں کسی تیز دھار والے ہتھیار کی مدد سے جسم کا ایک ایک عضو کاٹ دیا جائے، الگ کر دیا جائے تو وجود کچھ بھی محسوس نہیں کرتا اور نہ اس کے اندر کوئی قوت مدافعت ہوتی ہے۔

زندگی کے اس عمل سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ انسان کی اصل روح ہے، گوشت پوست کا وجود نہیں ہے۔ اگر کوئی بندہ اپنے من، اپنی روح سے واقف ہے تو وہ اپنا دوست ہے اور اس کے برعکس اگر کوئی بندہ صرف اپنے گوشت پوست کے وجود کو سب کچھ سمجھتا ہے تو وہ اپنا دشمن ہے۔ جس شخص کے اندر روحانی زندگی کا کوئی تصور موجود نہ ہو من اس کا شمن ہے۔ اگر کوئی بندہ من سے کوئی کثیف کام لینا چاہتا ہے تو من اس کی خدمت کرنے سے انکار نہیں کرتا۔ وہ اسے مادیت اور ٹائم اسپیس کے جال میں جکڑ دیتا ہے اور اگر بندہ من سے روح کا سراغ چاہتا ہے تو من اسے ایک اچھے اور مخلص دوست کی طرح روحانی رشتوں سے متعارف کرا دیتا ہے اور من اسے نہ صرف بتا دیتا ہے بلکہ دکھا بھی دیتا ہے کہ روح پاک ہے۔

جسم کی ساری خوشیاں جسم کی طرح عارضی ہیں اور روح چونکہ خود مستقل خوشی ہے اس لئے روحانی لوگ خوش رہتے ہیں۔ یہ مادی دنیا اور گوشت پوست کے جسم کی دنیا دوئی کی دنیا ہے۔ ابھی ہم سکھی ہیں اور چند لمحوں بعد ہم دکھی ہوتے ہیں۔ جو بات ہمارے لئے عزت کا باعث ہے وہی بات لمحہ بھر بعد ہمارے لئے بے عزتی بن جاتی ہے۔ دوئی کی اس مادی دنیا میں کسی چیز کو سمجھنا اسی وقت ممکن ہے جب ہم سکھ، دکھ، عزت، بے عزتی، سردی اور گرمی کے تضاد کو سمجھ لیں۔ جب تک ‘‘میں’’ مصیب کر کے چکی کے دو پاٹوں میں نہیں پستا ‘‘میں’’ خوشی کو نہیں سمجھتا۔ اس تضاد سے گزرنے کے لئے مادی دنیا کی دوئی سے خود کو آزاد کرنا ہو گا۔ جب کوئی شخص مادی دنیا کی اس دوئی سے گزر کر خود شناسی کے علم کا طالب علم بن جاتا ہے تو ہر چیز کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے خواہ وہ کنکر ہو، پتھر ہو یا سونا ہو۔ اور جب تک کوئی بندہ خود شناسی کے علم سے ناواقف رہتا ہے اس کا من بے چین اور بے قرار رہتا ہے۔ من کی بے چینی اور بے قراری دور کرنے کے لئے ایک مخصوص طرز فکر کو اپنانا ضروری ہے اور یہ طرز فکر آزاد طرز فکر ہے۔

یہ آزاد طرز فکر دراصل قلندر شعور ہے۔ من سے دوستی کا رشتہ مستحکم کرنے کے لئے قلندر شعور ہمیں راستہ دکھاتا ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ یہاں ہمارا نہ کوئی دشمن ہے نہ کوئی دوست ہے۔ ہم خود ہی اپنے دوست ہیں، خود ہی اپنے دشمن ہیں۔ قلندر شعور جب حرکت میں آ جاتا ہے تو بندہ یہ دیکھتا ہے کہ ساری کائنات ایک اسٹیج ہے، ڈرامہ ہے۔ اس اسٹیج پر کوئی بات ہے، کوئی ماں ہے، کوئی بچہ ہے، کوئی دوست ہے، کوئی دشمن ہے، کوئی گناہگار ہے، کوئی پاکباز ہے۔ جب اسٹیج پر کام کرنے والے کردار اسٹیج سے اتر جاتے ہیں تو سب ایک ہو جاتے ہیں اور ان کے اوپر سے دنیا کی دوئی کا طلسم ٹوٹ جاتا ہے۔

****



Topics


Zaat Ka Irfan

خواجہ شمس الدین عظیمی

‘‘انتساب’’

اُس ذات

کے
نام
جو عرفان کے بعد

اللہ کو جانتی‘ پہچانتی

اور
دیکھتی ہے