Topics

آپ کا خاندانی سلسلہ

                     

 اس طرح سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

 

امام حسن عسکری( گیارہویں امام)

­­

فیصل مہدی عبداللہ عرب

دادھیال اور نانھیال دونوں جانب سے حضور قلندر بابا اولیاء کے جدامجد

حضرت حسین مہدی رکن الدین                                           حضرت حسن مہدی جلال الدین

حضور قلندر بابا کے دادھیال                                                                    قلندربابا کے نھنیال

 


حسین مہدی جمال الدین                                                 سعد الدین مہدی

                                                                                                سید قادر صاحب

                                                            سید علی                              سیدانی بی اماں           

                                                            سید حیدر صاحب

                                                            جمال الدین             سیدحسن مہدی صدرالدین            

                                                            سید مہدی بدرالدین                             

حسین مہدی بدرالدین شیردل                     بابا تاج الدین ناگپوری     حسن مہدی ظہورالدین   حسن مہدی سراج الدین

والد گرامی حضور قلندر بابا                          محترمہ سعیدہ والدہ، حضور قلندر بابا اولیاءؒ

 

امام سلسلہ عالیہ عظیمیہ حسن اخری محمد عظیم برخیا المعروف حضور قلندر بابا اولیاءؒ

 

آپ کا تکوینی عہدہ  اور مقام

حسن اخری سید محمد عظیم برخیا المعروف حضور قلندر بابا اولیاء علمی و روحانی دنیا میں کس مقام پر فائز ہیں وہاں تک ہماری رسائی نہیں شاید آئندہ نسلیں جب ان کا شعور ترقی کرجائے تو قلندربابا کے مقام و مرتبے سے آشنا ہو جائیں۔تاہم حضور قلندر بابا اولیاء  کے مقام   اور مرتبے کو جاننے کے لیے نظام تکوین کو سمجھنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے۔

جس طرح دنیا میں کسی حکومتی نظام کو چلانے کے لیے مختلف شعبے اور MINISTRIES  قائم  کی جاتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالی نے بھی اپنا انتظام چلانے کے لیے باقاعدہ ایک سیکریٹریٹ ٹائم کیا ہواہے اسے نظام تکوین کہتے ہیں۔ اس نظام میں مختلف عہدے ہوتے ہیں جیسے  جیسے نجباء ، نقیا، ابرار، اخیار، اوتاد،  مخدوم ، شاہ  ولایت ،صاحب خدمت،  اہل نظامت ، اہل تفصیل ، غوث، مدار تفہیم، قطب،قطب عالم،قطب تفہیم، قطب تعلیم،قطب مدار، قطب الاقطاب،قطب کوچک ابدال، ابدال حق، ممثلین، صدور الصدور وغیرہ۔۔۔

اولیاء اللہ کا نہایت برگزیدہ گروہ" اقطاب "کہلاتا ہے۔ یہ گروہ تکوین عالم کی ذمہ داریوں کو سرانجام دیتا ہے قطب عالم ایک ہوتا ہے، عالم غیب میں اس کا نام عبد اللہ ہوتا ہے۔  ہر بستی اور ہر شہر میں ایک قطب ہوتا ہے۔ قطب کے معاون اولیا ء اللہ کا گرور" ابرار" کہلاتا ہے۔  تکوین عالم کے کاموں میں مصروف اولیاء اللہ  کی تعداد 7 بتائی جاتی ہے۔ نظام تکوین  میں جو حضرات اللہ تعالی کی طرف سے ملنے والے حکم  ااور پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے والے لوگ "اہل نظام " کہلاتے ہیں۔ اہل نظامت کی مرتب کردہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے والے لوگ ہیں" اہل تفصیل" کہلاتے ہیں نظام تکوین میں یہ حضرات اہم کردار ادا کرتے ہی۔

اسی طرح نظام عالم پر مقرر اولیاء اللہ کا طبقہ"  ابدال " کہلاتا ہے۔ ان کی تعداد ۷۰ ہوتی ہے۔ ان کا کام نظام عالم کی نگرانی ہے۔ ان کی تقسیم کچھ اس کس طرح ہوتی ہے۔ بیس کوچک ابدال ہوتے ہیں،جن میں چھے حضرت خضر اور ۱۴ حضرت الیاس کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ چار بڑے ابدال جنھیں ممثلین  کلیات یا  صدر کہا جاتا ہے۔ انھیں میں سے ایک  صدر الصدور کے عہدۂ جلیلہ پر فائز ہوتا ہے۔ باقی تین صدر ابدال  بھی اس کی زیرنگرانی  میں ہوتے ہیں۔ صدرالصدور  تکوینی نظام کا کنٹرولر ہوتا ہے اس وقت ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء صداالصدور کے مقام پر فائز ہیں۔قلندر بابا اولیاء اللہ تعالی کے  نظام  تکوین کے تحت کائنات کے ایک حضیرے کے نگراں ہیں جس میں  12 کھرب آباد وغیرہ آباد نظام قائم ہیں، جب کہ ہر نظام میں ایک سورج کم از کم   آٹھ نو  یا  دس سیارے ہوتے ہیں۔ ان نظاموں میں ایک ہمارا نظام شمسی ہے۔ حضور قلندر بابا اولیاء ہر سال پندرہ شعبان کو اپنے حضیرے کا بجٹ بنا کر اللہ تعالی کو پیش کرتے اور آئندہ سال کے لیے ہدایات لیتے ہیں۔تکوین کا کام کرتے وقت چالیس سوالوں کو سننا، سمجھنا اور فوراً جواب دینا ۲۵ سے ۳۵ فرشتوں  کی بیک وقت آواز سننا اور آرڈر دینا جب کہ کائنات کا  فائل ورک کرتے وقت ایک گھنٹے میں ایک  کروڑ فائل کو دیکھنا اور پڑھ کر دستخط کرنا آپ کا معمول تھا۔

مقام ولایت

 حضور قلندر بابا اولیاء تمام اولیاء  کی تاریخ میں واحد بزرگ جو ۲۱ روحانی سلاسل کے مربی و مشفی  ہیں اور گیارہ روحانی سلاسل کے خانوادہ ہیں، اسی طرح تمام اولیاء میں حضور قلندر بابا اولیاء کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ انہوں نے روحانی اور آسمانی علوم کو محفوظ کرنے کے لئے باقاعدہ دستاویز (کتاب لوح و قلم نقشہ جات ) کی صورت میں  نوع انسانی کے لیے مرتب کیا۔


آپ درج ذیل روحانی سلاسل کے خانوادہیں۔

سلسلہ نوریہ             سلسلہ قلندریہ                       سلسلہ فردوسیہ                       سلسلہ چشتیہ

سلسلہ قادریہ            سلسلہ نقشبندیہ                       سلسلہ سہر وردیہ                     سلسلہ ملامتیہ

سلسلہ تاجیہ              سلسلہ جنیدیہ                                    سلسلہ سیفوریہ

آپ کی باقاعدہ روحانی تعلیم و تربیت بابا تاج الدین نے کی۔ اور پھر بیعت کے بعد حضرت ابوالفیض قلندر سہروردی نے قطب ارشاد کی تعلیمات تین ہفتوں میں پوری کرکے خلافت عطا کی۔ اس کے علاوہ آپ کو ان اصحاب سے نسبت فیضان حاصل ہے:

مولانا کابلی                                                           براہ راست تعلیم دی

تاج الاولیاء بابا تاج الدین ناگپوری سرکار               خانوادہ             براہ راست تعلیم دی

حضرت ابوالفضل قلندر علی سہروردی                خانوادہ             براہ راست تعلیم دی

حضرحسن عظمی سراج الدین بندگی شاہ                خانوادہ             براہ راست تعلیم دی

حضرت حسن کبری مہدی ظہورالدین عبد المقتدر      خانوادہ             براہ راست تعلیم دی

حضرت محمد صغری تاج الدین (چراغ الدین)           خانوادہ             براہ راست تعلیم دی

حضرت شیخ بہاء الحق الدین زکریا ملتانی                 خانوادہ             بطریق اویسیہ تعلیم دی

شیخ الشیوخ حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی                    خانوادہ             بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت شرف الدین بو علی شاہ قلندر                  خانوادہ             بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت نجم الدین کبری شیخ کبیر                      امام سلسلہ           بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت ممشاد دینوری                               امام سلسلہ           بطریق اویسیہ تعلیم دی         

حضرت ذوالنون مصری                             امام سلسلہ            بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت شیخ  غوث اعظم عبد القادر جیلانی               امام سلسلہ            بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت شیخ بہاء الحق نقشبندی خواجہ باللہ               امام سلسلہ           بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت ابوالقاہر                                    امام سلسلہ            بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضر ت بایزید بسطامی                               امام سلسلہ            بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت امام موسی کاظم رضا                         امام سلسلہ           بطریق اویسیہ تعلیم دی

حضرت عبد القاسم جنیدی بغدادی                    امام سلسلہ            بطریق اویسیہ تعلیم دی

باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ                                         بطریق اویسیہ تعلیم دی

سید  لانبیاء سرورکونین حضرت محمد                                  براہ راست تعلیم دی  

جب تعلیم کا یہ سلسلہ حضور بنی کریم ﷺ تک پہنچا تو آپ نےبراہ راست علم لدنی عطا فرمایا، اورسیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہمت و نسبت کے ساتھ بارگاہ رب العزت میں پیشی ہوئی اور خالق کائنات سے اسرار رموز کا علم ہوا۔

اوصاف حمیدہ

لباس عمدہ مگر سادہ استعمال کرتے تھے، قمیض کا کالر نہیں ہوتا تھا، پاجامہ چوڑے پائچے کا ، موری تقریبا ۶ انگل لوٹی ہوئی ، گرمیوں  میں صرف قمیض پاجامہ زیب تن کرتے۔ لیکن سردیوں میں کہیں جب باہر تشریف لے جاتے تو شیروانی اور ٹوپی ضرور پہنتے۔ جناح کیپ استعمال کرتے تھے۔ لباس عموما سفید رنگ کا زیب تن کرتے تھے۔ جوتے ہمیشہ براؤن پہنتے،  سیاہ رنگ جوتے استعمال نہیں کرتےتھے۔  فرماتے تھے جو آفاقی شعاعیںCosmic Rays دماغ پر وارد ہوتی ہیں، جسم میں دور کرتے ہوئے پیروں کے راستے میں جذب ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر سیاہ رنگ کے جوتے پہنے جائیں تو سیاہ رنگ ان کو جذب کرکے زمین تک نہیں جانے دیتا ہے جس سے جسم اور ذہن کو نقصان ہوتا ہے۔آپ بہت ہی مہمان نواز طبیعت کے مالک تھے۔کوئی خاص کھانا پسند نہ تھا نہ ہی کوئی تکلف کرتے تھے ۔جو سامنے آیا وہی کھا لیتے البتہ اچھے کھانے کا شوق بھی فرماتے تھے۔ لیکن عموما خوراک سادہ ہی ہوتی۔

 بابا صاحب نے استعمال کی ہر چیز کی ایک جگہ مقرر کر رکھی تھی۔ شیروانی ، دھل کر آئے ہوئے کپڑے بستر پر تکیہ پائیتی پر چادر ،تکیے کے بائیں جانب ٹوپی غرض ہر چیز اپنی جگہ پر موجود ہوتی تھی۔ کوئی نا کوئی  کتاب آپ کے مطالعے میں ضرور رہتی جو عموما تکیے کے نیچے بائیں جانب موجود رہتی اور ساتھ میں قلم بھی ہوتا۔ کتابوں کی الماری میں کتابیں ایسی ترتیب سے ہوتیں کہ کہتے فلاں خانے میں دائیں طرف تیسری کتاب یا بائیں جانب پانچویں کتاب  فلاں مضمون پر ہے نکالو۔ حتیٰ کہ جوتے اتارتے وقت اس التزام سے رکھتے کہ جوتے ایک سوت آگے پیچھے نہ ہوتے۔ مزاح بھی فرماتے اور دوسروں کی شگفتہ باتوں کو بھی  پسند فرماتے ۔تبسم فرماتے ،یا ہنستے، لیکن کبھی قہقہ  نہیں لگاتے ۔مزاح  ہمیشہ ایسا فرماتے جس سے محفل میں تہذیب و اخلاق بھی رہے اور شگفتگی بھی ہو جائے۔

 بچوں سے خاص الخاص شفقت فرماتے،  ان کی ہر بات سنتے تمام عمر کسی بھی بچے سے سختی نہ کی ، دوسروں کو بھی شفقت کی تلقین کرتے ۔بچوں کی دل آزاری سے گریز فرماتے اور بچوں کی خوشی کو ہمیشہ مقدم رکھتے۔ دوسروں سے اچھے برتاؤ اور حسن سلوک پر خاص زور دیتے ، اور خود تو خاص الخاص  ااس  پر عمل پیرا رہتے۔ آپ کی تمام باتوں میں محبت کا پہلو نمایاں رہتا تھا۔ قلندر بابا نے کبھی زندگی میں صابن سے ہاتھ نہ  دھوئے، گرم پانی سے ہاتھ دھو کر تولیے سے صاف کر لیا کرتے تھے۔ ہاتھ دھونے میں کافی وقت صرف ہو جاتا تھا۔ جب تک ہاتھ میں لگی ہوئی چکنائی دور نہیں ہو جاتی تھی ہاتھ دھوتے رہتے تھے ۔  جھوٹ سے سخت نفرت کرتے سب کو نصیحت کرتے کہ نہ بڑے جھوٹ بولیں اور نہ بچہ جھوٹ بولے۔ نہ تو فضول خرچ تھے اور نہ ہی نمود و نمائش کے قائل۔ہمیشہ سادگی پسند کرتے تھے۔ اپنے تمام فرائض کی ادائیگی میں بہت پابند تھے۔ اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید کرتے ۔چیخ کر بلانے کو  سخت نا پسند کرتے ۔جو ذرا اونچی آواز میں بولتا اسے تاکید فرماتے کہ " ارے بھائی آہستہ بولو ،بلاوجہ کیا بلڈ پریشر ہائی کرنا"  اگر جواب میں کہا جاتا ہے،" بھائی صاحب عادت بن گئی ہے" تو آپ فرماتے " کیا عادت بن گئی ہے ۔۔۔بنا لی ہے! صحیح کر لو کیا فائدہ اتنی زور سے کیوں بولتے ہو۔"

اس سلسلے میں ہمیشہ نصیحت کرتے" آواز کمرے سے باہر نہیں جانی چاہیے اور نہ دوسرے کمرے میں آواز سے کوئی پریشانی ہو۔

  وقت کی بہت زیادہ پابندی کرتے کہیں جانا ہوتا تو مخصوص وقت پر تیار ہوتے، اور پورے وقت پر پہنچ جاتے۔ پورے وقت پر تمام کام کرتے ۔بہت مہمان نواز تھے۔ ہر آنے والے کچھ نہ کچھ پیش کرتے ۔تمام زندگی کبھی کوئی مہمان خالی واپس نہ گیا۔

 بہت کم گو تھے۔ فضول گفتگو سے پرہیز کرتے ۔مقابل کے ذہنی سطح پر اس کی ضرورت اور سمجھ بوجھ کے مطابق گفتگو فرماتے ۔کوئی بات بتاتے وقت اکثر و بیشتر عمومی افہام و تفہیم  کے لئے اپنے ساتھ یا اپنے سامنے ہونے والے واقعات کو بنیاد بنا کر کسی خیال یا نقطہ کو پیش کیا کرتے تھے۔  اس سے حقیقت بیانی اور صداقت نظریہ اور خیال کے متعلق کوئی ابہام یا عدم صداقت کا شائبہ نہیں ہوتا تھا۔ آپ کے دوست سید نثار علی بخاری بتاتے ہیں کہ آپ اپنے والد صاحب کا بے حد احترام کرتے۔ ان کے سامنے ہمیشہ نیچی آواز میں بولتے اور نظریں نیچی رکھتے۔

ارشادات عالیہ

یوں تو آپ کے ارشادات مبارک اتنے ہیں کہ ان پر کئی جامع کتابیں بھی تحریر کی جائیں تو بھی ان میں کمی واقع نہ ہو یہاں پر چند ارشادات مبارکہ پیش خدمت ہیں جو نوع انسانی کے لیے ایک پیغام ہیں،

Ø      اصل رشتہ روحانی رشتہ ہے ۔

Ø      سکون ایک کیفیت کا نام ہے جو یقینی ہے اور جس کے اوپر کبھی موت وارد نہیں ہوتی۔

Ø      آدمی آدمی کی دوا ہے۔

Ø      استغناء  بغیر یقین کے پیدا نہیں ہو سکتا اور یقین کی تکمیل بغیر مشاہدے کے نہیں ہوتی۔

Ø      کسی کو اپنا بنانے کے لیے اپنا بہت کچھ کھونا پڑتا ہے۔

Ø      قرآنی پروگرام کے دونوں اجزاء نماز اور زکوۃ روح اور جسم کا وظیفہ ہیں۔ وظیفے سے مراد حرکت ہے جو زندگی کو قائم رکھنے کے لیے انسان پر لازم ہے۔

Ø      آیات الہی سے مراد ایسی نشانیاں ہیں جن کی طرف  اللہ تعالیٰ نے بار بارقرآن  میں   توجہ دلائی ہے۔

Ø      اپنے نفس کا عرفان  انسان  پر معرفت الہیہ کا دروازہ کھول دیتا ہے۔

Ø      ایمان سے مراد ذوق ہے ، ذوق و عادت ہے جو تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔

Ø      ایک مرتبہ مرید اور مرشد کے آپس کے تعلق کے حوالے سے بتایا کہ:

"مرید اور مرشد کا رشتہ استاد شاگرد ،اولاد اور باپ کا ہے۔ مرید مرشد کا محبوب ہوتا ہے۔ مرشد مرید کی افتاد طبع کے مطابق تربیت دیتا ہے۔ اس کی چھوٹی بڑی غلطیوں پر پردہ ڈالتا ہے۔  نشیب و فراز اور سفر کی صعوبتوں سے گزر کر اس مقام پر پہنچا دیتا ہے۔ جہاں پر سکون زندگی اس کا  اس کا احاطہ کر لیتی ہے۔”

 آپ کا یہ ارشاد مبارک ہم سب کے لئے مشعل راہ ہے:  " میری روحانی اولاد مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہے تو اس کے اوپر فرض ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو اللہ کی مخلوق کی خدمت کرے۔تصور شیخ اور مراقبہ کے ذریعے اپنی روح کا عرفان حاصل کیا جائے۔ دنیاوی معاملات میں پوری کوشش کی جائے لیکن نتیجہ اللہ کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔ کوشش کی جائے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو ،نہ اپنی نہ دوسروں کی۔ بڑوں کا احترام اور بچوں پر شفقت سلسلہ عظیمیہ کے افراد پر لازم ہے۔، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ کسی کو برا نہ کہو ۔اس لیے کہ آدمی خوس سب سے برا ہے۔مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ  یہ بھی ضروری ہے کہ دل میں ایمان داخل ہو۔   "

 شاعری
حضور قلندر بابا اولیاء اس مادی دور کی تاریکیوں میں روشنی کا مینار اور مضطرب اور پریشان دلوں کے لئے سرچشمہ ٔسکون و قرار تھے۔ وہ  وقت بہت زیادہ دور نہیں جب آپ کی تعلیمات اور ہدایات کا ایک بیش بہا خزانہ منظرعام پر آ جائے گا۔ اور دنیا کے بڑے بڑے دانشور اور حکمت و فلسفہ کےحاملین یہ دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جائیں گے کہ انہوں نےچاند ستاروں پر کمند ڈالنے کی سعی ناتمام میں وقت اور دولت کا بے دریغ ضیاع کیا، مگر فطرت کے راز ہائے سربستہ کے ایسے مایہ افتخار  کے فیض سے محروم رہے۔ جو ابھی کچھ عرصہ پہلے تک انہیں کے درمیان جسد خاکی کے روپ میں جلوہ فگن تھا اور جس کے درحکمت و ہدایت سے متلاشیان حق کو وہ سب کچھ مل سکتا تھا جس کی انہیں تلاش تھی۔ آپ کی تعلیمات کا بڑا حصہ آپ کی شاعری " رباعیات" ہیں،قلندر بابا اولیاء اردو شاعری کی تاریخ میں اہم ترین اور واحد شخصیت ہیں جنہوں نے تصوف کو بیان کرنے کے لئے اردو کی مشکل ترین صنف رباعی کا استعمال کیا اور یہ کام اس خوبی سے کیا کہ وہ اردو شاعری کا شاہکار بن گیا۔

          فنی محاسن کے اعتبار سے رباعیات قلندربابا اولیاء ہر اس معیار پر پوری اترتی ہے جو کہ اردو شاعری کو امتیاز بخشتا ہے۔ رباعیات کے موضوعات اس کی زبان، مصرعوں کی ترتیب، اس کی بحر، الغرض ہر معیار پر یہ رباعیات منفرد اور معیاری ہیں، اور بلا شبہ اپنے فنی محاسن کے سبب اردو ادب میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے قابل ہیں، اس طرز  کی صوفیانہ شاعری میں یہ خوبی حضور قلندر بابا اولیاء کو ایک منفرد مقام عطا کر دی ہے، حرف آخر کے طور پر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حضور قلندر بابا اولیاء کی ذات گرامی سے رباعیات  اور شعر و شاعری کی صورت  میں شراب  عرفانی کا ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا جس سے رہروان سلوک نشہ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔ اور سخن کو سمجھنے والے اپنی علمی و ادبی تشنگی دور کرتے رہیں گے۔  آنے والا وقت یقینا اثبات شاہد ہوگا کہ یہ رباعیات  جہاں اپنی اور معنوی اعتبار سے کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں وہاں یہ سرچشمہ ہدایت اور کائنات کے رازوں کی امین بھی ہیں۔

 حضور قلندر بابا اولیاء کی  خواہش تھی کی کتاب باتصویر چھپے،آپ نے اس کے لیے ملک کے نامور آذرروبی سے تمام رباعیات کی تصاویرتیار کروائیں  جو کہ محسن صاحب سے گم ہو گئیں۔ بعد میں آپ نے اس سلسلہ میں دلچسپی ہی نہ لی، اس طرح آپ کی حیات مبارکہ میں یہ کام پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا اور آپ کی شاعری کی کتاب رباعیات آپ کے وصال کے  بعد  چھپی۔  میں نے سلسلہ عالیہ عظیمیہ کے ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے ان رباعیات پر کام کا آغاز کیا تو میں نے یہ جانا کہ حضور قلندر بابا اولیاء نے رباعیات کہہ قرآن کو شعری صورت میں بیان کر دیا اور یہ  اور یہ رباعیات سوائے اللہ کی آواز کے کچھ بھی نہیں۔

  حضور قلندر بابا اولیاء رباعیات کو با تصویر پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ قاری اس کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہو سکے۔ رباعیات کا یہ نیازاویہ شاید اس سلسلے کی ایک کڑی ہے کہ ہم رباعیات  میں پوشیدہ اللہ کے پیغام کو کو الہامی کتاب قرآن مجید کی رو سے سمجھ سکیں۔ میرے لیے یہ امر افتخار حیات ہے،  کہ زیر نظر   کاوش کو آپ تک پہنچانے کی سعادت مجھے حاصل ہوئی ہے۔

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔