Topics
خدا
وہ ذات اور رب وہ ہستی ہے جو سب کے دل میں موجود ہے ۔ جس طر ح دل کی حر کت کے بغیر
زندگی کا تصور نہیں کیا جا سکتا اس طر ح خدا کے بغیر دل کی حر کت کا تصو ر بے معنی
ہے ۔خدا سب کا دو ست ہے اور ایسا دو ست جو با ر با ر ہر ہر جنم میں ، پنگوڑے میں ،
لڑکپن میں ، جوانی میں، بڑھا پے میں ہمارے ساتھ رہتا ہے ۔باپ کے تخلیقی سیال مادہ
کو جب ماں قبول کر تی ہے تو یہ دو قسم کے لعاب آپس میں تحلیل ہو جاتے ہیں جو جسم
وجود میں آتا ہے اور ماں کے جسم کے مطا بق وہ جسم ڈھلتا اور بڑھتا رہتا ہے ۔ اور
ہڈیوں کے پنجرے پرگو شت کی دبیز تہوں کو جب اعصاب کی پٹیوں سے کس کر کھال کے
پلاسٹر سے مزین کرد یا جا تا ہے تو جسم کی تکمیل ہو جاتی ہے۔
اس
مکمل شدہ جسم کو گر می کے تھپیڑوں اور خنک لہروں سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک بند کو
ٹھری میں تحفظ فراہم کیا جا تا ہے ۔یہاں تک کہ اس بند کو ٹھری سے باہر آنے
سے پہلے اس وجود کی نشو ونما کے لئے ماں کے سینے میں غذا کا ذخیرہ کر دیا جا تا ہے
۔یہ نسلی سلسلہ کتے ، بلی ، شیر ، بکر ی ، اونٹ ، گا ئے ، گھوڑے ،ہا تھی دیگر چو
پا ئے اور انسان میں ایک مسلسل متواتر اور مشترک عمل ہے ۔بیشک سیال مادہ کی منتقلی
میں تخلیق کا راز چھپا ہوا ہے ۔
دکھ
سکھ کی زندگی گزارنے کے بعد جسم پر موت وارد ہو جا تی ہے اور پھر یہی جسم ماں با پ
کے جسم میں جلوہ گر ہو کر کسی باپ کی پشت اور کسی ماں کے بطن میں داخل ہو جا تا ہے
اس طر ح نئی نئی صورتیں علم وجود میں آتی رہتیں ہیں ۔
نوعوں
کے نسلی سلسلہ پر غور کیا جا ئے تو یہ راز منکشف ہو تا ہے کہ با وجود مشترک قدروں
کے ہر نوع کی اپنی ایک انفرادیت ہے ۔ سننا ، دیکھنا ، محسوس کر نا ، بھوک پیاس کا
تقاضا سب میں مشترک ہے مگر پھر بھی ہر نوع اور ہر نوع کا ہر فرد ایک دو سرے سے
مختلف ہے۔
ہمارا
دوست خدا ، ہمیں اس تسلسل کے لئے سنبھا لے ہوئے ہے کہ ہمارا نسلی تشخص بر قرار
رہتا ہے۔ پیدا ئش کا عمل ایک ہو نے کے با وجود کائنات کے ہر وجود کی اپنی ایک الگ
شنا خت ہے ۔جب ہماری ’’ زمین
ہماری ماں ‘‘ ہمارے دکھ سکھ ختم کر نے کے لئے ہمیں اپنی آغوش میں اس طر ح سمیٹ
لیتی ہے کہ مادی وجود معدوم ہو جاتا ہے تو خدا ہمارا دو ست ہمیں دو سری دنیا میں
نسلی سلسلہ کے خلا ف پیدا کر دیتا ہے مر نے جینے کا یہ سلسلہ ازل سے قائم ہے ابد
تک قائم رہے گا ۔
میں
خواجہ شمس الدین عظیمی ازل میں ’’کن ‘‘ کا ظہور بنا ۔لوح محفوظ کے کیمرے نے میری
فلم بنا ئی اور یہ فلم برزخ کی اسکر ین پر ڈسپلے ہو ئی ۔برزخ کے پرو جیکٹر نے
خواجہ شمس الدین کی اس فلم کو ڈسپلے کیا تو نسلی سلسلے کی مشین نے مقررہ پرو سیس
کے تحت زمین کی اسکر ین پر دکھا دیا ۔زمینی کیمرہ خواجہ شمس الدین عظیمی کی ایک
حرکت اور ایک ایک عمل کی فلم بنا تا رہا ۔ اور یہ فلم مکمل ہو ئی تو عالم اعراف کی
اسکر ین پر منتقل ہو گئی ۔ عالم اعراف سے حشر و نشر اور حشر و نشر سے جنت و دو زخ
تک یہ فلم نظر آتی رہی اس مر بوط نظام کو چلا نے والا تحفظ دینے والا کو ن ہے کون
ہے ؟
ہمارا
دوست خدا ہے !
ہمیں
پو ری سنجیدگی کے ساتھ متا نت اور بر د باری کے ساتھ یہ سو چنا ہوگا مر نے جینے
اور جسم کی نئی تبدیلیوں کے پیچھے کیا عوامل کا م کر رہے ہیں ۔کیوں یہ
سلسلہ قائم ہے ہم کیوں قائم بالذات نہیں ہو جا تے ۔ کیا ہم بار بار تبدیلی جسم کے
سلسلے کو ختم کر سکتے ہیں اور کیا ہم بقائے دوام پا سکتے ہیں ۔اور کیا ہر آن ہر
لمحہ جسمانی ، ذہنی ، شعوری تبدیلی سے نجات ممکن ہے ؟ ہمیں یہ تفکر کر نا ہو گا کہ
اختلاف لیل و نہار کے ساتھ ہم کیوں تبدیل ہو تے رہتے ہیں ۔
یہ
جاننے کے لئے ہمیں اپنے دوست خدا کو پہچاننا ہو گا اور جب ہم اپنے سچے پاک
اور ایثار کر نے والے دوست خدا سے واقف ہو جا ئیں گے تو ردوبدل کا یہ لا متنا ہی
سلسلہ ایک نقطہ پر ٹھہر جا ئے گا ۔بچہ جب چھوٹا ہو تا ہے تو اپنے ماں باپ کو پیار
کر تا ہے ۔ اور پھر بہن بھا ئی کو اور جیسے جیسے بڑا ہو تا ہے وہ اپنے کنبے ، سماج
،فر قے ، ملک قوم اور نوع انسان سے پیا ر کر نا شروع کر دیتا ہے لیکن اس کے
با وجود مطمئن نہیں ہو تا ۔
اس
کے اندر محبت اور پیار کی تشنگی رہ جا تی ہے آج کا بچہ کل کا بوڑھا ہو نے تک پیا
ساہی رہتا ہے اور یہ تشنگی اس وقت تک نہیں بجھتی جب تک وہ نہیں جا ن لیتاکہ سچا بے
غرض اور عظیم و شان محبوب کون ہے ۔ سارے پیار کی پیاس اس وقت بجھ جا تی ہے جب ہم
اپنے دو ست خدا کو محبت کی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں۔ پھر یہ ہو تا ہے کہ ہماری محبت
رو شنی اور ہوا کی لہر بن جا تی ہے ۔ایسی لہر جو سارے جہاں میں پھیل کر محبت کی
خوشبو بکھیر دیتی ہے ۔
قلندر
شعور ا س سلسلے میں ہماری رہنما ئی کر تا ہے وہ یہ ہے کہ جس طر ح ہمارا دوست خدا
ہم سے اور کا ئنات میں موجود ساری مخلوق سے محبت کر تا ہے ۔ہم بھی اس کی مخلوق سے
محبت کر یں ۔جس طر ح ہمارا دوست خدا مخلوق کے کام آتا ہے ہم بھی اس کی مخلوق کی کام
آئیں ۔
*****
خواجہ شمس الدین عظیمی
ان روشن ضمیر دوستوں کے نام جنہوں نے میری آواز پر روحانی مشن کے لئے خود کو وقف کردیا۔