Topics

۲۷ جنوری ۱۸۶۱ اور ۲۷ جنوری ۱۹۷۹

 

"سوانح ٰ حیات بابا تاج الدین ناگ پوری " میں لکھا ہے کہ عام روایت کے مطابق حضور بابا تاج الدی اولیاء سرکار  کامٹی ناگپور میں ۵ رجب المرجب ۱۲۷۷ بمطابق ۲۷ جنوری ۱۸۶۱ کو پیر کے دن صبح  فجر کےوقت پیدا ہوئے، حسین اتفاق یہ ہے کہ ۱۱۸ سال بعد ۱۹۷۹ کو اسی دن یعنی ۲۷ جنوری کو حضور قلندر بابا اولیاءؒ  (نواسہ بابا تاج الدین ناگ پوری) فجر سے چند گھنٹے قبل صبح ایک بج کر دس منٹ پر خالق حقیقی کے حضور مستقل حضوری میں چلے گئے۔[1]



[1] بحوالہ : سوانح حیات بابا تاج الدین ناگپوری ، مرتبہ: سہیل عظیمی ص: ۲۰۔۲۱

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔