Topics
جو کچھ کہ گزر گیا
ہے اسے یاد نہ کر
دو چار نفس عمر ملی
ہے تجھ کو
دوچار نفس عمر کو
برباد نہ کر
تشریح!
دنیاوی زندگی ایک مختصر عرصہ قیام ہے، جس کے دوران انسان دو طرفہ جد وجہد
کرنی ہے، ایک طرف تو اسے دنیاوی معاش کے لیے
ہاتھ پیر ہلانے ہیں ، دوسری طرف عمل ہی کے ذریعے اللہ تعالی سے اپنے ربط کی
تجدید کرنی ہے، عملا اس بات کا یقین حاصل ہو
کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے، اس کے علاوہ ہر حال میں شکر گزار بندہ بننے کی عادت ڈالنی ہے، جب کہ دنیا وی عوامل ہر طرح سے اس کا ذہن اس طرف
سے ہٹانے میں لگے ہوئےہیں ، اس صورت حال میں اگر وہ چوک گیا اور ماضی کی حسرتوں کے
نوحے میں مصروف ہوگیا اور تمناؤں کی بھول بھلیوں میں کھو کر رہ گیا تو مارا جائے
گا اور اس کی چار نفس کی زندگی رائیگاں چلی جائے گی۔ [1]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔