Topics
کہتی ہے یہ مٹی بھی بہت
سی باتیں
باتوں میں گزر گئی ہیں اکثر راتیں
مٹی کے یہ ذرات بھی انسان تھے
تھیں کبھی ان کی شیخ و برہمن کی ذاتیں
دس عادتیں انسان کی زندگی
میں شامل ہیں، سونا اور بیدار ہونا، کوئی آدمی نہ ہمیشہ بیدار رہ سکتا ہے، اور نہ کوئی
ہمیشہ سوتا رہتا ہے، زندگی کا ایک سفرـیہ ہے کہ آدمی بیداری میں چلتا پھرتا ہے، دیکھتا سنتا ہے، کھاتا
ہے پیتا ہے، جزبات کی تسکین کرکے ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے، یا جذبات کی گھٹن سے رنجیدہ
خاطر ہوجاتا ہے، زندگی بوجھ بن جاتی ہے، جب
کیف وسرور میں ہوتا ہے تو میلوں بھاگا چلا جاتا ہے، اور جب من میں خوشی نہیں ہوتی ہے
تو ایک ایک قدم من من بھر لگتا ہے، یہ دونوں صورتیں سونے کی حالت میں بھی ہوتی ہین
اورـبیداری کی حالت میں بھی ہوتی ہے، سونے
کی ھالت مین اگر کوئی ڈراؤنا خواب دیکھتا ہے تو ڈر جاتا ہے، اور اگر وہ خواب میں گل
و بلبل کی دنیا میں چلا جاتا ہے تو لطیف ہو کر ہوا میں اڑنے لگتا ہے، انسان جب بیداری
میں کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو بہت کچھ جان لیتا ہے، متوجہ نہین ہوتا ہے تو ساری
زندگی بربادـہوجاتی ہے.
اسی طرح انسان جب
خواب میں متوجہ رہتا ہے تو خواب کی دنیا کو جان جاتا ہے، متوجہ نہیں
ہوتا تو خواب کی دنیا بے خبری میں گزرجاتی ہے، جب کوئی انسان شب بیداری کرکے یا
بالفاظ دیگر نیند کے غلبے کو توڑ کر نیند کی کیفیات کو سمجھ لیتا ہے تو اس پر یہ راز کھلتا ہے کہ میں نے
اپنی ساری زندگی لا یعنی باتوں میں ضائع کردی ہے، اور جب غور فکر کرتا رہتا ہے تو
رات کے حواس بھی اس سے باتیں کرتے ہیں۔ نوع انسانی در اصل اجتماعی شعور سے مرکب
ہے، جب ہمارے اندر سےاجتماعی شعور نکل گیا تو ہم انفرادی شعور میں قید ہوگئے اور
ہم شیخ و برہمن بن گئے ہم نے جب سے حقائق پر غور کرنا چھوڑ دیا ہےتو وہ انفرادی
ہوگیا۔
یہ ساری ذات برادریاں
انفرادی شعور کے تحت خود ، خود غرضی کے دائرے میں گردش کررہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ
جب سڑی ہوئی مٹی کے پتلے میں ایک برہمن بھی پاخانہ پیشاب کرنے پر بھی مجبور ہے،
اور شیخ صاحب بھی بول و براز کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہیں، فقیر بھی خوش نما
پردے میں چھپی ہوئی سڑی ہوئی چیزیں کھاتا ہےاور بادشاہ بھی اپنے پیٹ میں سرانڈ لیے
پھرتا ہے۔ مٹی کا بنایا ہوا انسان جب مٹی سے باتیںکرنے کے لائق ہوجاتا ہے تو اسپر
یہ عقدہ کشائی ہوتی ہے کہ یہ ذات اور برادریاں انسان کی اپنی بنائی ہوئی ہیں۔ اللہ
کے نزدیک معزز وہ ہے جو اللہ سے واقف ہے، اور جب کوئی بندہ اللہ سے واقف ہوجاتا ہے
تو اشیائے کائنات کے رموز اس کے اوپر آشکار ا ہوجاتے ہیں۔[1]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔