Topics

‘‘اپنی سوچ بدلیں’’


"اپنی سوچ بدلیں"

 

سوال: ایک شخص کسی کو بہت اچھا کہتا ہے پھر دو منٹ بعد اسی شخص کو بہت برا کہتا ہے۔ روحانی طور پر اس کی تشریح فرمائیں؟
جواب: حضور قلندر بابا اولیاءؒ فرماتے ہیں کہ انسان گفتگو میں بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیتا ہے اور وہ ایک تو استعارے سے کام لیتا ہے اور انسان کی عادت ہے گفتگو میں مبالغہ بھی کرتا ہے اگر کسی آدمی کی تعریف کرنا مقصود ہے تو عرش سے نیچے تو چھوڑے گا نہیں اور جب اس سے ناراض ہو گا تو وہ فرش نہیں بلکہ تحت الثریٰ میں لے جانے کی کوشش کرے گا۔ میں آپ کو اپنا ایک واقعہ سناؤں کہ میرے ایک پیر بھائی تھائی لینڈ گئے اور وہاں سے انہوں نے حضور قلندر باباؒ کا ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھیج دیا مجھے بہت صدمہ اور تکلیف ہوئی کہ قلندر باباؒ میرے پاس سے چلے جائیں گے۔ مجھ پر بہت زیادہ رقت طاری ہو گئی۔ میں نے پیر بھائی کو برا بھلا کہا۔ حضور قلندر باباؒ چلے جائیں گے تو ہم یہاں کیا کریں گے؟ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضورﷺ کے دربار میں حاضر ہوں۔ میں نے سلام پیش کیا۔ حضورﷺ نے پوچھا۔۔۔کیسا آدمی ہے؟ میں نے کہا سب اچھے آدمی ہیں۔ حضورﷺ کہنے لگے کہ بہت اچھا آدمی خراب کیسے ہو سکتا ہے۔ میرے اوپر رعب کی کیفیت اتنی زیادہ طاری ہوئی کہ میں گھبرا کر بیدار ہو گیا اور اتنا وزن پڑا کہ میں رات بھر سو نہ سکا۔ صبح سویرے سویرے حضور قلندر باباؒ کو خواب سنایا۔ حضورؒ نے فرمایا ٹھیک ہے ایک طرف تو آپ ان کو اچھے آدمی کہتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے اچھا نہیں کیا کہ آپ کی کس بات کا یقین کیا جائے۔ ایک بات ہونی چاہئے کہ اگر آدمی اچھا ہے تو اچھا ہے اور اگر برا ہے تو پھر برا ہے۔ ایک آدمی اچھا برا کیسے ہو سکتا ہے۔

حضورﷺ نے آپ کی اصلاح فرمائی ہے۔ میں نے بہت معافی تلافی کی۔

انسان جو کچھ کہتا ہے فی الوقت وہ سمجھتا نہیں ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ ایک آدمی کو وہ بہت اچھا کہتا ہے اور دو منٹ کے بعد اسی آدمی کو وہ بہت برا کہتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا اچھا کہنا سند ہے اور نہ برا کہنا سند ہے۔ وہ منافقت کر رہا ہے حالانکہ وہ نہیں سمجھ رہا ہے کہ وہ منافقت کر رہا ہے۔

قلندر باباؒ نے فرمایا کہ انسانی گفتگو میں مبالغہ بہت ہوتا ہے اور اس کی یہ بشری کمزوری ہے اس پر کوئی آدمی عبور نہیں پا سکتا۔ اس سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کبھی کسی آدمی کو برا نہ کہو۔ اگر وہ برا ہے وہ جانے اللہ تعالیٰ جانے۔ اگر اچھائی میں مبالغہ بھی ہو گا جزا نہیں ملے گی تو سزا بھی نہیں ملے گی۔ بہتر طریقہ یہی ہے کہ کوئی آدمی برا ہو، اچھا ہو، اسے اچھا سمجھے، اگر وہ برا ہے تب بھی اسے اچھا کہو۔ ویسے یہ ہے مشکل کام۔ اس لئے کہ ایک آدمی ہے اس نے آپ کے ساتھ خلوص و محبت کے ساتھ اچھا سلوک کیا جس کی بناء پر آپ اسے اچھا سمجھنے لگے۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے آپ کو پریشان کرنا شروع کر دیا، آپ اس کے خلاف ہو گئے اسے برا بھلا کہنے لگے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے پہلے اسے اچھا کیوں کہا تھا۔ آپ اسے اچھا کہہ چکے ہیں ایک دفعہ تو اب آپ کو اسے اچھا ہی کہنا چاہئے وہ کتنا ہی برا ہو۔

کسی بھی مذہب کے بڑے کو برا نہ کہو۔ مثلاً یہ کہ پادری کو برا نہ کہو اور نہ برا جانو۔ جب تم اسے برا نہ کہو گے تو وہ تمہارے مذہب کے بڑوں کوبرا نہیں کہے گا۔ یہ وہ اخلاق حسنہ ہے جس کی تعلیم حضورﷺ نے دی ہے۔ قومیں ذاتیات سے بنتی ہیں۔ قوموں سے نوعیں بنتی ہیں۔ پہلے انفرادیت ہوتی ہے پھر انفرادیت سے قبیلے بنتے ہیں۔ قبیلوں سے قومیں بنتی ہیں یعنی بہت سارے افراد کے جمع ہو جانے کا نام قبیلہ ہے۔ بہت سارے قبیلوں کے جمع ہونے کا نام قوم ہے اور بہت ساری قوموں کے ایک جگہ جمع ہونے کا نام نوع ہے۔ انفرادیتBaseبن گئی ہے۔ قبیلے کی بھی Baseہے اگر افراد نہ ہوں قبیلہ کہاں سے آئے گا۔ ایک ذہن، ایک طرز فکر کے بہت سارے افراد کے ایک جگہ جمع ہو جانے سے خاندان بنتا ہے۔ کئی چھوٹے خاندان ایک ہی طرز فکر کے جمع ہو جائیں تو اسے قبیلہ کہتے ہیں۔ کئی قبیلے مختلف طرز فکر کے ایک جگہ جمع ہو جائیں تو اسے نوع کہتے ہیں۔ یعنی فرد ہو گا تو خاندان اور کنبہ بنے گا اور جب آپ نے اپنی طرز فکر یعنی معاشرتی طرز فکر یہ بنا لی کہ اپنی ذات سے کسی دوسری ذات کو تکلیف نہیں پہنچے گی، اپنی ذات میں رہتے ہوئے کسی بھی فرد کو برا نہیں کہیں گے تو ایک خاندان میں ایک باپ نے اپنا اصول بنا لیا۔ اب اس کی اولادیں ہیں۔ دس کی دس نہیں پانچ تو اس کی طرز فکر پر چلیں گی ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اچھائی کا ایک دروازہ کھول دیا۔ چھ نسلیں اچھی بنیں۔

جب تک انسان کی سوچ انفرادی رہتی ہے وہ محدود رہتی ہے اور جب انسان کی سوچ انفرادی نہیں رہتی اور اس کی سوچ میں اجتماعیت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ جو کچھ اپنے لئے چاہتا ہے وہ دوسروں کے لئے بھی چاہتا ہے تو اس کی محدودیت ٹوٹ جاتی ہے پھر اس کی فکر محدود دائرہ سے نکل کر لامحدود دائرے میں داخل ہو جاتی ہے۔ محدود کا مطلب یہ ہے کہ جس کی آپ حد بندی کر سکیں، لامحدود وہ چیز ہے جس کی حد بندی تو کر سکیں لیکن وہ حدود میں نہ ہو۔ مثلاً آپ کے پاس ایک زمین ہے اس میں دس کھیت ہیں۔

دوسری زمین ہے اس میں بیس کھیت ہیں۔ تیسری زمین ہے جس میں یہاں سے وہاں تک وہاں سے یہاں تک کھیت ہیں تو یہ دس کھیت محدودیت کے دائرے میں آتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں کہ دس کھیت کے بعد ہزار کھیت ہیں لیکن یہ پتہ ہے کہ بے شمار زمین ہے۔ یہ لامحدود لیکن محدود ہے اس لئے اگر حد بندی کی جا سکے تو اس کی حد بندی ہو سکتی ہے۔ یہی اجتماعیت ہے۔ اب آپ اجتماعیت کے دائرے سے نکل کر لامتناہیت میں داخل ہو گئے۔ آپ کا ذہن لامحدود ہو گیا اب آپ جو بھی سوچیں گے وہ محدود دائرے سے باہر سوچیں گے اور جب آپ لامتناہیت کے دائرے سے باہر سوچیں گے، آپ کی سوچ لامحدود ہو جائے گی۔

محدود دائرہ یہ ہے کہ ایک باپ اپنی اولادوں کے لئے سوچتا ہے کہ میری اولاد تعلیم یافتہ ہو۔ ان کے پاس پیسے ہوں، گھر ہو وغیرہ۔ وہ سوچتا ہے میرے بھائی ایسے ہوں، میرے دوستوں کو مجھ سے فائدہ پہنچے۔ یہ بہرحال محدود سوچ ہے اب اس محدود سوچ سے نکلنے کے بعد وہ یہ سوچتا ہے کہ میری قوم کو مجھ سے میری ذات سے فائدہ پہنچے۔ وہ یہ سوچتا ہے کہ میری سوچ سے پوری نوع کو بلکہ کائنات کے اندر جتنے بھی عوامل ہیں ان کو فائدہ پہنچے۔ یہ لامحدود سوچ ہے لیکن محدود سوچ ہو یا لامتناہیت کی سوچ، اس کی مشق اور وہ عمل انفرادیت ہی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر انفرادیت سے وہ عمل شروع نہیں ہو گا تو کسی طرح تکمیل نہیں ہو گی۔ انبیاء علیہم السلام میں اور عام آدمیوں میں یہ فرق ہے کہ عام آدمی انفرادی سوچ سے لامتناہیت میں داخل ہوتا ہے۔ پیغمبروں کا وصف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کی وجہ سے لامتناہیت سے انفرادیت میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑا فرق ہے اسی لئے پیغمبروں کو فضیلت ہے۔

عام آدمی انفرادی سوچ سے قدم بہ قدم چل کر یعنی انفرادی سوچ سے ایک خاندان بنے گا۔ ایک قبیلہ بنے گا۔ ایک قوم بنے گی ایک نوع بنے گی پھر نوع سے دوسری نوع سے وہ ہم رشتہ ہو گا۔ یہ انفرادی سوچ ہے لیکن اس کے برعکس پیغمبر لامتناہیت میں جہاں ساری کائنات ایک جگہ ایک کنبے کی حیثیت میں ہم رشتہ ہے وہاں سے اس کی سوچ شروع ہوتی ہے اور وہ سوچ نزول کرتی ہے۔ انفرادی سوچ صعود کرتی ہے جس وقت کوئی نبی اس دنیا میں مبعوث ہوتا ہے اس کی پیدائش کا عمل وہی عمل ہے جو عام انسانوں کا ہوتا ہے۔ اس کی نشوونما کا عمل وہی عمل ہے جو عام بچوں کا ہوتا ہے۔ اس کی غذا وہی ہے جو عوام کی غذا ہے۔ جس طرح عام آدمی سوتے ہیں، کھاتے ہیں اور دوسری ضروریات زندگی پوری کرتے ہیں اسی طرح پیغمبر بھی پوری کرتے ہیں لیکن جب وہ شعور میں داخل ہوتا ہے۔ شعور سے مراد بالغ شعور نہیں بلکہ بچپن کا شعور۔ اگر شعور کا نام ۷،۸ سال کی عمر رکھیں جس وقت وہ بچہ شعور کے اندر داخل ہو گا اس کی سوچ لامتناہیت سے شروع ہو گی۔ لامتناہیت سے شروع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنی بھی مخلوق آباد ہے چاہے وہ نبی کی اپنی نوع سے تعلق رکھتی ہو یا وہ کسی بھی نوع سے تعلق رکھتی ہو اس کی سوچ جو اپنے لئے ہے وہ ساری نوع کے لئے ہے۔

حضور قلندر باباؒ نے فرمایا ہے انفرادی سوچ بیکار ہے۔ اجتماعی سوچ انسان کا حاصل ہے اور اس اجتماعی سوچ سے ہی کوئی انسان کشش ثقل (Gravity) کو توڑ سکتا ہے۔ انفرادی سوچ سے آدمی کشش ثقل کو نہیں توڑ سکتا اور جب آپ کشش ثقل کو نہیں توڑ سکتے تو ظاہر ہے کہ زمین میں قید ہیں۔ زمین سے نکلنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اڑنے لگیں کبوتر کی طرح۔ انسان اور کبوتر میں یہ فرق ہے کہ کبوتر اڑتا ہے انسان اڑتا نہیں۔ جہاں تک اڑنے کا سوال ہے کبوتر زیادہ افضل ہے انسان سے۔ اگر انسان اڑنے لگے کبوتر کی طرح تو انسان کہاں رہا کبوتر ہو گیا۔ کبوتر اور انسان میں کس طرح آپ درجہ بندی کریں گے۔ بات یہ ہے کہ وہ زمین پر رہتا ہے کشش ثقل اس پر مسلط رہتی ہے لیکن ذہنی طور پر وہ کشش ثقل سے آزاد ہے یعنی زمین کی جو چپک ہے اور زمین کی جو گرفت ہے اس سے ایک طرف تو گرفت قائم رہتی ہے اس کے پیر اوپر نہیں اٹھ جاتے زمین کے اندر جو کچھ ہے وہ کھاتا ہے، پیتا ہے، سوتا اور جاگتا ہے لیکن اس دلچسپی پر چپک کے ساتھ ساتھ یہ زمین کی ساری زندگی اور زمین کی ساری دلچسپیاں اس کا مقصد قرار نہیں پاتیں۔ مقصداس کا وہی ہے ۔ مقصد کیا ہے کہ اس کو یہ پتہ ہے کہ ہر انسان نقطہ واحدہ ہے نفس واحدہ ہے اور نقطہ واحدہ کی الٹ پلٹ سے ساری کائنات بنتی ہے۔ وہ یہ جانتا ہے کہ میں ایک نقطہ ہوں ایسا نقطہ جو الٹ پلٹ ہو رہا ہے اس الٹ پلٹ ہونے کی وجہ سے یہ ساری کائنات وجود میں آئی۔ کبوتر یہ بات نہیں جانتا۔ اس لئے کبوتر پرواز میں انسان سے بظاہر اشرف نظر آتا ہے لیکن کبوتر چونکہ اس قانون سے واقف نہیں ہے کہ یہ انسان ہی ہے جو اس قانون سے واقف ہے۔ الٹ پلٹ کبوتر کی بھی ہو رہی ہے۔ بس اس کو یوں سمجھو کہ ایک شیشہ ہے اس میں چھ (Dimension) ہیں۔ اس شیشے کو آپ رکھ دیجئے۔ اس شیشے میں چاروں طرف جتنی چیزیں اوپر نیچے جتنی چیزیں سب نظر آئیں گی مثلاً ادھر آم ہے وہ نظر آئے گا ادھر بادام ہے وہ نظر آئے گا۔ ادھر گیٹ ہے وہ نظر آئے گا ادھر گھڑی ہے وہ نظر آئے گی اور پنکھا ہے وہ نظر آئے گا نیچے زمین ہے وہ نظر آئے گی۔ اب اس نقطے کو آپ پلٹ دیجئے اسے گھمایئے جیسے جیسے آئینہ گھومے گا اسی مناسبت سے وہ چیزیں گھومتی چلی جائیں گی یعنی آئینہ کے گھومنے سے چیزیں بدل جاتی ہیں۔ چیزیں بظاہر بدلتی ہوئی نظر نہیں آئیں گی لیکن جہاں وہ نقطہ موجود ہے اس نقطے کے گھومنے سے نقطے کی الٹ پلٹ ہونے سے ہی یہ حرکت قائم ہے۔ جتنا جتنا انسان اپنی اجتماعیت سے دور ہوتا چلا جائے گا وہ انفرادی خول میں بند ہوتا چلا جائے گا اور جتنا جتنا آدمی اپنی اصل سے واقف ہوتا چلا جائے گا وہ انفرادی خول سے آزاد ہوتا چلا جائے گا۔ یہی حضور قلندر باباؒ کی تعلیمات ہیں۔

حضور قلندر بابا اولیاءؒ کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ نوع انسانی کے ہر فرد کو یا اپنے سلسلہ عظیمیہ کے تمام افراد کو یہ سبق دیتے ہیں کہ انفرادیت سے آزاد ہو جاؤ۔ انفرادیت سے آزاد ہو کر اپنے ذہن کو اجتماعی بنا لو۔ جب آپ اجتماعی ذہن بنا لیں گے تو چونکہ آپ کا ذہن لامحدود دائرے میں داخل ہو گیا ہے اب کوئی آدمی برا کہے گا تو آپ کو برا نہیں لگے گا۔ اس لئے برا محسوس کرنا انفرادی سوچ ہے۔ آپ کی کوئی آدمی تعریف کرتا ہے، آپ خوشی سے پاگل یا دیوانے نہیں ہو جائیں گے یا تکبر نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ یہ انفرادی سوچ ہے جو خوشامد کو پسند کرتی ہے۔ اجتماعی سوچ میں خوشامد نہیں ہے۔ جب تک آپ کے اندر اخلاص پیدا نہیں ہو گا آپ اجتماعیت میں داخل نہیں ہو سکتے اور اخلاص جب پیدا ہو گیا تو کوئی برا کہے کوئی اچھا، اس کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔

میں اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں، ایک اخبار میں، میں کالم لکھا کرتا تھا۔ وہاں ایک جنرل منیجر صاحب تھے۔ تنخواہ کا مسئلہ تھا مجھے اس زمانہ میں دو سو روپے تنخواہ ملتی تھی۔ میں نے کہا میری تنخواہ بڑھاؤ یہ بہت کم تنخواہ ہے۔ قصہ مختصر ایک دفعہ ان کے یہاں ڈائریکٹران(Directors) کی میٹنگ ہو رہی تھی۔ میں اس کمرے میں چلا گیا۔ غصے میں بغیر اجازت کے اور میں نے کہا۔ میرا فیصلہ ہو جائے، اگر کالم لکھوانا ہے آپ کو لکھوائیں، میری تنخواہ بڑھائیں۔ دو سو روپے میں گزارا نہیں ہوتا۔

یہ بات غصے میں ہو گئی جو نہیں ہونی چاہئے تھی۔ اس پر جنرل منیجر نے سخت سست کہا۔ میں نے بھی انہیں سخت سست کہا۔ انہوں نے کہا میں آپ کا کالم ختم کر دوں گا۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی کرسی چھین لوں گا اور میں آپے سے باہر ہو گیا۔

مقصد یہ تھا کہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ سے جا کر عرض کروں گا وہ ایسا کر دیں گے۔ میں اخبار سے نکلا اور سیدھا حیدری (جگہ کا نام) پہنچا۔ غصے کے مارے بُرا حال تھا۔ حضور قلندر باباؒ نے کہا۔ کیا بات ہے بیٹھیں۔ پانی پلوایا۔ ابھی میں کچھ کہنے بھی نہیں پایا تھا کہ انہوں نے فرمایا کہ خواجہ صاحب بات یہ ہے کہ آپ نے جو حرکت کی ہے بہت غلط ہے۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ میں نے صفائی پیش کی کہ فلاں صاحب نے یوں کہا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو کچھ یہاں زمین پر ہو رہا ہے یا کائنات میں ہو رہا ہے۔ یہ سب اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے یا کسی بندے کے حکم سے ہو رہا ہے؟

میں نے کہا کہ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے۔ کہنے لگے اللہ نے آپ کو جنرل منیجر کی کرسی پر کیوں نہیں بٹھا دیا۔ آپ کو کالم نویس کیوں بنایا۔ آپ کون ہوتے ہیں غصہ کرنے والے۔ اگر آپ میں صلاحیت ہوتی تو آپ جنرل منیجر ہوتے۔ یہ کون سا طریقہ ہے۔ وہ بہت زیادہ ناراض ہو گئے۔ میں نے سوچا کہ بات ہی الٹی ہو گئی واقعی غلطی میری تھی۔ بات سیدھی تھی کہ جب اللہ ہی سب کچھ کر رہا ہے تو مجھے جنرل منیجر کیوں نہیں بنایا۔ مجھے اللہ نے جنرل منیجر کے ماتحت کیوں کیا۔ میں دو دن تک دفتر نہیں گیا۔ شرمندگی کی وجہ سے کہ غلطی میری تھی۔ دو دن کے بعد پھر گیا تو انہوں نے مجھے دیکھا۔ میں شرم کے مارے آنکھ نہیں اٹھا سکا کیونکہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ وہ تیزی سے میر طرف بڑھے اور ہاتھ پکڑ کر مجھے کمرے میں لے گئے اور کنڈی لگا دی۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو کچھ اس روز آپ نے کیا آپ کی غلطی تھی لیکن بعد میں، میں نے محسوس کیا کہ غلطی میری بھی تھی۔ میں ڈائریکٹران کی میٹنگ میں کہہ دیتا کہ ان کا کیس ہے نظر ثانی کرو۔ اگر وہ بڑھاتے پیسے بڑھ جاتے نہ بڑھاتے نہ بڑھتے۔ میرا کیا حرج تھا۔ بھئی میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔

میں نے عرض کیا۔ جناب! میں اپنے پیر و مرشد کے پاس گیا تھا۔ مجھے الٹی بہت ڈانٹ پڑی ہے۔ جناب میں بہت شرمندہ ہوں۔ آپ مجھے معاف کر دیں۔ گلے ملے اور بات صاف ہو گئی۔ مجھے انہوں نے ناشتہ پر بلایا، میں نے انکار کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کا دل صاف نہیں ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے میں آ جاؤں گا۔ ناشتہ کیا، ناشتہ کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کو ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا۔ سنائیں۔ جس دن یہ واقعہ ہوا رات کو مجھے احساس ہوا کہ میں نے غلطی کی ہے۔ پھر سوچا کہ میں نے غلطی نہیں کی۔ غلطی خواجہ صاحب کی ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں سو گیا۔ رات کو ڈھائی بجے کے قریب کروٹ جو لی تو ہاتھ سن ہو گیا۔ میں نے کہا اب کیا ہو گا۔ میں نے بیوی کو آواز دی کہ میرا ہاتھ فالج زدہ ہو گیا۔ بہت مالش کی۔ میں رونے لگا، بچوں کا کیا ہو گا۔ روتے روتے آپ کا خیال آیا۔ ذہن میں یہ بات آئی کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

بیوی سے کہا نفل پڑھ کر دعا استغفار کرو۔ پھر آ کر بیوی نے سکائی کی تو ہاتھ ٹھیک ہو گیا۔ بتانا یہ ہے کہ قلندر باباؒ نے مجھے ڈانٹ بھی دیا۔ مجھ سے معافی بھی منگوا دی اور جی ایم کو سزا بھی دے دی۔ میں نے جہاں کہیں بھی ملازمت کی، کبھی اپنے باس سے زور سے بات نہیں کی۔ ٹھیک ہے اگر کام نہیں ہو سکتا تو چھوڑ دیں۔ یہ بات ذہن نشین کرنے کی ہے کہ آپ کلرک کیوں ہیں؟ اور کوئی دوسرا آدمی جنرل منیجر کیوں ہے؟

حضور قلندر باباؒ فرماتے ہیں کہ فقیر کی عجیب شان ہے۔ میں نے کہا کیا شان ہے؟ فرمایا۔ لوگ بے وقوف بناتے ہیں، آخر تک بنتا رہتا ہے۔ فقیر یہ سمجھتا ہے کہ مجھے بیوقوف بنا کر یہ خوش ہو رہا ہے تو چلو اسے خوش ہونے دو، بیوقوف بنتا چلا جاتا ہے تاوقتیکہ وہ بندہ خود ہی بھاگ جائے، اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے۔ پھر فرمایا حضورﷺ نے اس بات کو اس طرح فرمایا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ دیکھتا تو وہ عام انسانوں کی طرح ہے لیکن اس کے دیکھنے میں اور عام انسانوں کے دیکھنے میں فرق ہے۔ عام انسان کی آنکھوں پر شعور کا چشمہ لگا ہوا ہے۔ محدود شعور کا چشمہ اور مومن کی آنکھ پر اللہ کے نور کا چشمہ لگا ہوا ہے لیکن وہ اللہ کے نور سے جو کچھ دیکھتا ہے اس پر اتراتا نہیں ہے اور نہ اس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ بھی فرمایا جو آدمی تمہاری تعریف کر رہا ہے وہ اس لئے تمہاری تعریف کر رہا ہے یا تو اسے تمہاری ذات سے کوئی توقع ہے کہ اس کا کوئی کام ہو جائے گا یا اس کا کوئی کام ہو گیا ہے۔ اس نے ایک توقع قائم کر لی کہ مجھے اس آدمی سے کسی بھی وقت ایک ہزار روپے مل جائیں گے چونکہ اس نے توقع قائم کی ہوئی ہے۔ اس بنیاد پر وہ اس کی خوشامد بھی کرے گا۔ اگر اس کی توقع پوری نہیں ہوتی تو وہی آدمی جو آپ کی تعریف کر رہا ہے، برائی کرے گا کسی آدمی کا اچھا سمجھنا یا برا کہنا دونوں زائد باتیں ہیں۔ آپ اس کی خدمت میں لگے رہیئے۔ وہ آپ کو اچھا کہتا رہے گا۔ آپ اس کی خدمت سے انکار کر دیجئے وہ آپ کو برا کہے گا۔ اگر آپ اس کی تعریف اور برائی سے بے نیاز ہو جائیں تو آپ کے پاس آنا جانا چھوڑ دے گا۔

حضور قلندر باباؒ فرماتے ہیں کہ کسی کی تعریف سے کیا خوش ہونا اور کسی کی برائی سے کیا دل برا کرنا۔

ایک اور واقعہ سنیئے۔ ایک صاحب سے منہ زوری ہو گئی لڑائی ہو گئی۔ میں حضور قلندر باباؒ کے پاس گیا حضور فلاں صاحب سے لڑائی ہو گئی۔ اس نے مجھے یوں کہا، یوں کہا۔ قلندر باباؒ نے کہا۔

ٹھیک ہے آپ یہاں بیٹھیں۔ اس نے آپ کو برا کہا۔ جس وقت اس نے آپ کو گالی دی اس وقت آپ کا وزن کتنا تھا۔ میں نے کہا کہ ایک من بیس سیر تھا۔ گالی دینے کے بعد وزن تلوایا تھا کیا ایک سیر کم ہو گیا۔ میں نے کہا، جی نہیں۔ انہوں نے کہا خواہ مخواہ ہی تھک رہے ہو ۔بھئی اگر وزن کم ہو گیا ہے تو پھر نوٹس لیتے ہیں کہ کیسا برا آدمی ہے، اسے پکڑ کر لاؤ کہ اس نے گالی دی ہمارے خواجہ صاحب کو کہ اس کی وجہ سے ایک سیر وزن کم ہو گیا۔

بعد میں فرمایا، غور کریں کہ جس وقت اس نے گالی دی اس وقت تو آپ کا وزن کم نہیں ہوا۔ وہ گالی دے کر بھول بھی گیا اب آپ کے اندر جتنی دیر تک انتقامی جذبہ عود کرتا رہے گا آپ کا وزن کم ہوتا رہے گا۔ وزن گالی سے نہیں گھٹا۔ وزن انتقام کے جذبے سے کم ہوا، تکلیف بھی ہوئی اور وزن بھی گھٹا اور وہ آرام سے سو رہا ہے۔ فرمایا کوئی اچھا کہے یا برا کہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ عبوری چیزیں ہیں۔ انہیں کبھی خاطر میں نہیں لانا چاہئے۔ بس اپنی طرف سے جس کے ساتھ اچھائی ہو سکے کرو اور اگر بھلائی نہ کر سکتے ہو تو کوئی حرج نہیں۔ کوئی مجبور تو نہیں کر رہا۔ آپ کوئی خدا نہیں ہیں یہ خدا کے ہاتھ کی بات ہے وہ ایسے آدمی کو جو فٹ پاتھ پر پڑا ہے۔ اسے محل دیدے، اس سے صرف نظر کر کے جو کچھ آپ کر سکتے ہیں کر دیں۔

یہ آج میں نے حضور قلندر باباؒ کی نسبت سے جو فرمان آپ کو بتائے ہیں یہ سب آپ نوٹ کر لیں اور اس پر پورا پورا عمل کریں۔ اس سے یہ ہو گا کہ انفرادی ذہن کا جو غلبہ ہے وہ ٹوٹ جائے گا۔ آدمی جس حال میں بھی ہو۔ اگر انفرادیت کے خول سے آدمی باہر نہیں نکلتا تو اسے خوشی میسر نہیں آتی۔ اس لئے کہ خوشی ایک ایسی کیفیت ہے جس کو کسی طرح بھی محدود نہیں کیا جا سکتا اور لامحدود چیز محدودیت میں داخل نہیں ہو سکتی۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ ایک گلاس میں آپ سمندر انڈیل دیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ گلاس کو آپ سمندر میں الٹ دیں۔ شعور کی انفرادیت محدود ہے۔ انفرادیت کے اندر آپ مستقل خوشی حاصل کرنا چاہیں تو یہ ناممکن ہے۔

خوشی اگر حاصل کرنی ہے تو خوشی اور غم دونوں میں سے گزرنا ہو گا۔ خوشی اور غم دونوں محدود چیزوں کا نام ہے۔ خوشی کی بھی ایک حد ہے اور غم کی بھی ایک حد ہے۔ خوشی کا بھی ایک وقت ہے، غم کا بھی ایک وقت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ خوشی کا وقت معلوم نہیں ہوتا۔ سالوں گزر جائیں نہیں معلوم ہوتا کہ ایک دن گزرا ہے اور اللہ تعالی سب کو حفظ و ایمان میں رکھے، غم اور پریشانی کا ایک دن سال بھر کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن تجزیہ کرنے کے بعد ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ خوشی بھی محدود کیفیت کا نام ہے اور غم بھی محدود کیفیت کا نام ہے۔ اگر آپ محدود کیفیت سے باہر چلے جائیں، انفرادیت سے نکل کر اجتماعی ذہن حاصل کر لیں تو خوشی اور غم چونکہ دونوں کیفیتیں محدود ہیں اس کی گرفت آپ کے اوپر سے ٹوٹ جائے گی۔ اسی بات کو اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے

الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون۔

جو اللہ کے دوست ہوتے ہیں انہیں غم ہوتا ہے اور نہ خوف۔

محدود دائرے میں رہنے والا آدمی اللہ کا دوست نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اللہ تو لامحدود ہے بلکہ لامتناہیت ہے۔ انفرادی سوچ سے نکلنے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی خوشی اور غم دونوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جس کو آپ سرور کہتے ہیں۔ اس کا نام خوشی نہیں رکھ سکتے۔

اللہ کے قانون کے مطابق یہاں ہر چیز دو رخوں پر قائم ہے جب تک آپ خوش ہیں غم اس کے ساتھ چپکا ہوا ہے۔ جب تک آپ غمگین ہیں خوشی اس کے ساتھ ساتھ چپکی ہوتی ہے۔ خوشی اور غم الٹ پلٹ ہوتے رہتے ہیں یعنی ابھی خوشی ہے تو ابھی غم ہے۔

ابھی غم ہے تو ابھی خوشی ہے۔ بالکل اسی طرح رات اور دن الٹ پلٹ ہوتے رہتے ہیں۔ابھی دن ہے ابھی رات ہے۔ ابھی رات ہے تو ابھی دن ہے۔ اسی صورت سے خوشی اور غم ایک دوسرے سے رد و بدل ہو رہے ہیں اور رد و بدل کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی کی سوچ محدود ہے۔ جب آدمی محدود سوچ سے آزاد ہو جاتا ہے تو اس کے اندر سے خوشی اور غم دونوں نکل جاتے ہیں۔ خوشی و غم نکلنے کے بعد ایک کیفیت ہوتی ہے جو اس کے اوپر طاری رہتی ہے اس کیفیت کا نام آپ کی لغت میں لفظوں میں نہیں ہے۔ اس کو سرور کہنا اس لئے ٹھیک نہیں کہ سرور جب ٹوٹتا ہے تو اس کے اوپر اذیت ناک کیفیت ہوتی ہے۔ حضور قلندر باباؒ نے مجھ سے فرمایا کہ اس کو کیفیت بھی نہیں کہہ سکتے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشی و غم دونوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔

اسے آپ لنگوٹی بندھوا دیں تو خوش ہے، اسے آپ اطلس و کمخواب کے کپڑے پہنا دیں تو ٹھیک ہے، اسے مرغی کھلا دیں توٹھیک ہے۔ اسے روکھی روٹی کھلا دیں تو تب بھی خوش ہے۔ اس لئے کہ وہ خوشی اور غم دونوں سے ماورا کیفیت میں ہے۔ ایسے بندوں کو اللہ اپنے پاس سے کھلاتا ہے ، اپنے پاس سے پہناتا ہے اور صرف وسائل اس کے تابع کر دیتا ہے۔ بندہ وسائل کے تابع نہیں رہتا۔


****

Topics


Zaat Ka Irfan

خواجہ شمس الدین عظیمی

‘‘انتساب’’

اُس ذات

کے
نام
جو عرفان کے بعد

اللہ کو جانتی‘ پہچانتی

اور
دیکھتی ہے