Topics

ساقی ترے قدموں میں گزرنی ہے عمر

 

پینے کے سوا کیا مجھے کرنی ہے عمر

پانی کی طرح آج پلادے بادہ

پانی کی طرح کل تو بکھرنی ہے عمر

 

مزید تشریح!                  اے میرے محبوب ! شراب معرفت سے سرشار کرنے والے میرے ساقی! میری زندگی تیرے اوپر نثار ہے۔ خود کو تیری دید کے علاوہ کسی اور مصرف میں لانا ہی نہیں چاہتا ۔ اے میرے محبوب، اپنے عرفان کی شراب میرے اوپر اتنی عام کردے، کہ میں جتنی چاہوں پی لوں۔ جتنی مجھے طلب ہے تو مجھے اس سے بھی زیادہ عطا کردے، اے میرے محبوب ساقی جب میری سانسیں پوری ہوجائیں گی تو میرے جسم کا پیالہ بھی پانی کا ایک قطرہ بن کر فضا میں تحلیل ہوجائے گا۔[1]



[1] روحانی ڈائجسٹ: اکتوبر ۸۴

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔