Topics

رسول اللہﷺ کی طرز فکر

الحمدللہ رب العالمین

اللہ سے مراد بے شمار مخلوقات کو پیدا کرنے والا خالق اور رب سے مراد مخلوق کو پیدا کر کے اس کی زندگی کو قائم رکھنے کیلئے ضروریات کی کفالت کرنے والی ہستی ہے یعنی مخلوقات کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اور مخلوق اپنی زندگی میں جو وسائل استعمال کرتی ہے ان کا انتظام کرنے والی ذات۔ وضاحت یہ ہوئی کہ رب وہ ذات ہے جو مخلوق کو پیدا کرتی ہے پھر اسے زندہ رکھتی ہے۔ بچپن اور جوانی سے بڑھاپے تک وسائل فراہم کرتی ہے۔ مخلوقات کی نسل قائم رکھتی ہے اور مخلوق کو ایک دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہونے کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان ضروریات اور وسائل کی تکمیل کرتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ

اللہ تعالیٰ رب العالمین ہیں!

رب العالم نہیں۔

ہماری دنیا ایک عالم ہے اس کو عالم ناسوت کہتے ہیں۔

عالمین کی ترتیب اس طرح ہے

o عالم ارواح

o عالم امر

o عالم مثال

o عالم ناسوت

عالم ناسوت یا عالم دنیا سے منتقل ہونے کے بعد

o عالم اعراف

o عالم نفخ صور

o عالم حشر نشر یا عالم حساب

o عالم جنت یا عالم دوزخ

o عالم ارواح

o ابد اور ابدالآباد

o اللہ تعالیٰ بے شمار عالمین کا رب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہماری دنیا کی طرح بے شمار دنیائیں تخلیق کی ہیں۔

یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ

اللہ تعالیٰ رب العالمین ہیں

رب المسلمین نہیں!

اللہ تعالیٰ مسلمین، مشرکین، کافرین سب کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات اکبر اور قادر مطلق ہے جس نے صرف ایک دنیا نہیں بلکہ اربوں کھربوں دنیائیں تخلیق کیں اور ان کو زندہ رکھنے کیلئے وسائل فراہم کئے ہیں۔ حیات و ممات کا ایک سلسلہ جو اربوں سال سے قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا۔ ایک فرد اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو تقریباً چالیس افراد پیدا ہوتے ہیں۔ ایک گندم کا دانہ قبر میں دفن ہوتا ہے اور اس کی ذریت کے سترہ سو دانے زمین پر موجود ہوتے ہیں۔

یہ خالق کائنات کی صفت ہے کہ وہ مخلوق کو پیدا کر کے اس کی کفالت کرتا ہے اور مخلوق کی کفالت اس وقت ممکن ہے جب مخلوق کی زندگی میں درکار ہر شئے موجود ہو۔ کھربوں مخلوقات کو زندہ رکھنے کیلئے وسائل فراہم کرنا اللہ کی عجیب صناعی ہے۔

تقریباً گیارہ ہزار مخلوقات ہیں

o جمادات:

پہاڑ، پتھر، معدنیات، لوہا، تانبہ، کوئلہ، تیل، سونا، چاندی وغیرہ

o نباتات:

درخت، پتے، پودے، پھول، پھل وغیرہ

o حیوانات:

آدمی، چرندے، پرندے، درندے

o سمندر:

رنگ برنگی چھوٹی بڑی مچھلیاں

سمندری مخلوقات

اور پودے

o فضاء:

گیسز، وائرس، بیکٹیریا۔۔۔۔۔۔

o آسمانوں:

جنات، فرشتے،

o فرشتوں میں:

ملائکہ ارضی،

ملائکہ سماوی

گروہ جبرائیل، گروہ میکائیل، گروہ اسرافیل، گروہ عزرائیل،

حاملان عرش سبھی شامل ہیں۔ 

ہم ان تمام انواع سے قطع نظر صرف ایک مخلوق انسان کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کا رب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس طرح پیدا کیا اور پیدائش کے بعد اس کی زندگی قائم رکھنے کیلئے کس طرح وسائل بنائے۔

اس دنیا میں جتنے بھی افراد موجود ہیں، خواتین، مرد، بچے، بوڑھے ان سب کی پیدائش اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کے والدین نہ ہوں سو ہمارے والدین کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ہم نے خود نہیں بنایا اور اگر ماں یا باپ نہ ہوتے تو بچے پیدا نہیں ہوتے۔ یعنی انسان کی پیدائش کے لئے پہلا وسیلہ اس کے والدین ہیں اور ان کی تخلیق میں نہ تو والدین کا کوئی ذاتی عمل دخل ہے اور نہ ہی اولاد کا کوئی عمل دخل ہے۔ انسان کو یہ پتہ نہیں کہ اسے کہاں پیدا ہونا ہے، سیّد کے گھر، امیر کے گھر یا غریب کے گھر۔۔۔۔۔۔یہ بھی علم نہیں ہے کہ وہ کیوں پیدا ہوا ہے؟ پیدا ہونے سے پہلے کہاں تھا؟ چند روز اس دنیا میں دکھ سکھ دیکھ کر کہاں چلا جاتا ہے؟ انسان جائیداد بناتا ہے، سونا چاندی جمع کرتا ہے، ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن کوئی چیز اس کی ملکیت نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت ایک چیز بھی اپنے ساتھ نہیں لے جاتا۔۔۔۔۔۔جب پیدا ہوتا ہے دوسرے لوگ کپڑے پہناتے ہیں اور جب مرتا ہے تو دوسرے لوگ کفن ڈالتے ہیں۔

زمین اللہ کی ملکیت ہے کوئی ایک بندہ کسی طرح بھی زمین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ زمین پر کچھ عرصہ قیام کے بعد جب کسی فرد کا زمین سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے تو وہ زمین کے اندر دفن کر دیا جاتا ہے اور مٹی انسانی جسم کے ایک ایک عضو کو کھا جاتی ہے۔

انسان زمین پر محلات تعمیر کرتا ہے۔ یہ تعمیرات بھی اپنی عمر پوری کر کے زمین میں دفن ہو جاتی ہیں اور ان کا نام و نشان بھی نہیں رہتا۔ محلات کھنڈر ہو جاتے ہیں اور وقت کے ساتھ کھنڈر بھی ختم ہو جاتے ہیں۔ زمین اللہ کی ملکیت ہے انسان اللہ کی ملکیت کو اپنا حق سمجھ کر استعمال کرتا ہے۔ ملکیت کا یہ دعویٰ جھوٹ اور خود کو فریب دینا ہے۔ کسی کی مِلک کو اپنی ملکیت بتانا ظلم اور نا انصافی ہے۔ 

کسی کے مکان پر قبضہ کر لیا جائے یا دوسرے کی ملکیت زمین پر اپنا تسلط قائم کیا جائے یہ عمل ظلم ہے اور ظلم اچھا عمل نہیں ہے۔ یہی صورتحال زمین کی ہے۔ زمین کا واحد مالک اللہ ہے اور اللہ نے یہ زمین اپنی مخلوق کو استعمال کے لئے مفت فراہم کی ہے۔

انسان ایسی کرایہ دار مخلوق ہے جو کرایہ بھی نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔اس زمین کے اندر جو معدنیات ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ انسان معدنیات سے خوب خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور وسائل بنانے والے کا زبانی کلامی بھی شکر ادا نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ ۹ ماہ تک ماں کے پیٹ میں بچے کی پرورش کرتے ہیں۔ نشوونما اور خورد و نوش کیلئے جتنی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ماں کے پیٹ میں بچے کو فراہم کرتے ہیں۔ جس صفت رحیمی سے اس خورد و نوش کا انتظام ہوا روحانیت میں اس صفت کو رب کہتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا علم بیان فرماتے ہیں۔

o وہ کیسی پاک ذات ہے

جو ماں کے پیٹ میں تصویر کشی کر کے خوبصورت شکل و صورت بناتی ہے 

اور اس دنیا میں لے آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ماں کے پیٹ میں بچے کو وہ تمام غذائیں فراہم کرتے ہیں جنہیں استعمال کر کے بچے کے اندر توانائی پیدا ہوئی اس کی شکل و صورت بنی اور پھر ایک جیتی جاگتی تصویر اس دنیا میں آ گئی۔

جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ماں کے سینے میں دودھ غذا کی صورت میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ بچہ ذرا بڑا ہوتا ہے تو اس کے لئے گندم پہلے سے موجود ہے، روٹی کے ساتھ گوشت موجود ہے تا کہ وہ کھا سکے۔ تعلیمی سلسلہ شروع ہوتا ہے تو سکول اور اساتذہ پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔ یعنی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان جو کچھ بھی استعمال کرتا ہے وہ پہلے سے موجود ہوتا ہے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو انسان نے پیدا ہونیکے بعد اپنے لئے خود پیدا کی ہو۔ اگر انسان نے کوئی چیز بنائی بھی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ وسائل سے بنائی ہے۔

انسان کو زندگی اور وسائل اللہ تعالیٰ نے عطا کئے ہیں لیکن ہر آدمی یہ کہتا ہے کہ میں روٹی کھاتا ہوں۔ میں کپڑے پہنتا ہوں۔ میں تعلیم حاصل کرتا ہوں۔ یہ میری جائیداد ہے۔ یہ میری بیوی ہے۔ یہ میرا شوہر ہے۔ یہ میرے بچے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کی بیوی کو پیدا ہی نہ کرتا تو وہ آپ کی بیوی کیسے بنتی؟ اسی طرح بیوی کہتی ہے یہ میرا شوہر ہے اگر اللہ تعالیٰ شوہر کو پیدا ہی نہ کرتا تو شوہر کیسے بنتا؟

آدمی روٹی کھاتا ہے اگر اللہ تعالیٰ گیہوں پیدا نہ کرتا، گندم پیسنے کیلئے چکی نہ ہوتی، آٹا گوندھنے کے لئے پانی نہ ہوتا۔ روٹی پکانے کیلئے تواّ نہ ہوتا، آگ نہ ہوتی، معدہ نہ ہوتا! تو آدمی روٹی کیسے کھا سکتا تھا۔

غرض انسان کی زندگی اور نظام پر جتنا بھی غور و فکر کیا جائے یہی حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ یہاں کوئی چیز ذاتی حیثیت نہیں رکھتی، سورج، چاند، ستارے، زمین، پانی، زمین کے طبقات، بارش، ندی، چشمے، دریا کون سی ایسی چیز ہے جس پر آدمی کی دسترس ہو۔ 

سائنسی دریافت نے بلاشبہ بڑی ترقی کی ہے لیکن سائنس کی کوئی ایک دریافت ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے پیداکردہ وسائل استعمال کئے بغیر ایجاد کی گئی ہو۔سائنس کے ذریعے بجلی دریافت ہوئی لیکن اگر بجلی پیدا کرنے کیلئے پانی نہ ہو، ٹربائین و میگنیٹ نہ ہو، بجلی کے تار کیلئے دھات نہ ہو، قمقمے یا پنکھےکے لیے وسائل نہ ہوں تو بجلی زیر بحث نہیں آتی یہ سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ وسائل ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی ضروریات مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے مہیا کر دی ہیں اور کسی سے ان کی قیمت طلب نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔یہی رب کی تعریف ہے۔

رب کا مطلب ہے

مخلوقات کی حیات کے لئے ضروری وسائل پیدا کر کے مخلوق کو فراہم کرنا۔

ہم۔۔۔۔۔۔آپ جو وسائل استعمال کرتے ہیں وہ میری اور آپ کی ملکیت نہیں ہیں۔

کیا بیوی یا شوہر ایک دوسرے کی ملکیت ہیں؟

اگر ایسا ہے تو وہ ایک دوسرے کو مرنے سے بچا کیوں نہیں لیتے؟

اگر اللہ تعالیٰ بیویکو پیدا ہی نہ کرے یا شوہر پیدا نہ ہو یا اولاد پیدا نہ ہو تو شادی بیاہ اور نسل کشی کا سلسلہ ختم ہو جائے۔

ملکیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کسی چیز کے مالک ہیں اور کوئی آپ کی اس ملکیت میں نہ تو تصرف کر سکے اور نہ وہ چیز آپ سے چھین سکے۔

غیر جانبدار ہو کر غور کیا جائے تو یہاں کوئی چیز ہماری ملکیت نہیں ہے۔ جسم آپ کی ملکیت نہیں، حیات آپ کی ملکیت نہیں۔۔۔۔۔۔

o یہ چوپائے کس کی ملکیت ہیں؟

خون اور غلاظت کے درمیان سے سفید شفاف دودھ کون علیحدہ کرتا ہے؟

یہ زمین جس پر آپ گھر بناتے ہیں کس کی ملکیت ہے؟

چاند، سورج، آسمان، پانی آپ کی ملکیت ہیں؟

سوال یہ ہے کہ کیا میں اور آپ خود اپنی ملکیت ہیں؟

اللہ نے ہی یہ سب چیزیں بن مانگے عطا کیں ہیں۔ ماں باپ مانگے بغیر آپ کو ملے۔ اولاد اللہ نے دی۔ جب اللہ چاہتا ہے لے لیتا ہے۔ 

سانس کی آمد و رفت کس کی ملکیت ہے۔ کیا آپ کا سانس پر کچھ اختیار ہے؟ ذرا تین یا پانچ منٹ تک سانس روک کر دکھایئے۔ جسم میں موجود اعضاء، دل، دماغ، گردے، پھیپھڑے کس نے بنائے اور ان کے افعال و کارکردگی پر کس کا اختیار ہے؟

o مسلمان کے اندر اگر یہ یقین مستحکم ہو جائے کہ اس دنیا، اس سے پہلے اور اس کے بعد کی زندگی بلکہ پوری کائنات میں کوئی ایک چیز بھی میری ملکیت نہیں بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیزیں استعمال کر رہے ہیں تو ہر مسلمان رسول اللہﷺ کا جیتا جاگتا کردار بن جائے گا۔

ہم قرآن پاک کی آیات پڑھتے ہیں لیکن غور نہیں کرتے!

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

o وہ لوگ جنہیں الٰہی علوم یا روحانی علوم حاصل ہو جاتے ہیں، 

وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس بات کا مشاہدہ کر لیا ہے

کہ یہاں ہر چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

یعنی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے اور ہمیں عارضی طور پر استعمال کے لئے دی گئی ہے۔ اگر انسان کے ذہن میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ معصوم جیتے جاگتے کھلونے ہمیں اس لئے عطا کئے ہیں کہ ہم ان سے دل بہلائیں اور ان کی تعلیم و تربیت کر کے انہیں ایک اچھا انسان بنائیں تو اولاد کی ساری پرورش اللہ کے لئے ہو جائے گئی اور اس کا اجر ملے گا۔ 

بصورت دیگر اولاد اور مال کو اللہ نے فتنہ قرار دیا ہے۔

میں نے حضّور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا!

اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں

کہ مال اور اولاد فتنہ ہیں پھر شادی اور اولاد کی کیا ضرورت ہے؟

مال و اسباب، کاروبار اور گھر بار بنانے کی کیا ضرورت ہے؟

آپؒ نے فرمایا!

o اگر مال اور اولاد کے بارے میں آپ کا یقین بن جائے کہ یہ اللہ کا دیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔تو یہ بہت بڑی نیکی ہے۔

جب ہم اولاد کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہیں تو اولاد ہمارے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ بیوی شوہر کو اپنی ملکیت تصور کرتی ہے اس لئے شوہر بیوی کیلئے فتنہ بن جاتا ہے۔ شوہر بیوی کو اپنی ملکیت تصور کرتا ہے تو بیوی اس کے لئے فتنہ بن جاتی ہے۔ عالمین میں کوئی چیز آپ کی ملکیت نہیں ہے۔ اگر آپ کی کوئی ملکیت ہے تو وہ آپ سے چھن کیوں جاتی ہے؟

o کوئی بندہ مرنا نہیں چاہتا وہ مر کیوں جاتا ہے؟

امیر غریب کیوں ہو جاتا ہے، غریب امیر کیوں ہو جاتا ہے؟

بادشاہتیں ختم کیوں ہو جاتی ہیں؟

رب العالمین نے جو کچھ وسائل آپ کو مہیا کئے ہیں وہ عارضی طور پر استعمال کے لئے دیئے گئے ہیں۔ یہی بات رسول اللہﷺ نے بھی فرمائی ہےکہ

o یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے

o یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے

مسافر خانہ کا مطلب ہے جہاں عارضی طور پر قیام کیا جاتا ہے۔

فساد کی اصل جڑ ’ملکیت‘ ہے۔ ہماری کوئی ملکیت نہیں۔۔۔۔۔۔لیکن ہم ہر چیز کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔

o میرا گھر،

o میرا مال،

o میری دولت

o میرا پیسہ،

o میرا ٹکہ،

یہ سب فساد ہے۔

بربادی کا سب سے بڑا سبب ملکیت کا تصور ہے۔ یہ نہیں سمجھئے کہ ملکیت کا تصور ختم ہونے کے بعد آپ کے حقوق ختم ہو جاتے ہیں نہیں ایسا نہیں ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچے کو سینے پر لٹاتا ہے تو وہ اپنے اندربچے کی لہریں منتقل ہوتے ہوئے محسوس کرتا ہے اور ایک لطیف سا کرنٹ اسے مخمور کر دیتا ہے۔ ملکیت کا تصور ہو تب بھی وہ اپنے اندر کرنٹ محسوس کرتا ہے اور اگر وہ اپنے بچے کو اپنے سینے پر اللہ کی ملکیت سمجھتے ہوئے لٹاتا ہے تب بھی ایک محبت بھرا کرنٹ محسوس کرتا ہے اور اس کا ایمان یہ ہو جاتا ہے کہ یہ اولاد اللہ نے مجھے خوش رہنے کیلئے عطا کی ہے۔ خوشی تب بھی محسوس ہوتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ ماں باپ اللہ کی ملکیت کے تصور سے بچے کو پیار کریں گے تو سرور نہیں ملے گا بلکہ زیادہ لذت و خوشی محسوس ہو گی اس لئے کہ اس خیال میں اللہ شریک ہو گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ کو بڑھاپے میں اولاد عطا کی۔ بڑھاپے میں ہونے والی اولاد سے باپ کی محبت کا کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ دیکھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر بیٹے کی محبت غالب آگئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسے ذبح کر دو۔ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اندر بیٹے کی ملکیت کا تصور ہوتا تو وہ ذبح نہ کرتے لیکن انہوں نے بیٹے کو ذبح کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر نوازش کی کہ بچے کی جگہ دنبہ قربان ہو گیا اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے یہ ثابت کر دیا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو انہوں نے اپنی ملکیت نہیں سمجھا۔

جتنے بھی پیغمبران علیہم الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے انہوں نے یہی فرمایاہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔

o اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے

جس کو چاہے ملک دے۔ جس سے چاہے ملک لے لے

جس کو چاہے عزت دے جسے چاہے ذلت دے

اس کا ہر کام خیر ہے

۔۔۔۔۔۔وہ قادرالمطلق ہے

ہر شئے پر جس طرح چاہے تصرف کرے۔

رسول اللہﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں کہ حضّور پاکﷺ نے کیسی کیسی تکالیف برداشت کیں۔ سارے رشتہ دار اور اہل مکہ مخالف ہو گئے، آپﷺ کا اور اہل خانہ کا بائیکاٹ کیا گیا۔ حضرت بی بی خدیجہؓ بیمار ہوئیں۔۔۔۔۔۔تو دوا کے بغیر ان کا انتقال ہوا۔ ظالموں نے دو ا لانے کی اجازت بھی نہیں دی۔ لیکن آپﷺ نے اللہ تعالیٰ سے کوئی شکایت نہیں کی۔

o اگر امت مسلمہ میں پیغمبران کرام اور رسول اللہﷺ کی یہ طرز فکر متحرک ہو جائے کہ دنیا میں کوئی چیز ہماری مِلک نہیں بلکہ ہمیں ہر چیز یہاں چھوڑ کر چلے جانا ہے تو وہ صراط مستقیم پر گامزن ہو جائے گی۔

ایک شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ساری ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے تو ہمیں کارخانے بنانے، فیکٹریاں چلانے اور کاروبار کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

اس کا جواب یہ ہے، اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کی مخلوق متحرک رہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق ایک دوسرے کے کام آئے۔ اگر کارخانے نہیں بنیں گے تو لوگوں کو روزگار نہیں ملے گا۔ بہترین کوالٹی کا کپڑا فخر و مباہت کیلئے نہ پہنیں بلکہ اس لئے پہنیں کہ اگر ہم اچھا اور عمدہ کپڑا نہیں پہنیں گے تو فیکٹریاں بند ہو جائیں گی، مزدور بے روزگار ہو جائیں گے اور کتنے ہی خاندان بھوکے مر جائیں گے۔۔۔۔۔۔

جب آپ کا لباس فخر و مباہت کی بجائے اللہ تعالیٰ کیلئے ہو گا اور آپ یہ نیت کریں گے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو روزی ملے گی تو یہ عمل اللہ تعالیٰ کیلئے ہو گیا۔ آپ گھر بنائیں بلکہ اچھا گھر بنائیں تو اس عمل میں سیمنٹ، لوہا، اینٹ، ریت اور بجری استعمال ہوتی ہے۔ 

راج، مزدور، ترکھان کام کرتے ہیں، لکڑی کا کام ہوتا ہے، ٹائلیں لگتی ہیں، بجلی کے کام سے مختلف شعبوں میں لاکھوں آدمی وابستہ ہیں، انہیں روزگار ملتا ہے اگر کاروبار حیات اس نیت سے کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس سے فائدہ پہنچتاہے تو یہ سب اللہ کے لئے ہے۔

میرے دوستو!

ساری بات طرز فکر کی ہے

اگر طرز فکر میں انبیاء کی طرز فکر شامل نہیں ہے

تو پھر ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

شادی آپ کو تسکین فراہم کرتی ہے انسان اگر یہ سوچ لے کہ یہ اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے جس سے دو بندے ایک دوسرے کے جسم و جان بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔یقین کریں اس طرز عمل سے ساری شادیاں کامیاب ہو جائیں گی اور سعادت مند اولاد پیدا ہو گی۔ بیوی اگر یہ بات سوچ لے کہ میرا شوہر اللہ کی دی ہوئی نعمت ہے جیسا بھی ہے کالا ہے، گورا ہے، خوبصورت ہے، کم صورت ہے تو گھر جنت نہ بن جائے۔ یہی بات شوہر بیوی کے لئے سوچ لے کہ بیوی کو اللہ نے بنا سنوار کر مجھے نعمت عطا کی ہے تو پورا معاشرہ پیار و محبت کے روپ میں ڈھل جائے اور ہر طرف سکون ہی سکون ہو جائیگا۔

یاد رکھیئے!

جہاں ملکیت کا تصور ہوتا ہے وہاں اقتدار زیر بحث آتا ہے۔ اقتدار میں ہمیشہ آدمی اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ بیوی شوہر پر اقتدار جما کر اپنی بات منوانا چاہتی ہے، شوہر بیوی سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے، بچے والدین سے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں اور والدین بچوں سے اپنی بات منوانا چاہتے ہیں، اس طرح گھر اور پورے ماحول میں اقتدار کی جنگ چھڑ جاتی ہے اور معاشرہ ابتر ہو جاتا ہے۔

اگر اقتدار کی خواہش سے قطع نظر اللہ تعالیٰ کی ملکیت کا تصور اپنا لیا جائے تو ہر بات، ہر معاملہ اور ہر انسان سنور جائے گا۔ ہر انسان کے اندر انبیاء کرام کی طرز فکر منتقل ہو جائے گی۔ ہر نعمت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اسے مخلوق کے فائدہ کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔


Allah Ke Mehboob

خواجہ شمس الدین عظیمی

کتاب اللہ کے محبوبﷺمیں قرآن پاک کے تخلیقی قوانین، سیدنا حضّور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مقام پر اور سیرت طیبہ کے روحانی پہلو پر مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہ عالی، خانوادہ سلسلہ عالیہ عظیمیہ کے ارشادات کو جمع کیا گیا ہے۔ ان ارشادات پر تفکر سے انسان کے اندر موجود غیب کے عالمین اس طرح روشن ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنے اصل مقام اور امانت الٰہی سے آگاہ ہو جاتا ہے۔

قرآن پاک کی آیات پر غور و فکر اور مشاہدہ سے انسانی ذہن اور علم کو وسعت ملتی ہے اور وہ زماں و مکاں کی پابندی سے آزاد ہوتا جاتا ہے۔ صدیوں پر محیط عالمین کا سفر، چند لمحات میں مکمل ہو جاتا ہے۔ اس شعوری ارتقاء سے انسان کی سکت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی ذات پر محیط، اپنے من میں موجود، اپنی رگ جاں سے قریب ہستی۔۔۔۔۔۔اللہ کی صفات کا مشاہدہ کر لیتا ہے۔

مرشد کریم کے ذریعے سالک کا تعلق سیدنا حضّور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے قائم ہو جاتا ہے اور بے شک سیدنا حضّور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت ذات اکبر، اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے قائم ہے۔