Topics

‘‘جنات کی حقیقت’’

سوال: بھوت پریت، آسیب اور ڈائن وغیرہ کے الفاظ عام طور سے بولے جاتے ہین، لیکن اس کی تحقیق کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیا۔ یہ سب بالآخر ہیں کیا؟

جواب: آپ نے قبرستان میں دیکھا ہو گا کہ جب قبر تختوں سے بند کر دی جاتی ہے تو میت کے ساتھ جانے والے سوگوار ہاتھوں میں مٹی لے کر قبر کے اندر ڈالتے ہیں، مذہب کا کوئی عمل لایعنی اور زائد نہیں ہو سکتا، مٹی ڈالتے وقت جو آیت تلاوت کی جاتی ہے، وہ بھی اپنے مفہوم کے اعتبار سے انتہائی توجہ طلب ہے۔

انسان تین پرت کا مجموعہ ہے، ہر پرت متعین صاف رکھتا ہے، ہم ان پرتوں میں سے ایک پرت کو ہمزاد، ہیولی، ہیلر، جسم مثالی اور نسمہ کہتے ہیں، جس وقت گوشت پوست کے آدمی کو قبر کے اندر اتارا جاتا ہے اس وقت نسمہ بھی اس کے ساتھ چپکا ہوتا ہے اور چونکہ وہ باشعور، باصلاحیت اور بااختیار ہوتا ہے، اس وجہ سے فرشتے ایک خاص انتظام کے تحت اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ یہ نسمہ راہ فرار نہ اختیار کر لے، بعض انسان (نسمہ) اتنے چالاک ہوتے ہیں کہ وہ فرشتوں کو چکمہ دے کر اعراف کی حد بندی سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس عمل سے ان کی کوئی جائے قیام متعین نہیں ہو پاتی، اور وہ آوارہ اور دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، طبیعت میں شرارت کی وجہ سے لوگوں کو پریشان اور ہراساں کر کے خوش ہوتے ہیں، ان کو ہمیشہ ایسے لوگوں کی تلاش رہتی ہے جو دماغی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں، جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس آدمی کے نسمہ میں قوت مدافعت نہ ہونے کے برابر ہے تو یہ ان کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں، دماغی عارضہ، مالیخولیا وغیرہ بھی نسمہ میں قوت مدافعت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں، لیکن ان بیماریوں کا سایہ آسیب سے کوئی تعلق نہیں۔

عرض یہ کرنا ہے کہ نوع انسانی نے نادیدہ مخلوق جنات کو بدنام کرنے کے لئے یہ ڈھونگ رچایا ہے کہ انسان کے اوپر جن سوار ہو جاتا ہے۔ انسان کے اوپر جن نہیں بلکہ خود انسان (بھٹکا ہوا نسمہ) سوار ہوتا ہے۔ نوع اجنہ کے حق میں انسان کی یہ بہت بڑی زیادتی اور ظلم ہے کہ بغیر تحقیق و تدقیق کے پوری نوع کے اوپر بہتان تراشی کی جائے، میں نوع جنہ سے واقفیت کی بنا پر یہ بات یقین کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ جنات ہم انسانوں سے زیادہ سنجیدہ، رحم دل، ہمدرد، ایثار پیشہ اور غم خوار ہوتے ہیں۔ جنات کے بارے میں اس قسم کی جتنی کہانیاں مشہور ہیں ان سب کے راوی ایسے انسان ہیں جو احساس کمتری میں مبتلا ہیں، ہوتا یہ ہے کہ جب ہم کسی مسئلہ کو حل نہیں کر سکتے تو اس کے لئے قیاس کو استعمال کر کے غلط فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔

موت کیا ہے:

عرف عام میں جسے ہم مرنا یا مردہ ہونا کہتے ہیں اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد اپنی صلاحیتوں کو کھو بیٹھتا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ:

بیداری مرنے کے بعد ہوتی ہے، موت بظاہر بھیانک لیکن باطن اس قدر خوشنما اور حسین شئے ہے کہ جس کے اوپر ہزار جانیں قربان کی جا سکتی ہیں، انسانی زندگی میں موت ہی ایسا عمل ہے جس کو حاصل زندگی قرار دیا جا سکتا ہے۔ مرنے کے بعد انسان زماں و مکاں کی قید و بند سے آزاد ہو کر تصور اور خیال کی رفتار سے سفر کرتا ہے، اس کو نہ ہوائی جہاز کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ خلائی جہاز (Space Ship) کی۔ اس کی وجہ خفیہ صلاحیتیں جو بیداری میں اس کے لئے لاینحل تھیں سب کی سب بیدار ہو جاتی ہیں۔
اگر کسی انسان میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک ٹن وزن اٹھا سکتا ہے تو وہ اس عالم آب و گل میں مہینوں اور برسوں ریاضت اور مشقت کر کے اس پر دسترس حاصل کرتا ہے اور اس کے لئے بھی ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ مستقل ہے۔ اگر کوئی انسان قوت ارادی کی مشقوں پر عبور حاصل کر لینے کے بعد کسی آدمی کو متاثر کر سکتا ہے تو اس کے لئے کم و بیش تیس سال کا کورس ہے۔ لیکن یہ پھر بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر آدمی کو متاثر ہی کر سکے۔ اگر کوئی عامل عمل و شغل کے نتیجہ میں کسی فرد کو اپنا معمول بنا لیتا ہے تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ اس کی نوع کا ہر ذی نفس اس کا معمول بن جائے گا، برخلاف اس کے مردہ جسم (گوشت پوست کا جسم نہیں) میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے کہ وہ بغیر کسی مشق اور عمل و شغل کے کسی بھی شخص یا حیوان کو متاثر کر سکتا ہے۔

ارشاد ربانی ہے:

یخرج الحي من المیت و یخرج المیت من الحي

یعنی ہم زندگی موت سے نکالتے ہیں اور موت زندگی سے نکالتے ہیں۔

آیت مقدسہ ہمیں تفکر کی دعوت دیتی ہے مفہوم بالکل صاف ہے موت اور زندگی کوئی الگ الگ شئے نہیں ہیں، موت اور زندگی نام ہے انسانی صلاحیتوں اور اوصاف کا، ایک وصف زندگی ہے اور دوسرا وصف موت۔ اس زندگی سے پہلے ہم جہاں بھی تھے اس کو موت کے علاوہ کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس زندگی کو گزار کر دوسری زندگی کو اپنانے کا نام بھی موت ہے۔ انسانی زندگی کا وصف جس کا نام موت ہے سب کا سب غیب ہے، یہ وصف انسانوں کو زمانی اور مکانی قید سے آزاد ایسی کیفیات سے روشناس کراتا ہے جہاں انسان کا ارادہ حکم کی حیثیت رکھتا ہے، انسان کی خواہش اگر یہ ہے کہ وہ سیب کھائے تو اس کے لئے صرف سیب کھانے کا ارادہ کر لینا ہی سیب کی موجودگی کا سبب بن جاتا ہے۔ موت کی دنیا میں مظاہر وسائل کے پابند نہیں ہوتے عالم قید و بند (دنیا) میں کوئی انسان اس وقت تک سیب نہیں کھا سکتا تاوقتیکہ سیب کو وجود میں لانے والے پورے وسائل برائے کار نہ آ جائیں، یہاں تخم ریزی سے پھل بننے تک کے پورے مراحل سے گزرنا ضروری ہے۔

ان طویل اور تکلیف دہ مراحل کا انتظار (اگر محسوس کیا جائے) کتنا صبر آزما اور کس قدر شدید ہے، سیب کے حصول کے لئے ہمیں اتنا وقت گزارنا لازمی ہے جو سیب کی موجودگی کے لئے متعین ہے۔ اگر ہم کسی طرح سے مرنے کے بعد کی زندگی کا سراغ لگا لیں تو ہم اس زندگی میں بھی صبر آزما اور ہمت شکن انتظار سے نجات پا سکتے ہیں، حضور سرور کائنات رسول اللہﷺ نے ایسی زندگی کے اپنانے کے لئے فرمایا ہے۔

موتو قبل انت موتو

مر جاؤ مرنے سے پہلے

یعنی اسی زندگی میں موت کے بعد والی زندگی حاصل کر کے اپنے اوپر سے قید و بند کی تہہ در تہہ اور دبیز چادر کو اتار پھینکو۔

حضور سرور کونین علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس حکم پر عمل کرنے والے ہر زمانے میں موجود رہتے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جن کے دماغ پس پردہ عمل میں آنے والے مناظر کو براہ راست دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ ان کا ذہن خیال اور تصور کے اندر بھی قدرت کے اشارے تلاش کر لیتا ہے۔ ایسے حضرات کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں کام کرتی ہیں، اتنی غیر معمولی کہ جو چیزیں سامنے نہیں ہوتیں وہ ان کو بھی سامنے لے آتی ہیں، مرنے سے پہلے مر جانے والے یعنی اس دنیا میں موت کی زندگی سے روشناس اور متعارف لوگ اتنی زبردست صلاحیت اور قوت کے مالک ہو جاتے ہیں کہ کائنات میں ہر شئے ان کے ذہن کے ساتھ حرکت کرتی ہے، فی الواقع یہ صلاحیتیں حیرت انگیز نہیں ہیں البتہ ان کا تلاش کرنا بڑا اور بہت بڑا کارنامہ ہے۔

بات جنات سے شروع ہوئی تھی، جنات آسیب اور بھوت پریت کا عقدہ اس لئے اچھنبہ ہے کہ ہم نے نے اس زندگی سے راہ فرار اختیار کر رکھا ہے جو اس قسم کے تمام معمول کو حل کرتی ہے، یہ زندگی (ہماری زندگی کا نصف حصہ) خواب ہے، جس کو ہم خواب دیکھتا کہتے ہیں، وہ ہمارے اوپر روح کی صلاحیتوں کا انکشاف کرتا ہے، سونے کی حالت میں تمام اعضاء معطل ہونے کے باوجود انسان چلتا بھی ہے، کھاتا، پیتا، غم زدہ اور خوش بھی ہوتا ہے، باتیں بھی کرتا ہے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی کام کرتی ہے۔

بیداری کا کوئی کام ایسا نہیں جو انسان خواب میں نہ کرتا ہو، یہ بات کہ خواب خیال چیز اور خیالی حرکات ہیں بالکل لا یعنی ہے، ہر انسان زندگی میں ایک دو ایسے خواب ضرور دیکھتا ہے جن کا اثر بیداری کے بعد بھی اس پر مسلط رہتا ہے۔ جاگ اٹھنے کے بعد نہانے اور غسل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے یا کوئی دہشت ناک خواب دیکھ کر اس کے دل و دماغ پر خوف اور ڈر کے پورے اثرات مرتب ہو جاتے ہیں۔ ہم خواب اور بیداری کے اعمال میں کوئی حد فاصل قائم نہیں کر سکتے، فرق صرف یہ ہے کہ خواب اور بیداری کے حرکات میں ہم ترتیب اس لئے قائم نہیں رکھ سکتے کہ خواب میں کئے ہوئے اعمال کو یا تو ہم بھول جاتے ہیں یا نظر انداز کر دیتے ہیں۔
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ہم جو کچھ بیداری میں کرتے ہیں من و عن وہی سب خواب میں بھی کرتے ہیں، تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ خواب ہماری زندگی کا نصف حصہ ہے۔ بیداری میں ہم روح کی صلاحیتوں کو پابند سلاسل بنا کر ان صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔
خواب میں روح کی صلاحیتیں زمان اور مکان کی قیود سے آزاد ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ اطلاع فراہم کرتی ہیں کہ ہم ہر وہ عمل کر سکتے ہیں جو بیداری کے حواس میں نہیں کر سکتے۔ مرنے کے بعد انسان خواب کے حواس میں زندگی گزارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے ایسی غیر معمولی حرکات سرزد ہوتی ہیں جس کو ہم ناسمجھی کی بنا پر آسیب، سایہ اور جن وغیرہ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔

****

Topics


Zaat Ka Irfan

خواجہ شمس الدین عظیمی

‘‘انتساب’’

اُس ذات

کے
نام
جو عرفان کے بعد

اللہ کو جانتی‘ پہچانتی

اور
دیکھتی ہے