Topics

جب تک کہ ہے چاندنی میں ٹھنڈک کی لکیر

 

جب تک کہ لکیر میں ہے خم کی تصویر

جب تک کہ شب مہ کا ورق ہے روشن

ساقی نے کیا ہے مجھے ساغر میں اسیر

مزید تشریح!       چاند کی چاندنی، دنیا کی جگ مگ کرتی رونق ہے، ازل میں پر رونق اور گہما گہمی کا جو پروگرام بن گیا ہے دنیا اس پروگرام کے مطابق چل رہی ہے اس رونق میں کشش اور خمار بھی ہے۔ کشش اور خمار اپنی پوری چمک دمک اور تابانی کے ساتھ موجود ہے، اور آدم زاد چمک دمک کے اس عارضی خول میں قید ہے۔ آدمی جس کو زندگی کہتا ہے یہ دراصل اس کے اپنے مفروضہ حواس   کی ایک جیل ہے۔ اس جیل سے نکلنے اور آزاد ہونے کا ایک ہی راستہ ہے کہ آدم زاد یہ سمجھ لے کہ یہ دنیا ایک بڑا قید خانہ ہے جیسے ہی یہ راز کھل جاتا ہے کہ دنیا قید خانہ ہے وہ سزا کی صعوبتوں سے محفوظ ہوجاتا ہے اور وہ چکا چوند سے ماورا حقیقی دنیا کا عرفان حاصل کرلیتا ہے۔[1]



[1]روحانی ڈائجسٹ: نومبر ۸۴

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔