Topics
آپ کا قد بہت مناسب، چہرہ پروقار، چوڑا ماتھا،
ابھرے ہوئے ابرو ،سر کے بال بہت مناسب داڑھی
گھنی اور چھوٹی، جبکہ سر اور داڑھی کے بال دس پندرہ روز میں روز ترشواتے۔
سر کے بال کبھی ایک انچ سے اور داڑھی کے بال صرف نصف انچ سے نہ بڑھائے تھے۔، سر پر
نہ کبھی استرا پھروایا، نہ کبھی زلفیں رکھیں۔ آنکھیںنہ بہت چھوٹی، نا بہت بڑی، گال گوشت سے بھرے ہوئے
اور چوڑی ناک، مضبوط کندھے اور بازو ہاتھ اور انگلیوں پر بہت ہی مناسبت سے گوشت
کا ابھار۔ آپ اکثر اوقات قمیص اتار کر
رکھتے تھے، جس سے اوپری جسم عیاں ہوتا تھا۔چہرہ ،گردن ،کندھے، سینہ ،کمر، غرض کسی بھی حصہ میں کوئی ہڈی نمایاں نہ ہوتی،
تمام جسم پر گوشت بہت مناسب تھا جس سے آپ کی جسمانی وضع بہت ہی مناسب اور خوبصورت
تھی۔ چہرہ دیکھنے سے ایک بہت ہی با وقار اور
سلجھے ہوئے اور صاحب علم ہونے کا عکس دیتا تھا۔ طبیعت میں متانت اور
سنجیدگی ایک خاص وقار سے نمایاں تھی، دانت بہت ہی چمک دار تھے، جیسے موتی۔
قادر العظیمی بتاتے ہیں، کہ ایک روز میں داڑھی
کے متعلق دریافت کیا کہ از روئے قرآن و حدیث اس کی حد کتنی ہے، اور سیدنا حضور
علیہ الصلوۃ والسلام کی ریش مبارک کیسی تھی، اور صحابہ کرام بالخصوص خلفائے راشدین
جن سے بڑھ کروئی منبع شریعت نہیں ہوسکتا ان کی داڑھیاں کتنی لمبی تھیںَ؟ ارشاد
فرمایا "قرآن میں داڑھی کی لمبائی چوڑائی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔
داڑھی سے متعلق حدیث صرف ایک ہے باقی سب موضوع ہیں اس کے بعد فرمایا" ہماری دربار رسالت میں ہفتہ میں دو
بار تو ضرور حاضری ہوتی ہے وہاں خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی
موجود ہوتے ہیں ۔ہم جو وہاں دیکھتے ہیں تو وہ یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ
والسلام کی ریش انور کے موئے مبارک گھونگھر والے پیچیدہ ،لچھے دار اور جسم اطہر
پر ایک انگل کے قریب لمبے نظر آتے ہیں
اور بڑے خوبصورت لگتے ہیں۔ حضرت ابوبکر کی داڑھی خشخشی ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اور
حضرت عثمان کی داڑھیاں اس سے بڑی ہیں اور حضرت علی کی داڑھی چڑھی ہوئی ہوئی نظر آتی ہے۔"
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔