Topics

نام مبارک:

 

مکمل نام:            حسن اخری محمد عظیم برخیا المعروف حضور قلندر بابا اولیاءؒ

حسن اخری:          اللہ تعالی کے مقرب  بندوں کو جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام روحانی طور پر تعلیمات دے کر فارغ کرتے ہیں تو ایک نام عطا فرماتے ہیں اور بعد میں اسی نام سے یاد فرماتے ہیں۔ حضور قلندر بابا اولیاء کو آپ صلی اللہ وسلم نے" حسن اخری " کا لقب عطا فرمایا۔ دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں  ان ہی  الفاظ سے مخاطب خطاب کیے جاتے ہیں اس نام کی مناسبت قلندر بابا اولیاء کے   ننہالی جدی ی نام" حسن مہدی "سے بھی ہے۔

سید:                     نجیب الطرفین سادات ہونے پر سید کہلائے جاتے ہیں۔

 محمد عظیم                 پیدائش پر والدین یہ نام رکھا

 برخیا                    شعر و سخن کے شوق سے وابستہ کی خاطر "برخیا"  کا تخلص اختیار کیا ۔

قلندر بابا اولیاء             ملائکہ  ارض و سماوی اور حاملان عرش میں اسی نام سے جانے جاتے ہیں اور بعد از وصال یہی نام آپ کے چاہنے والوں کی زبان پر ہے۔

بھیا:                     ڈان کے دفتر میں سب آپ کو بھی  بھیا کہتے تھے۔

بھائی صاحب                           آپ کے چھوٹے بھائی آپ کو اس نام سے پکارتے تھے اس لیے دیگر افراد نے بھی آپ کو اسی نام سے پکارنا شروع کر دیا اور آپ بھائی صاحب کے نام سے بھی جانے گئے۔

حضور بھائی صاحب:        بھائی صاحب کے ساتھ حضور کا اضافہ ڈاکٹر عبدالقادر نے کیا جو کہ سلسلہ کے صاحب اختیار بزرگ ہیں۔

اگرچہ آپ بھائی صاحب نہیں کہلوائے جاتے لیکن حضور کا یہ اضافہ آج تک برقرار ہے۔

اماں:                    حکیم وقار یوسف عظیمی اور ان کے بھائی بہن بھائی وغیرہ بچپن میں اسی نام سے پکارتے تھے۔

 بابا صاحب               ڈاکٹر عبدالقادر خود آپ کو مخاطب کرتے وقت باواصاحب کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔